سیاسی تنازعات پارلیمنٹ میں حل کریں: اسلام آباد ہائیکورٹ

  • جمعرات 06 / اکتوبر / 2022

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے پی ٹی آئی ارکان کے استعفوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ جن اراکین کے استعفے منظور نہیں ہوئے وہ تو پارلیمنٹ میں جا کر بیٹھیں، سیاسی تنازعات کو پارلیمنٹ میں حل کیا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے گزشتہ روز قومی اسمبلی سے اپنے اراکین کے استعفوں کی منظوری کے سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے استدعا کی تھی کہ عدالت اسپیکر قومی اسمبلی کو ہدایت دے کہ وہ استعفوں کی منظوری سے متعلق اپنی آئینی ذمہ داری پوری کریں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر اس پٹیشن کے درخواست گزاروں میں ڈاکٹر شیریں مزاری، شاندانہ گلزار، علی محمد خان، فرخ حبیب، فضل محمد خان، شوکت علی، فخر زمان خان، اعجاز شاہ، جمیل احمد، محمد اکرم شامل ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کے استعفوں کی منظوری سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی۔

پی ٹی آئی اراکین کی جانب سے بیرسٹر علی ظفر عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ دوران سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو پارلیمنٹ کا احترام ہے۔ اس سے قبل بھی ایک پٹیشن دائر کی گئی تھی، کیا یہ سیاسی جماعت کی پالیسی ہے؟ ابھی تک باقیوں کے استعفی ہی منظور نہیں ہوئے، عوام نے اعتماد کر کے نمائندوں کو پارلیمنٹ بھجوایا ہے۔

یہ عدالت اسپیکر قومی اسمبلی کو ہدایات جاری نہیں کر سکتی۔ عدالت نے شکور شاد کیس میں بھی صرف نظرثانی کا کہا ہے۔ یہ سیاسی تنازعات ہیں، سیاسی جھگڑے دور کرنے کی جگہ پارلیمنٹ ہے۔ آپ کو ان مسائل کے حل کے لیے سیاسی جماعتوں سے ڈائیلاگ کرنا چاہئے، کیا یہ مستعفی ارکان واقعی پارلیمنٹ میں جا کر عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں؟

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ ہم نے دیکھنا ہے کہ پٹیشنرز کلین ہینڈز کے ساتھ آئے عدالت آئے یا نہیں؟ جس پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پٹیشنرز اپنی پارٹی کی پالیسی کے خلاف عدالت نہیں آئے۔ اسپیکر نے اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ اس شرط پر استعفے دیے گئے تھے کہ 123 ارکان مستعفی ہوں گے۔ اسپیکر نے تمام استعفی منظور نہیں کیے اور صرف 11 استعفے منظور کیے۔ ہم کہتے ہیں کہ دیے گئے استعفی مشروط تھے، اگر تمام ارکان کے استعفے منظور نہیں ہوئے تو شرط بھی پوری نہیں ہوئی۔ پارلیمنٹ واپس جانا سیکنڈری ایشو ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پھر وہ ممبر پارلیمنٹ ہوتے ہوئے اسمبلی کارروائی کا ورچوئلی بائیکاٹ کر رہے ہیں۔ آپ اس کے متعلق سوچ لیں اور بیان حلفی جمع کرائیں۔ کیا عدالت آنے والے دس ارکان اسمبلی پی ٹی آئی پالیسی کے حق میں ہیں یا مخالف؟ ارکان خود مانتے ہیں کہ استعفے جینوئن تھے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ کا احترام ہے، سیاسی معاملات کو وہاں حل کریں۔ جن ارکان کے استعفے منظور نہیں ہوئے وہ تو پارلیمنٹ میں جا کر بیٹھیں۔ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اس مرحلے پر ایسا ممکن نہیں کیونکہ آڈیو لیک آئی ہے اور گیارہ ارکان کو نکال دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بہت بے توقیری ہو گئی ہے، جمہوریت کا مذاق نہ بنائیں۔ عدالتیں سیاسی تنازعات حل کرنے کے لیے نہیں ہیں۔ سیاسی تنازعات حل کرنے کے لیے بہترین فورم پارلیمنٹ ہے۔

جمہوریت اور پارلیمنٹ کو مذاق نہ بنائیں، پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کی ذمہ داری ہے کہ جن لوگوں نے منتخب کیا ان کی نمائندگی کریں۔ پہلے اسمبلی جائیں اور پھر یہ درخواست لے آئیں عدالت درخواست منظور کر لے گی۔ وکیل علی ظفر نے کہا کہ ہم اسمبلی واپس نہیں جا سکتے انہوں نے ہمیں نکال دیا ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ عدالت سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال نہیں ہو گی، جائیں اور اپنی سیاسی لڑائی اس عدالت سے باہر لڑیں۔

علی ظفر نے کہا کہ پارٹی نے ابھی فیصلہ کرنا ہے کہ پارلیمنٹ میں واپس جانا ہے یا نہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ اس طرح نہیں ہوتا کہ آپ پارلیمنٹ میں بھی نہ جائیں اور نشست بھی باقی رہے۔ کیا عدالت یہ درخواست منظور کر کے حلقوں کے عوام کو نمائندگی کے بغیر چھوڑ دے، پارلیمنٹ کے ساتھ 70 سال سے بہت ہو چکا، اب ختم ہونا چاہیے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سیاسی غیریقینی ملکی مفاد میں نہیں، یہ عدالت درخواست منظور کیوں کرے؟ جب تک پارلیمنٹ کے احترام کا اظہار نہیں کریں گے درخواست منظور نہیں ہو سکتی۔ پارلیمنٹ مانتے بھی نہیں اور کہہ رہے ہیں کہ پارلیمنٹ میں بھیج دیں۔ یہ عدالت آپ کو کل تک کا وقت دے دیتی ہے، کل پارلیمنٹ واپس چلے جائیں یہ عدالت آپ کی درخواست منظور کر لے گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایک ضمنی الیکشن پر کتنا خرچہ آتا ہے، سیاسی معاملات پارلیمنٹ میں حل کریں۔ سیاسی تنازعات اس عدالت کیلئے نہیں، یہ عدالت مداخلت نہیں کرے گی، یہ عدالت پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال نہیں ہونے دے گی۔ سیاسی جماعت پارلیمنٹ میں واپس جا کر سیاسی عدم استحکام کو ختم کرے، سیاسی عدم استحکام سے ملک کا نقصان ہو رہا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ عدالت اسپیکر قومی اسمبلی کے پی ٹی آئی کو دوبارہ پارلیمنٹ جانے کا موقع دینے پر سراہتی ہے۔ اسپیکر نے پی ٹی آئی کو سیاسی افراتفری ختم کرکے واپس پارلیمنٹ جانے کا موقع دیا، کوئی سیاسی جماعت پارلیمنٹ سے بالاتر نہیں۔ اس مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ پارلیمنٹ صرف ایک عمارت نہیں ہے، آج بھی کوئی سول سپرمیسی کی بات نہیں کر رہا ہے۔

علی ظفر نے سوال کیا کہ عدالت درخواست گزاروں سے پارلیمنٹ میں حلقے کی نمائندگی کی یقین دہانی چاہتی ہے؟ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ صرف یقین دہانی نہیں، اپنے عمل سے ثابت کریں کہ پارلیمنٹ سپریم ہے۔ شکور شاد کا کیس مختلف تھا، وہ اسمبلی کے اجلاس اٹینڈ کرتا رہا۔ پارٹی نے اس کے خلاف ایکشن لیا ان ممبران کے خلاف نہیں لے رہے۔ آپ کے بہت سے تضادات ہیں، اس عدالت نے شکور شاد کیس میں بھی اسپیکر کو ڈائریکشن نہیں دی۔ پھر دس بیان حلفی دے دیں کہ آپ اپنی پارٹی پالیسی کو نہیں مانتے۔ یہ بیان حلفی دیں تو عدالت آپ کی درخواست منظور کر لے گی۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم پارٹی کی پالیسی کو تو تسلیم کرتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ نے تو پارلیمنٹ کی تحلیل کو غیرآئینی قرار دیا تھا۔ یہ پارٹی تو سپریم کورٹ کے فیصلے کو ہی نہیں مان رہی۔ یہ پارٹی کہتی ہے کہ ہماری طرف سے یہ اسمبلی تحلیل ہو چکی، ہم اس کو نہیں مانتے۔ جو وہ براہ راست نہیں کر سکتے وہ اس عدالت کے ذریعے کرانا چاہتے ہیں۔