پاکستان کا بحران اور ممکنہ نتائج
- تحریر سلمان عابد
- جمعرات 06 / اکتوبر / 2022
بظاہر ہم پاکستان کے بحران کو ایک بڑے سیاسی او رمعاشی بحران کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ لیکن یہ بحران محض سیاسی اور معاشی نہیں بلکہ ریاستی بحران کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ کیونکہ جب سیاست، جمہوریت، معیشت اور ریاستی اداروں کے درمیان بداعتمادی یا ٹکراؤ کی سیاست نمایاں ہو تو بحران کی سنگینی او رزیادہ حساس ہوجاتی ہے۔
محسوس یہ ہوتا ہے کہ ہمارے فیصلہ ساز اور فیصلہ سازی کے تمام کردار معاملات کی حساسیت او رسنگینی کو محسوس کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس وقت تمام فریقین کے سامنے ملک یا ریاست یا شہریوں کے مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات یا پسند و ناپسند کا غلبہ ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ محسوس یہ ہوتا ہے کہ ہم مجموعی طور پر مسائل کے حل کرنے کی بجائے مسائل میں مزید بگاڑ پیدا کر رہے ہیں۔جب سیاست، جمہوریت اور فیصلہ سازی کا عمل عملا بند گلی میں داخل ہوجائے تو ا س کے نتیجہ میں مزید بدامنی او رانتشار پر مبنی سیاست ہی جنم لیتی ہے۔
قومی بحران کی ایک بڑی وجہ فریقین کی جانب سے اپنے اپنے سیاسی، قانونی او رآئینی دائرہ کار سے باہر نکل کر کھیلنے کی عادت ہے اور یہ ہمارے قومی مزاج کا حصہ بن گیا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ فریقین اول تو یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ ہم کریز سے باہر نکل کر یا سرخ بتی کو کراس کرکے کھیل بگاڑ رہے ہیں۔ دوئم ہم یہ بھی ماننے کے لیے تیار نہیں کہ اس قومی ریاستی بحران میں ہم بھی برابر کے یا کم یا زیادہ حصہ دار ہیں۔ دوسروں پر الزام عائد کرکے خود کو بچانے کی کوشش سے ہی مزید بگاڑ بھی پیدا ہوتا ہے او رمسئلہ کا حل بھی پس پشت چلا جاتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمارا مجموعی ریاستی او رحکومتی یا جمہوری نظام اصلاحات پر تیار نہیں۔جو اصلاحات کی جارہی ہیں اس میں خود کو فوقیت دے کر ریاستی مفاد کو قربان کیا جارہا ہے۔اسی طرح سیاسی ایڈونچرز یا سیاسی مہم جوئی کا کھیل بھی عروج پر ہے۔
منطق دی جاتی ہے کہ سیاست او رجمہوریت کا عمل اپنی موجودہ او رماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر مستقبل کی طرف پیش قدمی کو ممکن بناتا ہے۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے دوبارہ بڑی شدت کے ساتھ ان ہی غلطیوں کو دوہرا کر خود ہی بحران کے ذمہ دار ہیں ۔ آڈیو لیکس کے معاملات کو ہی دیکھ لیں سوائے سیاسی شرمندگی کے کچھ نہیں اور یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ ہم ریاستی محاذ پر بھی ایک غیر محفوظ ریاست کے طور پر خود کو پیش کررہے ہیں جہاں کچھ بھی محفوظ نہیں۔ سب سے بڑھ کر ہم ہر مسئلہ او ربحران پر ایک دوسرے کے خلاف سیاسی اسکورز کرکے برتری کی جنگ میں اپنی جیت کو ممکن بنانا چاہتے ہیں۔ او راس کھیل میں اگر ریاستی مفاد بھی قربان ہوتا ہے تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ ہماری طاقت ور اسٹیبلیشمنٹ بھی اپنی غلطیوں سے کچھ بھی سیکھنے کے لیے تیار نہیں۔ جو ہم نے بطور ریاست ”قومی سلامتی پالیسی“ قومی سطح پر تشکیل دی جس کا بنیادی نقطہ ”جیو معیشت اور جیو تعلقات میں رابطہ کاری“ ہے۔ اس میں اسی نقطہ پر زور دیا گیا تھا کہ ہم اپنے داخلی اور معاشی استحکام کو بنیاد بنا کر علاقائی سطح پر بہتر تعلقات بشمول بھارت اور علاقائی تعاون کے امکانات سمیت کسی بھی ملک کی جنگوں میں اتحادی بننے کی بجائے امن قائم کرنے کے اتحادی بنیں گے۔لیکن جب ہم داخلی سیاست کے مسائل میں ہی الجھ کر رہ گئے ہیں او رایک دوسرے کے ساتھ دست وگربیان کی کیفیت میں ہیں تو ایسے میں علاقائی او رعالمی سطح پر مثبت امکانات کی جنگ کیسے جیت سکتے ہیں۔ہم تو خود کو ایک بڑے سیاسی تماشہ کے طور پر داخلی او رخارجی دونوں محاذ پر پیش کررہے ہیں او رایسے میں عالمی یا علاقائی ممالک کی دنیا کیونکر ہمارے ساتھ کھڑی ہوگی۔
عالمی او رعلاقائی سازشوں کی مقابلہ ہم اسی صورت میں کرسکتے ہیں جب ہم خود کو داخلی سازشوں سے علیحدہ رکھیں اور مل جل کر داخلی سازشوں کا مقابلہ کریں وگرنہ داخلی اور خارجی سطح کی سازشوں سے مقابلہ کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ہم یہ سمجھنے کے لیے تیار نہیں کہ ہمیں ایک بڑی سرجری کے طو رپر اپنے مجموعی نظام میں اصلاحات کی بنیاد پر بڑی تبدیلی لانی ہے او ریہ ناگزیر ہوچکی ہے۔ کیونکہ ہم نے اپنے سیاسی فیصلوں کی بنیاد پر جو حا ل اداروں کی تباہی کی صورت میں کیا ہے وہاں خود مختار اداروں کی بحث بہت پیچھے چلی گئی ہے۔ اداروں کی خود مختاری او ربالادستی یا ان کو قانون کی حکمرانی کے تابع کرکے ہی ہم اپنے لیے آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرسکتے ہیں۔لیکن اس کے لیے ہمیں اپنی اپنی سیاسی اناپرستی اور ذاتی مفاد پرستی کی سیاست سے باہر نکلنا ہوگا۔
ایک طرف عالمی او ر علاقائی مسائل ہیں تو دوسری طرف ملک میں موجود حکمرانی کا بحران عام لوگوں کی زندگیوں میں مشکل پیدا کررہا ہے جو مجموعی طو رپر ریاستی، حکومتی، ادارہ جاتی نظام اور شہریوں کے درمیان بداعتمادی او رلاتعلقی کے منظر کو پیدا کررہا ہے۔عوامی مفادات کو بنیاد بنا کر سیاست، جمہوریت اور معیشت سمیت سیکورٹی کا عمل کمزور ہے او ریہ ہی عمل لو گوں کو تنہا بھی کررہا ہے۔ جب سیاست او رجمہوریت کا عمل طاقت کی حکمرانی کے گرد گھومے گا تو اس کا نتیجہ عملا عام آدمی کے استحصال کی صور ت میں ہی نمودار ہوگا۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم ریاست اور حکومتی نظام پر ایک بڑے سیاسی دباو کی سیاست کو پیدا ہی نہیں کرسکے۔لوگوں میں غم و غصہ موجود ہے لیکن اس غم و غصہ کو ایک پرامن سیاسی جدوجہد یا انقلاب یا ایک بڑی موثر تبدیلی کے عمل سے نہیں جوڑا جاسکا۔اسی طرح ہم باہر کے ممالک سے تو بہت امیدیں لگاتے ہیں کہ وہ ہماری مدد کرے لیکن ہم خود اپنی مدد کرنے کے لیے تیار نہیں او رنہ ہی دنیا کے تجربات سے کچھ سیکھنے کے لیے تیار ہیں کہ مثبت تبدیلی کے عمل میں ان کی حکمت عملی او رمنصوبہ بندی کیا تھی او رکیسے ہم ان سے سیکھ کر خو دکو بہتر بناسکتے ہیں۔
اس وقت تو مسئلہ یہ ہے کہ حکومت حزب اختلاف کو اور حزب اختلاف حکومت او راسٹیبلیشمنٹ دونوں پر برتری حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اس کے لیے طاقت کے تمام حربے اختیار کیے جارہے ہیں او رملک عملا اجتجاجی اور محاز آرائی یا ٹکراو کی سیاست کی جانب بڑھ رہا ہے۔اس کے ذمہ دار کوئی ایک فریق نہیں ہم سب اس بحران کے ذمہ دار ہیں۔کیونکہ ہم ملک میں ایک ذمہ دار ریاست، حکومت او رمعاشرے کی تریب کو ممکن بنانے میں ناکام رہے ہیں۔نئی نسل کے سامنے امید کے پہلو کم او رمایوسی کے بادل زیادہ ہیں۔ ایسی غیر یقینی سیاست، جمہوریت او ر معیشت کی موجودگی میں بہتری کا عمل کیسے شروع ہوگا او رکون شروع کرے گا خو دایک بڑا سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ لوگو ں کے پاس سوالات ہیں مگر طاقت ور طبقہ ان سوالوں کے جواب دینے کی بجائے قومی سیاست او رریاست کو جذباتیت پر مبنی نعروں کے ساتھ چلانے کی کوشش کررہا ہے۔ اسی طرح جو لوگ مسائل کا حل چاہتے ہیں یا ان کے پاس مسائل کا حل موجود ہے تو ان کو قومی سطح پر ایک ریاستی و حکومتی اداروں کی جانب سے ایک بڑی سیاسی تنہائی کا سامنا ہے۔ کیونکہ ان کی نہ تو کوئی سننے والا ہے او رنہ ہی ان کو بٹھا کر کوئی بات کرنے والا ہے۔ ج
ب ملک کو سیاسی بونوں اور غیر سیاسی یا غیر پروفیشنل لوگوں کی مدد سے ملک کو چلانے کی کوشش کی جائے گی، جہاں اقراپروری یا ذاتی خاندانی دوستی کا غلبہ ہو وہاں معاشرے بہتر ی کی جانب نہیں بڑھ پاتے۔اس لیے اگر آج ہم آگے نہیں بڑھ رہے تو ہمیں خود ہی اپنے معاملات کا درست انداز میں تجزیہ کرنا ہوگاکہ ہم اس مقام پر کیسے پہنچے ہیں اور کیسے اس مقام سے باہر نکل کر اپنے لیے ایک محفوظ ترقی کا راستہ تلاش کرسکیں گے جو ریاستی مفاد کی عکاسی بھی کرتا ہو۔