اساتذہ کے تدریسی معیار و انداز میں بہتری کیسے

اس میں کوئی شک نہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا اور کلاس رومز میں "سلام ٹیچرز ڈے" بڑے جوش و خروش اورعزت واحترام سے منایا جانے لگا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے سرکاری و حکومتی سطح پر ماضی کے مقابلے میں عالمی یوم اساتذہ کی تقریبات منانے کا جوش و جذبہ ماند پڑتا جا رہا ہے۔

پاکستان میں سرکاری سطح پر سلام ٹیچرز ڈے منانے کا اہتمام پرویز مشرف دور میں ہوا تھا۔ شروع کے چند سالوں میں سرکاری سطح پر یہ دن پروقار انداز میں منایا گیا لیکن بتدریج یہ جذبہ ماند پڑتا گیا۔ اس حوالے سے آخری پروقار تقریب کا اہتمام محکمہ تعلیم سکولز پنجاب نے2017میں ایوان اقبال میں کیا تھا جس میں اساتذہ کو امتحانی نتائج و بہترین کارکردگی کی بنیاد پر ایوارڈزاور نقد انعامات سے نوازا گیا تھا لیکن اس کے بعد ایسی پروقار تقریب کہیں دیکھنے کو نہیں ملی۔ ایک روز قبل منائے جانے والے عالمی یوم اساتذہ پر جہاں ایک طرف طالب علموں سمیت زندگی کے مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے اپنے انداز میں اساتذہ کو خراج تحسین پیش کیا، وہیں کچھ سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کی جانب سے ماضی اور حال کے اساتذہ کے تدریسی رویوں اور معیار پر تنقیدی مباحث بھی دیکھنے میں آئے۔

سب سے زیادہ تنقید تعلیمی اداروں میں بچوں پر ہونے والے جسمانی وذہنی تشدد پر ہوئی۔ سوالات اٹھانے والے طالب علموں کی حوصلہ افزائی کی بجائے حوصلہ شکنی پر بھی اساتذہ کو مورود الزام ٹھہرایا گیا۔ جب کہ سبق یا لیکچر صیح طرح سے ڈلیور نہ کرنے والے اساتذہ بھی تنقید کا ہدف بنے۔ تعلیمی اداروں میں بچوں سے زیادتی و ہراسمنٹ کے بڑھتے واقعات کی بنیاد پر بھی اساتذہ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ سب سے اہم بحث اس نکتے پر ہوئی کہ ابتدائی کلاسز کے طالب علموں میں سوالات اٹھانے کا جو کریز نظر آتا ہے، وہ سیکنڈری کلاسز تک آتے آتے مدہم کیوں پڑ جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کی بجائے نمبرز گیم کی نذر کرنے کا ملبہ بھی اساتذہ پر ڈالا گیا۔ یہ بحث بھی خوب ہوئی کہ اساتذہ بچوں کو بورڈز امتحانات میں پورے پورے نمبرز لینے کے لیے تو تیار کر دیتے ہیں لیکن ان کے اندر وہ تحقیقی اور تخلیقی صلاحیتیں پروان نہیں چڑھا پاتے جو انہیں عالمی سطح کا محقق اور سائنس دان بنانے میں مد د دے سکیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ بچوں پر جسمانی و ذہنی تشدد اور کلاس میں ان کی عزت نفس مجروح کرنے کے علاوہ کئی ایک معاملات میں اساتذہ قصوروار قرار پاتے ہیں۔ تاہم راقم کے خیال میں تمام تر خرابیوں کا ملبہ صرف اساتذہ پر ڈالنا مناسب نہیں۔ اساتذہ کو دور جدید کے تقاضوں کے مطابق ٹرینڈ نہ کرنے اوران پر تعلیمی سرمایہ کاری نہ کرنے سمیت بہت سے معاملات میں ریاستی و حکومتی ارباب اقتدار بھی ذمہ دار ٹھہرائے جا سکتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ہاں زیادہ سوالات اٹھانے والے بچوں کی عام طور پر حوصلہ شکنی ہی ہوتی ہے لیکن اس کی ایک بنیادی وجہ تعلیمی نصاب میں تنقیدی مواد کی کمی اور معاشرے کے مجموعی مزاج کا سائنسی طرز فکر کے اصولوں پر استوار نہ ہونا ہے۔ اظہار رائے اور اجتہادی فکر پر لگائی جانے والی گوناگوں نوعیت کی قدغنوں کے باعث ہمارے تعلیمی اداروں میں آزادانہ تحقیق و جستجو اور سوالات اٹھانے کا ماحول ہی نہیں بن سکا۔ اس کے بعد یہ کہ ہمارے ہاں اساتذہ کی بھرتی کے وقت تعلیمی شعبے میں اساتذہ کی دلچسپی اور قابلیت کو جانچنے کا کوئی میکانزم نہیں۔

اس کے علاوہ ہم دو سے تین برس کے ٹیچنگ کیرئیر کی بنیاد پر"خراب کارکردگی" والے ٹیچرز کو نکال کر بھی اساتذہ کا معیار کافی حد تک بہتر رکھنے کے انتظامات کر سکتے ہیں لیکن ہم پروبیشن بھرتی والے ٹیچرز کو پکا کرنے سے پہلے بھی اس پیمانے کو بنیاد نہیں بناتے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ طلبہ کی بہترین تعلیم و تربیت کے لیے اچھے اساتذہ کا ہونا ناگزیر ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ نہ تو بھرتی سے پہلے اچھے اساتذہ کا پتہ چلانے کے لیے ہمارے پاس کوئی قابل ذکر طریقہ کار ہے اور نہ ہی اب تک ہمارے ٹیچرز ٹریننگ پروگرامز کہیں کارگر ہو سکے ہیں۔ماہرین کے مطابق اساتذہ کا تدریسی معیار اور انداز بہتر کرنے کاواحد موثر حل دور جدید کے تعلیمی تقاضوں کے مطابق ان کوتربیت دینا ہے اور اس کے لیے تعلیم اور اساتذہ پر بھاری سرمایہ کاری کرنا ناگزیر ہے۔

دنیا بھر کی ریاستیں اپنے اساتذہ کونہ صرف دور جدید میں ہونے والی تعلیمی تبدیلیوں اور تعلیمی طریقہ کار سے باخبر کرنے کا اہتمام کرتی رہتی ہیں بل کہ بدلتے وقت کے تعلیمی تقاضوں کے مطابق درس وتدریس کے قابل بنانے کے لیے ان پر سرمایہ کاری بھی کرتی ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں سرکاری اور نجی شعبے کے اساتذہ پر کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں۔ عالمی اداروں کی معاونت کے باوجود ہمارے اساتذہ کی اکثریت جدید دور کے تعلیمی تقاضوں سے نابلد ہے جس کا نتیجہ معیار تعلیم کی اجتماعی زبوں حالی اور ورلڈ ملینیم گولز سے کوسوں دوری کی صورت میں ہمارا منہ چڑا رہا ہے۔ تعلیمی اداروں میں بچوں پر جسمانی سزا کی ممانعت کے باوجود ایسے روایتی سوچ رکھنے والے اساتذہ کی کمی نہیں جو تعلیمی عمل میں جسمانی سزا کو بچوں کی بہتری سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس کے بعد ایسے اساتذہ کی بھی کمی نہیں جو بچوں کو جسمانی سزائیں تو نہیں دیتے لیکن ذہنی تشدد اور تضحیک میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ تعلیمی اداروں اور کلاس رومز کے ماحول میں بہتری لانے کے لیے ایسے روایتی سوچ کے حامل اساتذہ کی سوچ اور طرز عمل بدلنا ناگزیر ہے۔ اساتذہ کے تدریسی انداز میں بہتری لانے کے لیے انہیں نہ صرف بچوں کی تعلیمی نفسیات سے آگاہی دینا ناگزیر ہے بل کہ خصوصی ورکشاپس کے انعقاد سے انہیں تدریس کے جدیدترین طریقوں سے باخبر رکھنا اشد ضروری ہے۔ اساتذہ کا تدریسی انداز بہتر نہ ہونے کی وجہ اساتذہ پر بورڈز امتحانات میں زیادہ سے زیادہ نمبروں کے حصول کو یقینی بنانے کا دباؤ بھی ہے۔ نمبرگیم کے اس دباؤ کی وجہ سے ایک طرف اساتذہ بچوں کی فکری اور اخلاقی تربیت پر توجہ نہیں دے پا رہے تو دوسری طرف بچوں میں تنقیدی تجسس ابھارنے جیسا اہم تعلیمی مقصد ان کی ترجیح میں شامل نہیں ہو پا رہا۔

حکومتی وسماجی سطح پر اساتذہ کا معاشی وسماجی استحصال بھی تدریسی معیار کی بہتری کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اساتذہ ایک طرف مہنگائی میں روزافزوں اضافوں کی وجہ سے معاشی ڈیپریشن کا شکار ہیں تو دوسری طرف اضافی تدریسی ذمہ داریوں کی وجہ سے اپنے تدریسی معیار میں بہتری لانے سے قاصر ہیں۔ اساتذہ خاص طور پر خواتین اساتذہ کے مسائل کی ایک طویل فہرست ہے۔ اساتذہ کے تدریسی انداز میں بہتری کے لیے ایک طرف تعلیمی اداروں کا ماحول بہتر بنانا ناگزیر ہے تو دوسری طرف اساتذہ کی مراعات و سہولیات میں اضافہ وقت کی ضرورت ہے۔سرکاری و سماجی سطح پر اساتذہ کا احترام یقینی بن جائے اور اساتذہ کی معاشی وتدریسی مشکلات کم ہو جائیں تو اساتذہ کے تدریسی معیار و انداز میں کافی حد تک بہتری آ سکتی ہے۔