روس اور یوکرائین کی تنظیموں اور بیلا روس کے شہری کو 2022 کا نوبل امن انعام
2022 کے لیے امن کا نوبل انعام مشترکہ طور پر یوکرین اور روس میں سرگرم دو انسانی حقوق کی تنظیموں اور بیلاروس سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے سرگرم کارکن کو دیاگیا ہے۔
نوبل انعام کا فیصلہ کرنے والی نارویجئن کمیٹی کی جانب سے جمعے کو جاری کردہ اعلان کے مطابق بیلاروس سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے سرگرم کارکن ایلس بیالیٹسکی کو ان کی خدمات پر نوبل انعام کا حق دار ٹھہرایا گیا ہے۔ ایلس بیالیٹسکی کا شمار بیلاروس کے اُن انسانی حقوق کے کارکنوں میں ہوتا ہے، جو اسی کی دہائی سے جمہوریت اور انسانی حقوق کا علم بلند کیے ہوئے ہیں۔
اسی کے ساتھ انسانی حقوق کی دو تنظیموں 'رشین ہیومن رائٹس آرگنائزیشن میموریل' اور یوکرین کی تنظیم 'یوکرینین ہیومن رائٹس آرگنائزیشن سینٹر فار سول لبرٹیز' کو بھی امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا ہے۔ نوبل کمیٹی کے مطابق اس برس امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والی شخصیت اور تنظیمیں کئی برسوں سے انسانی حقوق کے لیے اپنے اپنے ملکوں میں زبردست کام کر رہی ہیں۔ ان تنظیموں نے تنقید کرنے کی حوصلہ افزائی کے علاوہ اپنے شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کیا ہے۔
ان تنظیموں نے جنگی جرائم کا ریکارڈ رکھنے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور طاقت کے غلط استعمال کی نشان دہی کے لیے غیر معمولی کاوشیں کی ہیں۔ ایوارڈ جیتنے والی شخصیت اور تنظیموں نے مل کر نہ صرف سول سوسائٹی کی اہمیت کو اُجاگر کیا ہے بلکہ جمہوریت اور امن کے لیے بھی کام کیا ہے۔
نوبل کمیٹی کے مطابق ایلس بیالیٹسکی نے 1996 میں ایک تنظیم قائم کی جو بعدازاں بیلاروس میں انسانی حقوق کی ایک بڑی تنظیم بن کر اُبھری اور اس نے ملک میں جمہوریت کی مضبوطی اور سیاسی قیدیوں کے حق میں آواز بلند کی۔ تنظیم نے سیاسی قیدیوں پر ہونے والے مبینہ تشدد کا ریکارڈ رکھنے کے علاوہ ان کی رہائی کے لیے مظاہروں کی بھی قیادت کی۔
برطانوی اخبار 'گارڈین' کے مطابق بیالیٹسکی کے ان اقدامات کے باعث اُنہیں ریاستی جبر کا بھی سامنا کرنا پڑا اور اُنہیں متعدد بار ان سرگرمیوں سے باز رہنے کی تنبیہ کی گئی۔ وہ 2020 سے بغیر کسی ٹرائل کے جیل میں ہیں۔ مشکلات اور آزمائشوں کے باوجود وہ اپنے عزم پر ڈٹے ہوئے ہیں۔
نوبل انعام کی حق دار ٹھہرائی گئی تنظیم 'رشین ہیومن رائٹس آرگنائزیشن میموریل' کی بنیاد 1987 میں سابق سوویت یونین میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے رکھی تھی۔ کمیٹی کے مطابق اس تنظیم کے قیام کے مقاصد میں سابق سوویت یونین کے دور میں اس کے زیرِ قبضہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ریکارڈ رکھنا تھا جنہیں سوویت یونین چھپانا چاہتا تھا۔ تنظیم نے چیچنیا میں جنگوں کے دوران روسی افواج کی جانب سے جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ریکارڈ بھی مرتب کیا جس کی پاداش میں تنظیم کی چیچنیا برانچ کی ایک سرکردہ رُکن کو ان کے کام کی وجہ سے 2009 میں ہلاک کیا گیا۔
اسی طرح یوکرین میں منظم انسانی حقوق کی تنظیم 'یوکرینین ہیومن رائٹس آرگنائزیشن سینٹر فار سول لبرٹیز' یوکرین میں جمہوریت کی مضبوطی اور انسانی حقوق کی بہتری کے لیے بنائی گئی تھی۔ اس تنظیم نے اپنی سرگرمیوں کے ذریعے یوکرین حکومت پر دباؤ ڈالے رکھا کہ وہ ملک میں حقیقی جمہوریت کی بحالی یقینی بنائے۔
رواں برس فروری میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد تنظیم نے روس کی جانب سے یوکرین کے عوام کے خلاف جنگی جرائم کا ریکارڈ مرتب کیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے سے عالمی سطح پر معتبر سمجھنے جانے والے نوبل انعام کے ساتھ 9 لاکھ ڈالر سے زائد رقم بھی بطور انعام دی جاتی ہے۔
’ڈائنامائٹ‘ ایجاد کرنے والے سوئیڈش سائنس دان الفریڈ نوبل کی وصیت کے مطابق یہ انعام 1901 میں شروع کیا گیا تھا۔ دیگر شعبوں کی طرح امن کے لیے بھی نوبل انعام ممتاز ترین ایوارڈز میں شامل ہے۔ انعام جیتنے والے کو ملنے والی انعامی رقم الفریڈ نوبل کے ترکے میں چھوڑے گئے اثاثوں سے ادا کی جاتی ہے۔ الفریڈ نوبل کا انتقال 1895 میں ہوا تھا۔