علاقے میں امن کا طریقہ تلاش کیا جائے: جنرل باجوہ
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نے کہا ہے کہ ہمیں اپنے تمام دوطرفہ مسائل پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے ایک طریقہ کار وضع کرکے امن کو ایک موقع دینا چاہیے۔
پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کے 146ویں لانگ کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ ایک دوسرے سے لڑنے کے بجائے ہمیں اجتماعی طور پر بھوک، غربت، ناخواندگی، بڑھتی ہوئی آبادی، موسمیاتی تبدیلی اور بیماریوں سے لڑنا چاہیے۔ آرمی چیف نے خبردار کیا کہ دنیا بدل چکی ہے لہٰذا ہمیں بھی بدلنا ہو گا ورنہ جمود کی قیمت ہم سب کو مل کر ادا کرنی ہو گی۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہیں سمجھنا چاہئے۔ کسی کو بھی ہمارے بنیادی مفادات اور مادر وطن کے ایک ایک انچ کے دفاع کے ہمارے اجتماعی عزم کے بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے۔
آرمی چیف نے کہا کہ امن کی ہماری تلاش میں ہم نے اپنے تمام پڑوسیوں اور علاقائی ممالک کے ساتھ اچھے ہمسایہ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے مخلصانہ اور ہمہ گیر کوششیں کی ہیں۔ ہم سیاسی بندشوں کو توڑنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں جنہوں نے جنوبی ایشیا کے ممالک کو آگے بڑھنے اور علاقائی و دو طرفہ مسائل کو پرامن اور باوقار طریقے سے حل کرنے سے روک رکھا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ جنوبی ایشیا کے لوگ دنیا کے باقی حصے کے لوگوں کی طرح خوشحالی اور بہتر حالات زندگی کے مستحق ہیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پائیدار اقتصادی ترقی دیرپا امن کی بدولت ہی ممکن ہے، اس لیے ہمیں جنگ کی آگ کو اس خطے سے دور رکھنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہئے۔
تقریر کے دوران آرمی چیف نے پاس آؤٹ ہونے والے کیڈٹس پر زور دیا کہ وہ ملک میں فیک نیوز اور سیاسی جھگڑوں سے پریشان نہ ہوں اور اس پر توجہ نہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری اداروں کا احترام کریں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور آئین کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہیں۔
آپ کو ہمیشہ چوکنا اور ملک کے خلاف ہر طرح کی سازشوں کا جواب دینےاور انہیں شکست دینے کے لیے تیار رہنا چاہئے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ اپنے عوام کی مسلسل حمایت کی بدولت مسلح افواج کسی بھی ملک، گروہ یا قوت کو پاکستان کو سیاسی یا اقتصادی طور پر غیر مستحکم کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گی۔
انہوں نے کہا کہ اس شاندار ادارے سے گریجویٹ ہونا بہت اعزاز اور فخر کی بات ہے۔ کیڈٹس کو اس بات پر فخر ہونا چاہیے کہ آپ پیشہ ورانہ طور پر ممتاز اور جنگ کے میدان صلاحیتوں کا لوہا منوانے والی فوج سے اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والے ہیں جس کی روایتی اور غیر روایتی دونوں ہی میدانوں میں کامیاب مہمات کی ایک طویل فہرست ہے۔
آرمی چیف نے کہا کہ پاک فوج نے قوم کی مکمل حمایت اور اعتماد کی بدولت پچھلی دو دہائیوں میں دہشت گردی کی لعنت سئ نجات حاصل کی۔ اور اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ منظم دہشت گردی کو پاکستان سے ہمیشہ کے لیے جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ یہ ایک منفرد کارنامہ ہے جس کا دعویٰ بہت سے ممالک یا فوجیں نہیں کر سکتیں۔
میرے لیے ذاتی طور پر انتہائی اہمیت ہے کیونکہ میں 42 سال پہلے اسی باوقار ادارے میں تربیت حاصل کر رہا تھا جہاں آپ آج کھڑے ہیں اور کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن مجھے اس شاندار فوج کی کمان کرنے کا اعزاز حاصل ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص پیشہ ورانہ علم کے ساتھ پیدا نہیں ہوتا بلکہ اسے مسلسل لگن اور جستجو سے حاصل کرنا پڑتا ہے۔ ایک چیلنجنگ اور پرجوش سفر آپ کا منتظر ہے۔ اس سفر میں آپ جیسے جیسے آگے بڑھتے جائیں گے، آپ کی پیشہ ورانہ ذمے داریاں بھی بڑھتی جائیں گی۔ لہٰذا آپ کو قیادت کی اعلیٰ صفات سے آراستہ کرنے کی ضرورت ہے جس کی بنیاد اپنے ماتحتوں کو عزت اور تعاون فراہم کرنا ہونا چاہیے۔
ایک لیڈر کی حیثیت سے آپ کو مشکل فیصلے لینے اور پھر پوری ذمہ داری قبول کرنے کی ہمت اور صلاحیت ہونی چاہئے۔ درست فیصلہ سازی کے لیے قابلیت اور اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے جو صرف اعلیٰ درجے کی فوجی تعلیم، سخت تربیت اور فوجی تاریخ کے مسلسل مطالعے سے حاصل کی جاسکتی ہے۔
اس موقع پر انہوں نے سر باسل لڈل ہارٹ کے اقوال پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک افسر جس نے فوجی تاریخ کا بحیثیت سائنس مطالعہ نہیں کیا ہے، وہ کپتان کے عہدے سے زیادہ کام کا نہیں ہے۔