ارلیمان کی بے توقیری
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- ہفتہ 08 / اکتوبر / 2022
پارلیمان کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مجموعی اراکین کی تعداد 442بنتی ہے۔ یہ 20/22 کروڑ آبادی کے ملک پاکستان کے نمائندے ہیں جیسے کیسے بھی ہو، جیسا بھی نظام ہو یہ پارلیمانی جمہوری نظام کے تحت منتخب ہو کر قومی اسمبلی اور سینیٹ تک پہنچے ہیں۔
پارلیمان اس ملک کا اعلیٰ ترین ہی نہیں بلکہ مقدس ترین ایوان ہے، جس نے ریاست کے لئے مشعل راہ کتاب، آئین تشکیل دیا ہے، جس نے اس ملک کو ایک حقیقی آزاد ملک کی شکل دی ہے اور اسی آئین نے 20/22کروڑ عوام کو عزت اور احترام کا احساس دیا ہے اسی آئین کے تحت بہت سے ادارے تشکیل پائے ہیں جو ملک / ریاست کو چلانے کا کام کررہے ہیں یہی آئین فرد اور اداروں کے تعلقات اور ان کے کنڈکٹ کا تعین کرتا ہے انہیں ریگولیٹ کرتا ہے۔ نظم ریاست و سیاست منظم کرتا ہے۔ یہ مشترکہ اجلاس پارلیمانی روایات کا تسلسل تھا جس میں صدر مملکت خطاب فرماتے ہیں۔ اس ایوان میں دو درجن سے قریب قومی، علاقائی، سیاسی جماعتیں عوام کی نمائندگی کرر ہی ہیں۔ آزاد ممبران بھی ہیں۔ حیران کن بات ہے کہ صدر کا خطاب سننے کے لئے صرف 14افراد موجود تھے۔ پی ٹی آئی نے تو اعلانیہ بائیکاٹ کر رکھا تھا جبکہ دیگر جماعتوں کے ممبران کی عدم موجودگی حیران کن نہیں بلکہ پریشان کن ہے۔
کیا پاکستان کے عوام کے نمائندوں کے نزدیک پارلیمان بالکل بے وقعت ہو چکی ہے ان کے نزدیک مملکت کے سربراہ، صدر مملکت کے خطاب کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کے رویوں کے حوالے سے تو اس قسم کے ایکشن کی توقع کی جا سکتی ہے کیونکہ پی ٹی آئی تو اس ایوان کو نہ ماننے کا پہلے ہی اعلان کر چکی ہے وہ قومی و ریاستی اداروں کو بے وقعت اور بے توقیر کرنے کی پالیسی پر ایک عرصے سے عمل پیرا ہے اس لئے انہوں نے اپنے ہی منتخب صدر کے خطاب کا بائیکاٹ کرکے بالکل ایسا ہی کیا جیسا وہ پہلے کررہے ہیں۔ لیکن دیگر جماعتوں بشمول پیپلزپارٹی، مسلم لیگ نواز، مسلم لیگ (ق)، جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن، ایم کیو ایم اور دیگر جماعتیں جو اس وقت ملک پر حکمران ہیں اسی ایوان نے انہیں حق حکمرانی دیا ہے، اسی ایوان نے ان کے حقِ حکمرانی کی تصدیق کی ہے اسے جائز اور حلال قرار دیا ہے۔ اسی ایوان کے سب سے اہم اجلاس اور مملکت کے سربراہ کے خطاب کا بائیکاٹ کرکے انہوں نے مجرمانہ فعل کا ارتکاب کیا ہے۔
ہمارے ہاں ایک تاثر بڑے منظم طریقے سے پھیلایا گیا ہے کہ ’ہمارے سیاستدان اس لائق ہی نہیں ہیں کہ وہ عوام کی نمائندگی کر سکیں، حکومت چلا سکیں …… ‘ جمہوریت، پارلیمانی جمہوریت کے خلاف خاصی سمع خراشی کی جا چکی ہے اور اسے غیر ذمہ دار نظام قرار دینے کی کاوش کی جا رہی ہیں۔ کیا ہمارے پارلیمانی نمائندوں کا یہ رویہ ان تاثرات کو تقویت دینے کا باعث نہیں بنے گا؟ کیا عوام کے دلوں میں اس ایوان کی بے توقیری اور بے وقعتی کا تاثر گہرا نہیں ہوگا ۔کیا اس طرح کے طرزِ فکر و عمل کے باعث جمہوریت پر عوام کے ایمان و یقین میں کمی و کمزوری واقع نہیں ہو گی۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق سیلاب کے باعث پاکستان کو 40ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ 90لاکھ سے زائد شہری خط غربت سے نیچے جا سکتے ہیں۔ بے روزگاری، مہنگائی عام ہو گی۔ نمو کی شرح گھٹ کر 2فیصد ہوگی۔ گویا تباہی و بربادی مقدر بننے جا رہی ہے ایسے میں ہمارا سیاسی طرز عمل کیا ظاہر کر رہا ہے؟
عمران خان تو ایسے تمام افکار سے بالا ہو کر صرف ایک بات کا چرچا کر رہے ہیں۔ فوری انتخابات، جن کے نتیجے میں، ان کے خیال کے مطابق انہیں دوتہائی اکثریت حاصل ہو جائے گی اور وہ ایک بار پھر حکمران بن جائیں گے۔ بادی النظر میں وہ ایسا ہی کچھ کر رہے ہیں اور ایسا ہی کچھ حاصل کرنے کے متمنی دکھائی دیتے ہیں لیکن ذرا تفصیلاً اور عمیق نظری سے ان کے افکار اور اعمال کا مطالعہ کریں تو دوسری صورت حال سامنے آتی ہے۔ عمران خان صاحب انتشار اور افتراق کی پالیسی پر گامزن ہیں ۔انہوں نے دشنام، ابکار، افتراق کے ذریعے ایک نسل تیار کی ہے وہ ملک کو بدامنی اور انتشار کی عمیق وادیوں میں دھکیلنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ دشمن کی پاکستان کے خلاف برپا کردہ ففتھ جنریشن وار کے ایک اہم عامل کے طور پر سرگرم عمل ہیں ۔ان کی اب تک کی حرکات و سکنات اور پالیسیاں کیونکہ معاشرے میں ایسا ہی کچھ پیدا کر رہی ہیں جواس جنگ کا نتیجہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک ان کے حالیہ مطالبے ”فوری انتخابات“ کا تعلق ہے اور وہ اس سلسلے میں آخری حد یعنی لانگ مارچ تک کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ وہ بھی ایک صریحاً دھوکہ نظر آ رہا ہے۔ ایک طرف فوری انتخاب کا مطالبہ ہے تو دوسری طرف حکومت کو نہ ماننے،چیف الیکشن کمشنر کو نہ ماننے بلکہ پورے الیکشن کمیشن کو بدلنے جیسے مطالبات، چہ معنی دارد۔ الیکشن حکومت نے کرانے کا اعلان کرنا ہے۔ کیئرٹیکر حکومت اس نے بنانی ہے، الیکشن کمیشن نے چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں انتخابات کرانے ہیں اور وہ ان سب کو مانتے ہی نہیں ہیں۔ ایک طرف انہوں نے اجتماعی طور پر قومی اسمبلی سے استعفے دیے ہیں، دوسری طرف ان کے دس اراکین،جن کے استعفے منظور ہو گئے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ سے کہہ رہے ہیں کہ ان کے استعفے منظور کرنے کا نوٹس معطل کیا جائے۔
یہ سب کچھ ایک سمت کی طرف اشارہ کررہا ہے اور وہ ہے پارلیمان کی بے توقیری اس میں سب سیاسی جماعتیں کسی نہ کسی طور شامل ہیں۔ اگر ہم نے اس سمت توجہ نہ دی تو وہ وقت زیادہ دور نہیں ہے جب عامتہ الناس کا اعتماد بھی پارلیمانی جمہوریت سے اٹھ جائے گا۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)