بانڈز کی میچورٹی آگے بڑھائیں گے، نہ پیرس کلب جائیں گے: اسحٰق ڈار

  • اتوار 09 / اکتوبر / 2022

وزیر خزانہ سینیٹر اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ ہم نہ تو بانڈز کی میچورٹی کو آگے بڑھائیں گے اور نہ ہی پیرس کلب جائیں گے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں وقت پر ادائیگیاں کریں گے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحٰق ڈار نے کہا کہ ہم نے کچھ سال قبل بانڈ جاری کیے تھے۔ وہ دسمبر میں میچور ہورہے ہیں اور اس کی ادائیگی کرنی ہے۔ لوگوں کو یقین نہیں کہ انہیں دسمبر میں اس بانڈ کے پیسے ملیں گے یا نہیں، اس لیے بانڈز 50 فیصد پر فروخت ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے مارکیٹس میں تشویش تھی کہ پاکستان اس بانڈ کی ادائیگی نہیں کر سکے گا اور بانڈ ہولڈرز کو کہے گا کہ اس کی میچورٹی تاریخ میں توسیع کردیں تو ہم آپ کو اضافی منافع دیں گے مگر اب وہ نہیں ہوگا۔ ہم بانڈ کی ادائیگی بھی وقت پر کریں گے کیونکہ پاکستان ایک خودمختار ملک ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی ساکھ، عزت اور نام ہے جن کو ہم نے برقرار رکھنا ہے اور اس کے لیے ہمیں محنت کرنا ہوگی اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جب 1998 میں نواز شریف کے بہادرانہ فیصلے کے بعد ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کو ہمیشہ کے لیے محفوظ بنالیا تو پاکستان کو سبق سکھانے کے لیے بدترین پابندیاں عائد ہوئیں تھی۔ اس وقت بھی ہم نے اس صورتحال کا مقابلہ کیا اور فروری 1999 تک ان مسائل سے باہر نکل چکے تھے۔

اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ ہم نہ تو بانڈ کی میچورٹی کو آگے بڑھائیں گے اور نہ ہی پیرس کلب جائیں گے مگر وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں اپنی ادائیگیاں وقت پر کریں گے۔ ہم نے پانچ برآمد کنندہ صنعتوں کے مسائل حل کیے ہیں جو تاخیر کا شکار تھے جو اب خوش ہیں اور انہوں نے حکومت کے اقدام کو سراہا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے گورنر سے تفصیلی زوم میٹنگ کے بعد لیٹرز آف کریڈٹ سے متعلق واجب الادا ادائیگی کا ڈیٹا فراہم کیا گیا ہے۔ جس کے بعد ہم نے 50 ہزار ڈالر تک مجموعی رقم ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انہیں آسانی ہو۔ اس وقت ایل سیز کی واجب الادا رقم کے 7 ہزار 992 کیسز موجود ہیں جو 50 ہزار ڈالر ادائیگی کے بعد 4 ہزار 400 کیسز کم ہو جائیں گے۔

موڈیز کی پریس ریلیز پر بات کرتے ہوئے اسحٰق ڈار نے کہا کہ ہم نے اس پر جواب دے دیا ہے مگر موڈیز کی ریٹنگ ایجنسیوں نے بنیادی وجہ یہ ظاہر کی تھی کہ ہم پیرس کلب جارہے ہیں جہاں ہم قرضوں کو ری شیڈول کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مگر میرے آنے کے بعد وزیر اعظم سے تبادلہ خیال کے بعد ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پیرس کلب نہیں جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت عالمی مالیاتی فنڈ کے حوالے سے بہت باتیں چل رہی ہیں مگر یہ معاہدہ میں نے نہیں کیا۔ ہم نے 2013 میں آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا تھا جو 2016 میں ختم ہوا۔ معاہدے ملکی سطح پر ہوتے ہیں اس میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ فلاں نے کیے۔ 25 اکتوبر کو آئی ایم ایف کا نواں جائزہ اجلاس ہونا ہے لہٰذا ہم پاکستان کے سابقہ معاہدوں کو پورا کرنے کی مکمل کوشش کریں گے۔