سوات میں اسکول وین پر فائرنگ سے ڈرائیور جاں بحق، 2 طلبہ زخمی

  • سوموار 10 / اکتوبر / 2022

 سوات میں اسکول وین پر نامعلوم دہشت گردوں کی فائرنگ سے ڈرائیور جاں بحق اور 2 طلبہ زخمی ہوگئے۔

سوزوکی گاڑی معمول کے مطابق صبح گھر سے بچوں کو لے کر اسکول جارہی تھی کہ سوات کے علاقے گلی باغ میں نامعلوم ملزمان کی جانب سے اس پر حملہ کیا گیا۔ حملے کے دوران فائرنگ کی نتیجے میں نجی اسکول کی سوزوکی گاڑی کا ڈرائیور محمد حسین موقع پر جاں بحق ہوگیا۔ واقعے میں دو طلبہ بھی زخمی ہوئے۔

پولیس نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ جاں بحق شخص کی لاش اور زخمی طالب علم کو خوازہ خیلہ ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ پولیس کی بھاری نفری حملے کے مقام پر پہنچ چکی ہے۔ علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کردی گئی ہے تاہم تاحال کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

ایک بیان میں ڈی پی او سوات زاہد نواز مروت نے کہا کہ سوات میں آج کے افسوسناک واقعے کا ہدف اسکول کے بچے نہیں بلکہ وین کا ڈرائیور تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس واقعہ کی تحقیقات کر رہی ہے اور جلد ہی مجرموں کو گرفتار کرلیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے صوبے کے انسپکٹر جنرل کو تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔ وزیر اعلیٰ نے سوگوار خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا اور زخمی طالب علم کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔

رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے بھی واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے کے بعد ریاست کو جاگ جانا چاہیے جس کی رٹ ایک بار پھر سوات میں کمزور ہوتی نظر آرہی ہے۔ ٹوئٹر پر ایک بیان میں محسن داوڑ نے کہا کہ سوات کے لوگ دہشت گردی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں لیکن ان کی آواز کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ پشتونوں کو ایک بار پھر بھیڑیوں کے آگے پھینکا جا رہا ہے۔

اسکول وین پر فائرنگ کے خلاف سوات میں طلبا، اساتذہ اور عوام نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔