اخلاقیات پر مبنی سیاست
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 10 / اکتوبر / 2022
پاکستان کی سیاست میں ایک بڑا مسئلہ اخلاقیات کا ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں سیاست اور جمہوریت کا عمل اخلاقی اصولوں کے بغیر چل سکتا ہے تو وہ غلطی پر ہیں۔
جو بنیادی اصول سیاسی اخلاقی معیارات کی بنیاد پر بنائے جاتے ہیں، اسی بنیاد پر سیاست اورجمہوریت کی تصویر بھی بنتی ہے۔ یہاں جو سیاست اورجمہوریت کا کھیل کھیلا جارہا ہے اس کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ سیاست سے جڑے اخلاقی اصول ہماری قومی ترجیحات کا حصہ نہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سیاست اور جمہوریت میں ہمیں سب کچھ دیکھنے کو ملتا ہے لیکن سیاست پر اخلاقی برتری کے اصول پس پشت چلے گئے ہیں۔ یہ مسئلہ کسی ایک جماعت یا قیادت کا نہیں بلکہ مجموعی طور پر پوری قومی سیاست کی تصویر اسی مسئلہ کے گرد گھومتی ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ہم نے سیاست سے جڑے اخلاقی اصولوں کو بس اپنے سیاسی نصاب، تقریروں، وعدوں، دعوؤں اور واعظ تک محدود کردیا ہے۔
حال ہی میں لندن میں وفاقی وزیر مریم اورنگ زیب کے ساتھ جو کچھ ہوا اور جس طرح سے ان کو کھڑا کرکے سخت تنقید یا نازیبا الفاظ کا تبادلہ کیا گیا اس کی ہر سطح پر مذمت ہونی چاہیے۔ کیونکہ سیاست اور جمہوریت میں اس طرز کے کلچر کی حمایت کسی بھی صورت میں نہیں کی جاسکتی۔ لیکن یہ واقعہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے قبل بھی ماضی اور حال میں ایسے واقعات کی کہانی بھری پڑی ہے جو تواتر کے ساتھ سیاسی کارکنوں، قیادت کو اپنے سیاسی مخالفین کی جانب سے اس سے بھی سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ منظر نامہ ظاہر کرتا ہے قومی سیاست ابھی بھی جمہوری اور اخلاقی اصولوں کے برعکس ہی آگے بڑھ رہی ہے۔ اس کے ذمہ دار محض جذباتی سیاسی کارکن نہیں بلکہ اس کا اصل ذمہ دار ہمارا سیاسی نظام اور اس کو چلانے والی سیاسی و مذہبی قیادت ہے۔ کیونکہ جو کچھ ہماری سیاسی قیادت خود کررہی ہے اس کا ہی ہمیں عوامی ردعمل کی صورت میں ایسے منفی مناظر کو دیکھنا پڑتا ہے۔ سیاسی قیادتیں سمجھتی ہیں کہ ان کے حمایت یافتہ سیاسی کارکنوں کا یہ حق اور فرض بھی ہے کہ وہ ان کے سیاسی مخالفین پر جس حد تک منفی تنقید یا تضحیک کی جاسکتی ہے، ضرور کریں۔
اس وقت پاکستان میں ایک بڑی واضح سیاسی تقسیم ہے اور لو گ اسی تقسیم کی بنیاد پر اپنی رائے بناتے ہیں یا قائم کرتے ہیں۔ اس وقت بھی ایک بڑا طبقہ تحریک انصاف او ران کے حامیوں پر شدید تنقید کرتا ہے اور یہ تنقید ہونی بھی چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ سارا منفی کھیل محض تحریک انصاف سے جڑا ہوا ہے اور باقی جماعتیں، ان کی قیادت اور کارکن ان تمام معاملات سے بری ہیں۔ تو ایسا نہیں ہے۔ یہ اعتراف کیا جانا چاہیے یہ مسئلہ تمام جماعتوں کا ہے۔ جو لب ولہجہ ہماری پہلے درجے سے لے کر نچلے درجہ کی قیادت کا ہے وہی لب ولہجہ نیچے سیاسی کارکنوں تک منتقل ہوتا ہے۔ ماضی میں بھٹو مخالفین او ربھٹو حامیوں نے جو کچھ اس ملک کی عملی سطح کی سیاست کے ساتھ طوفان بدتمیزی کی صورت میں کیا وہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ماضی میں سوشل میڈیا نہیں تھا اور نہ ہی اس طرح کا الیکٹرانک میڈیا۔ وگرنہ ماضی کا کھیل آج کے کھیل سے مختلف نہیں تھا۔ یہاں تک کہ جو کچھ اس طوفان بدتمیزی میں ذاتیات پر مبنی کردار کشی جن میں عورتوں کو بھی معاف نہیں کیا گیا۔
آج بھی عمران خان کے سیاسی مخالفین پی ٹی آئی کی خواتین کارکنوں کے بارے میں جو باتیں کرتے ہیں، وہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ مولانا فضل الرحمن تو ان معاملات پر تنقید کرتے ہوئے تمام تر اخلاقی دامن کا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں اور یہ کہانی ایسے فرد کی ہے جو دین اسلام کے نام پر سیاست کرتا ہے۔ ہماری صحافتی سیاسی تقسیم میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اس سارے منفی کھیل کا الزام عمران خان پر ڈالتے ہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے یا تو ان کی سیاسی تاریخ عمران خان سے ہی شروع ہوتی ہے اور ان ہی پر ختم بھی ہوتی ہے یا وہ شعوری طور پر کس خاص مقصد کو بنیاد بنا کر ان پر تنقید کرتے ہیں۔
عمران خان سمیت کون سی سیاسی جماعت کی قیادت ہے جس نے اپنے ایسے سیاسی کارکنوں کو جوابدہ بنایا یا ان کا احتساب کیا۔ یا ان کو سزادی۔ جو سیاسی تنقید میں ہوش کا دامن چھوڑ کر بدتمیزی پر اتر آتے ہیں۔ ایک طرف عوامی سطح پر ان پر تنقید کی جاتی ہے اور دوسری طرف ان کو بلا کر شاباش دی جاتی ہے تاکہ ان کو زیادہ پزیرائی دی جاسکے۔ کاش کوئی ایسا کمیشن بیٹھے جو آج کے تمام سیاست دانوں کی پہلے اور دوسرے سطح کی قیادت کی تقاریر سنیں اور ان کا پوسٹ مارٹم کیا جائے کہ کون کیا کہہ رہا ہے۔ محض ایک فرد کو تنقید کا نشانہ بنا کر آپ ان کے خلاف سیاسی اسکور تو کرسکتے ہیں مگر مسئلہ کا حل تلاش نہیں کرسکیں گے۔ اصل میں جب سیاسی قیادت دوسری جماعتوں کی قیادت پر سنگین اخلاق سے گری باتیں کریں گی، الزامات لگائیں گی تو اس کا ردعمل آنا بھی فطری امر ہے۔ اس لیے یہ جو سب کچھ ہورہا ہے اس کے ذمہ دار ہم سب ہی اہل سیاست ہیں اور اس کو ایک سطح پر عوامی ردعمل کی صورت میں بھی دیکھنا چاہیے۔
سیاسی اور مذہبی قیادتوں سمیت رائے عامہ بنانے والے افراد یا اداروں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ اس کا علاج کسی ایک فرد کے پاس نہیں بلکہ اس پر ایک اجمتاعی حکمت عملی یا دانش درکار ہے۔ سیاسی جماعتوں کی سطح پر ایسا کوڈ آف کنڈکٹ پر اتفاق ہونا چاہیے کہ وہ تنقید کو ذاتیات پر مبنی سیاست کا حصہ نہیں بنائیں گے اور تنقید اور تضحیک کے درمیان فرق کو سمجھ کر ہی اپنے سیاسی نظام کو آگے بڑھائیں گے۔ اسی طرح سیاسی تقسیم کا شکار ہونے کی بجائے میڈیا سمیت تمام اداروں کو ایسے لوگوں کو ہر صورت جوابدہ بنانا ہوگا جو سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے سیاسی اخلاقیات کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ کیونکہ جب تک سیاسی قیادت اور سیاسی جماعتوں پر دباؤ نہیں ڈالاجائے گا یا ان کا محاسبہ نہیں کیا جائے گا، ہمارا سیاسی کلچر درست نہیں ہوسکے گا۔
اخلاقی سیاست کی برتری اسی صورت میں ممکن ہوگی جب ہم اس مسئلہ کو سمجھیں۔ پہلے ہم کو خود اپنا احتساب کرنا چاہیے اور پھر دوسروں کا بھی احتساب کریں۔ لیکن یہ کام محض ٹکراؤ، ننفرت یا تعصب کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی اس مسئلہ کو ایک خاص وابستگی کی بنیاد پر دیکھا جائے۔ مجموعی طور پر ہمیں اس پورے نظام کو جو اخلاقیات کے برعکس کھڑا ہے، چیلنج کرنا ہوگا تاکہ ہم ایک اچھی اور صاف ستھری سیاست کی طرف بڑھ سکیں۔