عمران خان اپنے حصے کا سچ تو سامنے لائیں!
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 10 / اکتوبر / 2022
تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے حالیہ آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لئے عدلیہ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹوئٹ پیغامات میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ تحریک انصاف سامنے آنے والی آڈیوز کی حققیت جاننے کے لئے عدالت سے رجوع کرے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہماری درخواست ہوگی کہ عدلیہ ایسی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرے جو اس بات کا سراغ لگائے کہ وزیر اعظم کے گھر اور اس کے دفتر کا فون کون سی ایجنسی ٹیپ کرتی ہے‘۔
ملکی عدلیہ پہلے ہی سیاسی معاملات سے زیر بار ہے ۔ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے جج حضرات متعدد مواقع پر یہ رائے دے چکے ہیں کہ تحریک انصاف کو سیاسی معاملات طے کرنے کے لئے عدالتوں کی بجائے قومی اسمبلی میں واپس جانا چاہئے۔ اور جن انتظامی یا قانونی طریقوں پر انہیں اعتراضات ہیں، انہیں اسمبلی میں اٹھایا جائے اور متبادل تجاویز پیش کی جائیں۔ عدالتوں کے موجودہ موڈ کو پیش نظر رکھا جائے تو یہی لگتا ہے کہ اگر تحریک انصاف یہ معاملہ عدالت میں لے کر جاتی ہے بوجوہ اس پر غور سے گریز کیا جانا چاہئے۔ عدالت کے علم میں یہ حقیقت بھی ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی پہلے ہی وزیر اعظم ہاؤس سے آڈیو لیکس کے معاملہ پر سخت نوٹس لے چکی ہے اور اعلیٰ اختیاراتی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی جاچکی ہے جو اس معاملہ کی چھان بین کررہی ہے۔ یہ کمیٹی کسی بھی جے آئی ٹی کے مقابلے میں طاقتور ہے اور حقائق تک پہنچنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہے۔ عدالت کو این ایس سی کی قائم کردہ اس کمیٹی کی تحقیقات سامنے آنے سے پہلے اس بارے میں کوئی پٹیشن قبول کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔
سیاسی لحاظ سے عمران خان موجودہ حکومت کے بارے میں خواہ کوئی بھی ہرزہ سرائی کرتے رہیں لیکن حققیت یہی ہے کہ نہ صرف ملک کا نظام قانون بلکہ پورا نظام موجودہ حکومت کو جائز ، آئینی اور درست مانتا ہے۔ بلکہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کا عمل سپریم کورٹ کی مداخلت اور حکم ہی کے نتیجہ میں مکمل ہوپایا تھا ورنہ عمران خان نے تو اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے قاسم سوری کی ایک ناجائز اور غیر آئینی رولنگ کے ذریعے اپنی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو مسترد کرنے کا اہتمام کرلیا تھا ۔ پھر اس رولنگ کے فوری بعد بطور وزیر اعظم انہوں نے صدر مملکت کو قومی اسمبلی توڑنے اور نئے انتخابات کروانے کی سمری بھجوا دی تھی۔ صدر عارف علوی نے یہ سمری ملنے کے چند منٹ کے اندر ہی اسمبلی توڑنے کا فرمان جاری کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو نئے انتخابات منعقد کروانے کا حکم بھی دے دیاتھا۔
صدر عارف علوی اب اپنی ہی پارٹی کے لیڈر اور سیاسی محسن عمران خان کے اس بیان سے فاصلہ پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ ان کی حکومت گرانے کے لئے کسی غیر ملکی سازش کے تحت تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تھی۔ آج رات ہی ایک ٹی وی انٹرویو میں صدر مملکت نے کہا کہ ’میں اس بات پر قائل ہوں کہ اس پر تحقیقات ہونی چاہیے لیکن اس بات پر متفق نہیں کہ سازش ہوئی۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ سے درخواست کی کہ واقعات و شواہد کو بھی مد نظر رکھے‘۔ گویا صدر مملکت بھی اب اس حقیقت کی تصدیق کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ امریکہ سے سفیر اسد مجید کے بھیجے گئے سائفر کی بنیاد پر جو سازشی نظریہ گھڑا گیا تھا وہ من گھڑت اور جھوٹا تھا۔ اس پس منظر میں البتہ یہ سوال بھی پیدا ہوگا کہ کیا صدر مملکت کو اس ’حقیقت‘ کے بارے میں اب آگاہی ہوئی ہے یا وہ اس وقت بھی یہ ’سچ ‘ جانتے تھے جب سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی ایک غیر آئینی رولنگ کی بنیاد پر قومی اسمبلی توڑنے کے لئے وزیر اعظم کی ایڈوائس پر صدارتی فرمان جاری کیا تھا۔
یادش بخیر قاسم سوری نے عجلت میں لکھی ہوئی ایک رولنگ پڑھ کرسنائی تھی جس میں امریکہ سے آنے والے سفارتی مراسلہ کی بنیاد پر تحریک عدم اعتماد کو غیر ملکی سازش قرار دیتے ہوئے مسترد کرنے کا اعلان کیا تھا اور اپوزیشن کو بولنے کا موقع دیے بغیر اجلاس ملتوی کردیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اس صورت حال پر سو موٹو نوٹس کے تحت غور کیا اور ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ غیر آئینی قرار دی گئی۔ اپنے ہی تازہ مؤقف کی روشنی میں صدر عارف علوی یہ بتانے کے پابند ہیں کہ کیا وہ اس وقت جانتے تھے کہ غیر ملکی سازش کا بیان سیاسی مقصد سے پیش کیاجارہا تھا تاکہ کسی بھی طرح تحریک عدم اعتماد سے جان چھڑائی جاسکے۔ اگر عارف علوی اسمبلی توڑنے کا حکم جاری کرتے ہوئے ’سازش ‘کی حققیت سے آگاہ تھے ، پھر ملکی آئین کے احترام اور صدارتی حلف سے وفاداری کے بارے میں ان کی نیک نیتی پر بھی سوال اٹھائے جائیں گے۔ کسی فعال جمہوری و آئینی انتظام میں ایسے شخص کو مملکت کا سربراہ رہنے کا حق نہیں دیا جاسکتا۔
اس حوالے سے یہ سوال بھی بے حد اہم ہوچکا ہے کہ صدر مملکت نے سپریم کورٹ کو سائفر کی تحقیقات کے لئے جو خط لکھا تھا اور جس بارے میں آج دیے گئے انٹرویو میں بات کرتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر اصرار کیا ہے کہ سپریم کورٹ اس معاملہ کی تحقیقات کا اہتمام کرے، وہ کون سی دستاویز کی بنیاد پر تیار کیا گیا تھا؟ آڈیو لیکس میں سامنے آنے والی معلومات اور موجودہ اور سابقہ اعلیٰ عہدیداروں کے بیانات سے جو تصویر سامنے آتی ہے، اس سے تو یہی تاثر قوی ہوتا ہے کہ اصل سائفر صرف وزارت خارجہ میں محفوظ ہے۔ اس کی بنیاد پر جو سیاسی ہنگامہ آرائی کی گئی تھی وہ سابق وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے تیار کردہ منٹس کی بنیاد پر تھی۔ سوال ہے کہ کیا صدر مملکت نے بھی اعظم خان کی تیار کردہ اس رپورٹ کی بنیاد پر ہی سپریم کورٹ کو تحقیقات کے لئے خط لکھا تھا اور کیا سپریم کورٹ کو فراہم کی جانے والی دستاویز اصل سائفر کا حقیقی قابل فہم ترجمہ تھی یا عدالت عظمی کو بھی اعظم خان کے تیار کردہ منٹس پر مشتمل دستاویز فراہم کی گئی تھی جسے عمران خان کے سیاسی مقاصد کے لئے تیار کیا گیا تھا۔ اگر یہ حقیقت منظر عام پر آجائے کہ سپریم کورٹ کو حقیقی دستاویز ملی تھی یا اس کا جعلی ورژن فراہم کیا گیا تھا ، تو بھی بہت سی درپردہ سازشوں کا انکشاف ہوسکتا ہے۔ اس دستاویز کی حقیقت سامنے آنے پر یہ بھی طے ہوسکے گا کہ کیا عمران خان اور صدر عارف علوی نے مخصوص سیاسی مقاصد کے لئے سپریم کورٹ کے ساتھ بھی جعل سازی کی کوشش کی تھی یا نہیں۔
اس لئے یہ ضروری ہے کہ عمران خان جب آڈیو لیکس کے بارے میں عدلیہ سے رجوع کرنے کا ارادہ ظاہر کررہے ہیں تو وہ یہ قدم اٹھانے سے پہلے اپنے حصے کا سارا سچ عوام کے سامنے لے آئیں۔ وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والی گفتگو کی تحقیقات تو ہونی چاہئیں۔ عمران خان کی اس بات سے بھی مکمل اتفاق ہونا چاہئے کہ کسی ادارے یا ایجنسی کو وزیر اعظم اور ان کے دفتر و گھر کے فون ریکارڈ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ اصول بھی اتنا ہی مقدس اور اہم ہونا چاہئے کہ کسی وزیر اعظم کو اپنے اختیارات ناجائز طور سے استعمال کرنے، سرکاری دستاویز میں تحریف کے ذریعے سیاسی بیانیہ بنانے ، ہارس ٹریڈنگ کی منصوبہ بندی کرنے اور سیاسی معاملات کو رشوت، دھونس و دھمکی ، کسی بھی طرح اپنے حق میں ڈھالنے کا طریقہ اختیار کرنے کا حق نہیں دیا جاسکتا۔
عمران خان پر سفارتی مراسلہ کی من پسند تشریح پر استوار رپورٹ کو اصل سائفر کے طور پر پیش کرنے اور اس کی بنیاد پر یہ دعویٰ کرنے کا الزام ہے کہ امریکہ جیسا اہم ملک کو ان کی حکومت کے خلاف ساز ش میں ملوث تھا۔ انہی آڈیو لیکس میں عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے درمیان ہونے والی گفتگو سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ عمران خان نے تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے لئے قومی اسمبلی کے ارکان خریدنے کا اہتمام کیا تھا حالانکہ وہ اپوزیشن پر ہارس ٹریڈنگ کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ لیکن ان ہی کی زبان میں سامنے آنے والی گفتگو میں اب وہ یہ اعتراف کررہے ہیں کہ وہ ارکان اسمبلی خرید رہے ہیں۔ بجا طور سے عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ آڈیو لیکس میں بعض گفتگو ایڈٹ کی گئی ہے۔ لیکن اس عذر کے باوجود وہ ان آڈیو لیکس کی حقیقت اور ان میں سنی جانے والی آوازوں کی حقیقت سے انکار نہیں کرتے۔ یعنی وہ اعتراف کررہے ہیں کہ ان آڈیوز میں جو آوازیں سامنے آئی ہیں، وہ ان کی اور ان کے ساتھیوں ہی کی ہیں۔ جب عمران خان کو معلوم ہے کہ یہ ان کی ہی آواز ہے تو پھر وہ عدلیہ کو کس بات کی تصدیق کروانے کی زحمت دینا چاہتے ہیں؟
عمران خان کی نام نہاد صداقت اور سیاسی راست گوئی کو ان آڈیو لیکس سے شدید جھٹکا لگا ہے۔ اس لئے اس معاملہ میں ان کی پریشانی قابل فہم ہے۔ لیکن سچ سے فرار کا کوئی راستہ انہیں ماضی میں کی گئی غلطیوں سے نجات نہیں دلا سکتا۔ وہ خود سچ بولنے اور عوام کو اعتماد میں لینے کے بلند بانگ دعوے کرتے رہتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنے حصے کا سارا سچ عوام کے سامنے رکھ دیں۔ پھر شاید تحریک انصاف کو تحقیقات کی درخواست دائر کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے بلکہ حقائق کی مکمل اور درست تصویر سامنے آنے کے بعد سب کرداروں کے چہروں سے خود ہی نقاب اتر جائیں گے۔ آڈیو لیکس پر متعدد ٹوئٹس کرنے کے بعد انہوں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ’میں اپنی ایجنسیوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا آپ کا کام اپنے ہی لوگوں کی نگرانی کرنا ہے؟ کیا یہ آپ کا کام ہے کہ کسے اقتدار دیا جائے اور کسے محروم کیا جائے؟ کیا آپ کو اس ملک کی پرواہ بھی ہے جس پر آپ نے یہ لوگ مسلط کئے ہیں۔ یہ سب ڈاکو پاکستان کو تباہی کی طرف لے جارہے ہیں۔ کیا تمہارا کام یہی ہے کہ عمران خان کے فون ٹیپ کرو اور سنو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟‘
عمران خان ان سب سوالوں کا جواب جانتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ وہ یہ جواب عوام کے سامنے رکھیں۔ وہ ہمیشہ ڈٹ جانے اور پریشان نہ ہونے کی بات کرتے ہیں۔ اب انہیں خود سے کہنا چاہئے کہ ’گھبرانا نہیں ہے‘۔ پھر پوری دیانت داری سے عوام کو بتائیں کہ لاہور میں 2012 کی کامیاب ریلی سے سیاسی چھلانگ لگانے کے بعد 2014 کے دھرنے، امپائر کی انگلی اور 2018 کے انتخابات میں ہائیبرڈ نظام کی کامیابی کے نام پر اقتدار سنبھالنے تک، کن ایجنسیوں نے کن سیاسی عناصر کو سیاست سے باہر رکھنے کی ساز باز کی تھی اور کن الیکٹ ایبلز کی فائیلیں کھول کر انہیں بنی گالہ کا راستہ دکھایا تھا۔ پھر وہ سائفر کی حقیقت، اعظم خان کی جعل سازی، صدر عارف علوی کو ملوث کرنے کی کوششوں اور ملک کو ذاتی سیاسی حرص کے لئے ایک غیر ضروری ہیجان و بحران میں مبتلا کرنے کی کہانی بھی عوام کے سامنے پیش کریں۔
عمران خان کو حق پرستی کا بہت شوق ہے۔ ایک بار حوصلہ کرکے دیکھیں۔ اس ملک کے عوام اپنے لیڈروں کے منہ سے سچ سننے کو ترس گئے ہیں۔ کیا عمران خان پورا سچ بیان کرنے کا حوصلہ کرسکتے ہیں؟ اگر وہ ایسا کرنے کی ہمت نہیں رکھتے تو انہیں ان ایجنسیوں پر حرف زنی کا بھی کوئی حق نہیں جن کے کاندھوں پر سوار ہو کر اقتدار لینا تو اچھا لگتا ہے لیکن اس سے محروم ہونے پر شکائیتوں کا دفتر کھولا جاتا ہے۔ ایسی سب کوششیں ماضی میں بھی ناکام رہیں۔ اب بھی ان کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں۔