پاکستان سمیت 54 ممالک کو قرضوں میں فوری ریلیف کی ضرورت ہے: اقوامِ متحدہ

  • منگل 11 / اکتوبر / 2022

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ عالمی بحرانوں کی وجہ سے دنیا کی نصف سے زائد غریب آبادی پر مشتمل 54 ممالک کو قرضوں میں ریلیف کی اشد ضرورت ہے۔

ایک نئی رپورٹ میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ درجنوں ترقی پذیر ممالک قرضوں کے تیزی سے گہرے ہوتے بحران کا سامنا کر رہے ہیں اور 'ان کے غیر فعال ہونے کے خطرات سنگین ہیں'۔

یو این ڈی پی نے کہا کہ فوری ریلیف کے بغیر کم از کم 54 ممالک غربت کی سطح میں اضافہ دیکھیں گے، اور موسمیاتی موافقت اور تخفیف میں سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے۔ یہ تشویشناک ہے کہ متاثرہ ممالک دنیا میں سب سے زیادہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرے سے دوچار ہیں۔

رپورٹ میں فوری کارروائی کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی جو واشنگٹن میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)، ورلڈ بینک، اور جی 20 کے وزرائے خزانہ کے اجلاسوں سے قبل شائع ہوئی۔ یو این ڈی پی کے سربراہ ایچم اسٹینر نے جنیوا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ  بار بار انتباہ کے باوجود اب تک بہت کم کام ہوا ہے، اور خطرات بڑھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بحران شدت اختیار کر رہا ہے اور دنیا بھر کے درجنوں ممالک میں ایک مضبوط ترقیاتی بحران پھیلنے کا خطرہ ہے۔ غریب، مقروض ممالک کو بدلتے ہوئے معاشی دباؤ کا سامنا ہے اور بہت سے لوگوں کو اپنے قرض کی ادائیگی یا نئی مالی اعانت تک رسائی ناممکن نظر آتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 54 میں سے 46 ممالک نے 2020 میں مجموعی طور پر 782 ارب ڈالر کا عوامی قرضہ لیا۔ اس رقم میں ایک تہائی سے زیادہ حصہ صرف ارجنٹائن، یوکرین اور وینزویلا کا ہے۔

یو این ڈی پی کے چیف اکانومسٹ جارج گرے مولینا نے صحافیوں کو بتایا کہ تمام ترقی پذیر معیشتوں میں سے ایک تہائی نے اس دوران اپنے قرضوں کو 'کافی خطرے، انتہائی قیاس آرائی یا ڈیفالٹ‘ کے طور پر دیکھا ہے۔

یو این ڈی پی عہدیدار نے اس امید کا اظہار کیا کہ بین الاقوامی برادری آخرکار اس بات کو تسلیم کر لے گی کہ یہ کارروائی سب کے مشترکہ مفاد میں ہے۔ روک تھام علاج سے بہتر ہے اور یقینی طور پر عالمی کساد بازاری سے نمٹنے کے مقابلے میں بہت سستا ہے۔