نواز شریف کی جذباتی مگر محتاط گفتگو
- تحریر نصرت جاوید
- منگل 11 / اکتوبر / 2022
نواز شریف صاحب کی شخصیت اور سیاست کی با بت عمومی طور پر غیر مطمئن افراد بھی اگر غیر جانب دار ہو کر سوچیں تو اس تاثر کی نفی کرنا ممکن نہیں کہ وہ محض عمران خان صاحب کی جارحانہ سیاست ہی کی وجہ سے وزارتِ عظمیٰ سے فارغ نہیں ہوئے تھے۔
ریاست کے ستون کہلاتے کئی دائمی اداروں نے بھی انہیں انتہائی منظم انداز میں گھیرا۔ ثاقب نثار کی سرپرستی میں چلائے عدالتی عمل نے اس ضمن میں کلیدی کردار ادا کیا۔ نواز شریف اس عمل کو بھولے نہیں ہیں۔ اتوار کے دن لندن میں مقیم صحافیوں کے جس چنیدہ گروپ سے انہوں نے جو گفتگو کی وہ سابق وزیر عظم کے دل میں جمع ہوئے غبار کا اظہار تھا۔
مذکورہ اظہار نے ان کے دیرینہ حامیوں کو یقیناً بہت کچھ سوچنے کو اکسایا ہو گا۔ ملکی سیاست کا دیرینہ شاہد ہوتے ہوئے اگرچہ میں یہ اصرار کرنے کو مجبور محسوس کر رہا ہوں کہ طویل خاموشی کے بعد نسبتاً تفصیلی انداز میں ہوئی گفتگو کے دوران بھی اپنے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے نواز شریف صاحب نے ”اصل بات“ آشکار نہ کی۔ اس بنیادی سوال پر کماحقہ توجہ بھی نہیں دی کہ وہ آئندہ چند ہفتوں میں اپنی دختر سمیت وطن لوٹ کر اپنے نام سے منسوب مسلم لیگ کا عملی اور کامل کنٹرول سنبھالنے کی تیاری کر رہے ہیں یا نہیں۔
نواز شریف صاحب کے ساتھ میری آخری ملاقات 2013 کے انتخابات کے لئے چلائی مہم کے دوران ایک ٹی وی انٹرویو کی وجہ سے ہوئی تھی۔ اس کے بعد ان سے براہِ راست ملاقات کا کبھی موقعہ نہیں ملا۔ وہ جب وزیر اعظم تھے تو 2016 کے اوائل میں البتہ مریم نواز شریف صاحبہ سے ایک ملاقات ہوئی تھی۔ بعدازاں ان سے ایک ٹی وی انٹرویو کی خاطر بھی ملا تھا جب سابق وزیر اعظم لندن میں دل کا آپریشن کروا رہے تھے۔ مریم نواز صاحبہ سے بھی اس کے بعد کبھی براہِ راست ملاقات نہیں ہوئی۔ نواز شریف صاحب سے براہِ راست ملاقات ہو بھی جائے تو کائیاں ترین رپورٹر کے لئے بھی ان سے ”دل کی بات“ نکلوانا ممکن نہیں۔ بہت مہذب انداز میں وہ اہم معاملات کی بابت اپنی رائے کا اظہار کرنے کے بجائے سوال کرنے والے سے اس کی رائے معلوم کرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ یوں ان کے ساتھ ہوئی لمبی ملاقات بھی ”اَن کہی“ باتوں کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے۔ نواز شریف صاحب کی ذات اور سوچ تک عدم رسائی کے اعتراف کے بعد میں ان کے دل میں جمع ہوئی باتوں کو آشکار کرتے ہوئے احمقانہ ڈھٹائی یا خود کو عقل کل ثابت کرنے کا مظاہرہ کرتا ہی محسوس ہوں گا۔
گزشتہ چند دنوں میں مسلم لیگ (نون) کے چند قد آور رہ نماﺅں کی گفتگو کو بہت توجہ سے سننے کے بعد اگرچہ یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ نواز شریف صاحب کا وسوسوں بھرا دل ابھی تک یہ تسلیم کرنے کو مائل نظر نہیں آرہا کہ پاکستان کی سیاست کا منظر نامہ تیار کرنے والے حتمی فیصلہ سازوں نے یکسو ہو کر عمران خان صاحب کو سبق سکھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ عمران خان بذاتِ خود تو عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے ”محافظوں“ کو ”چور اور لٹیروں“ کی سرپرستی کے طعنے دیتے رہتے ہیں۔ ان کے چند بااعتماد ساتھی مگر اپنے ٹویٹس اور ٹی وی انٹرویوز کے ذریعے مسلسل یہ تاثر پھیلانے میں مصروف ہیں کہ ”محافظ“ ان کے قائد کے ساتھ رابطے میں ہیں اور صدر عارف علوی اس ضمن میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس دعویٰ کو ابھی تک کھل کر متعلقہ حلقوں نے رد نہیں کیا ہے جو یقینا نواز شریف صاحب کے دل میں موجود شک کو تقویت پہنچا رہا ہو گا۔
لندن میں مقیم نواز شریف صاحب کو یہ جاننے کے لئے مجھ جیسے رپورٹر کے کالم پڑھنے کی ضرورت نہیں کہ شہباز شریف صاحب کے وزیر اعظم بن جانے کے بعد نمودار ہوئے مہنگائی کے عذاب نے اس ووٹ بینک کو شدید زک پہنچائی ہے جو 1985 سے سابق وزیر اعظم نے نہایت لگن سے تیار کیا تھا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ناقابل برداشت اضافے کے علاوہ گزشتہ تین مہینوں سے آرہے بجلی کے بلوں نے مسلم لیگ (نون) کے ”پکے ووٹروں“ کو بھی بلبلانے کو مجبور کر دیا ہے۔ وسیع تر پیمانے پر پھیلی مایوسی اور بلبلاہٹ بالآخر مفتاح اسماعیل کی فراغت کا باعث ہوئی۔ ان کی جگہ لینے کے لئے اسحاق ڈار صاحب کی وطن واپسی کی راہ نکالنا پڑی۔
ڈار صاحب کی آمد کے بعد ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی رونما ہونا شروع ہو گئی ہے۔ غریب ترین پاکستانی بھی لیکن بنیادی ضرورت کی جو پچاس اشیاء خریدنے کو مجبور ہے ان کی قیمتوں میں نمایاں کمی رونما نہیں ہو رہی۔ مسلم لیگ (نون) کے حامی اگرچہ یہ توقع باندھے ہوئے ہیں کہ ڈار صاحب اس ضمن میں بھی کوئی جگاڑ دریافت کرلیں گے۔ ڈار صاحب سے معجزوں کی توقع باندھتے ہوئے لیکن یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ایک بار پھر بڑھنا شروع ہو گئی ہے۔ روسی تیل کی فروخت پر مختلف النوع پابندیاں عائد کرنے کے بعد امریکہ کی بائیڈن انتظامیہ نے اپنے تیل کے ہنگامی حالات کی خاطر جمع کئے ذخائر سے عالمی منڈی کو تیل فراہم کرنا شروع کر دیا تھا۔ روس اور سعودی عرب نے مگر اوپیک تنظیم میں یکسو ہو کر یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنا تیل بازار میں معمول سے کم سطح پر فراہم کریں گے۔ ان کی جانب سے رسد میں لائی کمی طلب بڑھائے گی جو تیل کی قیمت کو دوبارہ سو ڈالر فی بیرل تک لے جاسکتی ہے۔ا مریکہ مذکورہ امکان کا مناسب توڑ ا بھی تک ڈھونڈ نہیں پایا ہے۔
پاکستان اس کے منفی اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ ہماری کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت مناسب سطح پر واپس لوٹ بھی آئی تو ہمیں بالآخر پیٹرول پمپوں پر زیادہ دام ہی ادا کرنا ہوں گے۔ پیٹرول پمپ پر گیا صارف عالمی منڈی کے ”حقائق“ کو ذہن میں نہیں رکھتا۔ جو جماعت یا شخص بھی حکومت میں ہو اسے مہنگائی کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ عمران خان صاحب اس تناظر میں خوش نصیب ثابت ہو رہے ہیں۔ اپنے حامیوں کے علاوہ عام پاکستانیوں کی کماحقہ تعداد کو بھی یہ سوچنے کو مجبور کر رہے ہیں اگر انہیں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے رواں برس کے اپریل میں وزارت عظمیٰ سے فارغ نہ کیا جاتا تو پاکستان کے معاشی حالات غالباً اس قدر دگرگوں نہ ہوتے۔ت
حریک انصاف اس تاثر کا بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے جس کو رد کرنے کے لئے فی الوقت شہباز حکومت کے پاس کوئی ٹھوس چال نظر نہیں آ رہی۔ نواز شریف صاحب کی جانب سے اتوار کے روز ہوئی جذباتی مگر محتاط گفتگو کو اس تناظر میں دیکھنا ہو گا۔
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)