عالمی بینک نے سیلاب سے نقصانات کا تخمینہ 40 ارب ڈالر لگایا ہے: شیریٰ رحمٰن
وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ عالمی بینک نے سیلاب سے نقصانات کا تخمینہ 40 ارب ڈالر لگایا ہے۔ 21 لاکھ گھر تباہ ہوئے ہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں 79 فیصد فصلیں تباہ ہوگئی ہیں، بلوچستان میں 53 فیصد، پنجاب میں 15 فیصد اور خیبرپختونخوا میں 14 فیصد جبکہ آزاد کشمیر میں 25 فیصد فصلیں تباہ ہوئی ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پانی اب بھی بہت جگہوں پر کھڑا ہے، حالات بہت سنگین ہیں، وہ علاقے جو سمندر کی سطح سے نیچے ہیں وہاں سے پانی نکالنا بہت مشکل ہے اور یہ عمل ہمارے لیے پہلی دفعہ کا ہے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی موسمیاتی آفت بن چکی ہے۔ حالیہ سیلاب کی شدت ایسی ہے کہ پوری دنیا نے ایک صدی میں ایسی موسمیاتی تباہی نہیں دیکھی، اس نے ریکارڈ توڑے ہیں۔
شیری رحمٰن نے کہا کہ عالمی بینک نے سیلاب سے نقصانات کا تخمینہ 40 ارب ڈالر لگایا ہے، 3 کروڑ 30 لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں وہ بھی بہت بڑی تعداد ہے۔ یہ تعداد آسٹریلیا جیسے بڑے ملک کی آبادی سے بھی 70 لاکھ زیادہ ہے۔ 2010 کے سیلاب میں 2 کروڑ افراد متاثر تھے، 2 کروڑ سے زائد افراد کو اب بھی امداد کے منتظر ہیں۔ اس چیلنج سے نبردآزما ہونے کسی ایک ملک کے لیے بہت مشکل کام ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریسکیو کا کام ختم ہو گیا ہے، اموات کی خبریں نہیں آرہی لیکن ریلیف آپریشن اب بھی چل رہا ہے۔ اتنے لمبے عرصے کے لیے کوئی بھی ریلیف آپریشن کے لیے نہیں گیا، وسط جون سے اب تک 1770 افراد لقمہ اجل بنے ہیں، اور 12 ہزار 867 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
13 ہزار کلو میٹر سڑکیں تباہ ہوچکی ہیں، ان کی ازسرنو تعمیر کرنے کے لیے وسائل درکار ہوں گے۔ 436 پل مکمل تباہ ہوچکے ہیں، طبی صحت کی 14 سو سہولتیں زیادہ تر تباہ یا ناکارہ ہوچکی ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے اعداد وشمار کے مطابق 82 لاکھ افراد کی فوری طور پر صحت کی دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے گیارہ اضلاع میں اب بھی پانی کھڑا ہے، وہاں کبھی اتنی بارشیں نہیں ہوئیں، 6 لاکھ خیمے بن چکے ہیں۔ اب بھی 79 لاکھ افراد کو امداد کی ضرورت ہے۔
94 ملین ایکڑ پر فصلیں تباہ ہوچکی ہیں، اس وجہ سے براہ راست ایک کروڑ 46 لاکھ افراد متاثر ہوں گے۔ اس سے ملک کے درآمدی بل پر بھی بڑا اثر پڑے گا۔ گندم کی بوائی کا سیزن آ رہا ہے، اس میں بھی لوگ متاثر ہوں گے۔ اس وجہ سے ایک کروڑ 54 لاکھ لوگ مزید غربت کی لکیر کے نیچے چلے جائیں گے۔