عمران خان کی ضد اور تاریخ کا سبق
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- بدھ 12 / اکتوبر / 2022
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ذوالفقار علی بھٹو ایک کرشماتی اور طلسمانی شخصیت کے طور پر جانے اور پہچانے جاتے ہیں ۔قومی سیاست میں وہ پچھلے دروازے سے داخل ہوئے،اپنی ذہانت اور قابلیت کا لوہا منواتے ہوئے جنرل ایوب خان کی کابینہ میں شامل ہوئے،اقتدار کی پُرپیچ راہوں پر چلتے چلتے، سیاسی رہنما بنے، پاکستان پیپلزپارٹی تشکیل دی۔
اس دوران نظریاتی سیاست کے بانی کہلائے،عوام کی طاقت بروئے کار لانے کے لیے انہوں نے ”اسلام ہمارا دین ہے“ اور ”سوشلزم ہماری معیشت ہے“ جیسے نعرے دیے اور انہیں بتایا کہ ”طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں“۔ سہ نکاتی ایجنڈے پر پیپلزپارٹی کو چلایا اور سقوط ڈھاکہ کے بعد کٹے پھٹے پاکستان کی قیادت سنبھالی۔1973 کا متفقہ آئین دیا، جنگی قیدی واپس لائے،شملہ معاہدہ کیا۔پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، بہت بڑے مسئلے، قادیانی مسئلے کو آئینی اور دینی طریقے سے حل کیا۔ اپنے خاندانی پس منظر کے باعث بھٹو ذہین فطین ہونے کے ساتھ ساتھ آمرانہ ذہنیت کے مالک بھی تھے۔ انہوں نے اپنی پارٹی کی تشکیل کے بعد اپنے ہی پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ بھی اس قسم کا رویہ اختیار کیا۔کئی سینئر اور نظریاتی رہنما ان سے الگ ہو گئے، اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ بھی ان کا رویہ آمرانہ ہی رہا۔
خواجہ رفیق،ڈاکٹر نذیر اور کئی سیاسی رہنماؤں کے قتل کے حوالے سے بھی معاملات شفاف نہیں سمجھے جاتے تھے۔بھٹو کو ایسے ہی ایک سیاسی قتل کی پاداش میں تختہ دار پر لٹکایا گیا۔اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ”عدالتی قتل“ تھا یعنی جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹوکو سیاسی منظر سے ہٹانے کے لیے عدلیہ کے ذریعے انہیں تختہ دار پر لٹکایا۔لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قتل کی ایف آئی آر انہی کے دور، انہی کے ایک ایم این اے نے درج کرائی تھی۔ ضیاء الحق کے دور میں اس مقدمے کو مقتول کی بیوی نے اٹھایا تھا ۔ہاں جنرل ضیاء الحق نے اس ایشو کو اپنے حق میں استعمال کیا اور بھٹو کو راستے سے ہٹا دیا۔
1977 میں ہونے والے عام انتخابات کے بارے میں ذوالفقار علی بھٹو کو2/3 اکثریت حاصل ہونے کی امید تھی لیکن اپوزیشن کی تحریک کے نتیجے میں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات متنازع ہو گئے اور اگلا مرحلہ بائیکاٹ کی نظر ہو گیا۔تحریک چلی اس میں تشدد داخل ہوا اور پھر تیسری قوت آ گئی۔ مارشل لاء لگ گیا۔ دورِ حاضر میں عمران خان لاریب ایک کرشماتی شخصیت کے مالک ہیں انہوں نے کرپشن اور اشرافیہ کی ناانصافیوں کے خلاف ایک بیانیہ تشکیل دیا۔ نوجوانوں کو جوش دلایا،اپنے ساتھ ملایا، ماڈرن کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے انہوں نے عوام میں اپنی پذیرائی کا تاثر گہرا کرنے کی کوشش کی۔ لیکن اپنی شہرت کو ووٹ اور پھر اسمبلی نشستوں میں ڈھالنے میں کامیاب نہ ہوئے حتیٰ کہ انہوں نے یو ٹرن لیا۔بڑوں کے ساتھ مل کر الیکٹ ایبلز کی معاونت اور الیکشن کمیشن کی رضا مندی کے ساتھ2018میں وہ اقتدار میں آ گئے۔کارکردگی کا خانہ خالی ہوتے اور اپنی آمرانہ روش کے باعث وہ بری طرح ناکام ہوئے،بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے ان سے ناراض ہوئے،بیساکھیاں ہٹیں تو ان کے اقتدار کا دھڑن تختہ ہو گیا۔
اپریل2022 میں اقتدار سے رخصتی کے بعد سے ہنوز وہ بڑی کامیابی کے ساتھ اقتدار میں واپسی کی مہم چلا رہے ہیں۔1977کے بھٹو کی طرح انہیں بھی یقین ہے کہ وہ انتخابات میں 2/3 اکثریت حاصل کر لیں گے، اسی لئے وہ قبل ازوقت انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی قبل از وقت انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا۔عمران خان بزعم خود ہی ایسا کچھ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ عوامی رابطہ مہم کے ذریعے وہ اپنے فین کلب کے ممبران کو گرما رہے ہیں۔ لانگ مارچ اور دھرنے کی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔ حکومت اپنی رٹ قائم کرنے کے لیے یکسو نظر آ رہی ہے تیاریاں بھی بھرپور ہیں۔رانا ثناء اللہ لانگ مارچ کے شرکاء سے ”شایانِ شان استقبال“ کرنے کے لیے بھرپور انداز میں تیاری کر چکے ہیں۔
طرفین افریقین نے بڑی واضح پوزیشن لے لی ہے اب دونوں کا اپنے اپنے موقف سے ہٹنا شاید ممکن نہیں ہو گا۔عمران خان صاحب معاملات کو اتنی انتہا تک لے جا چکے ہیں کہ اس سے واپسی ان کی سیاسی موت ہو گی ۔وہ اتحادی حکومت کو مفلوج کر کے جھکانا ہی نہیں چاہتے بلکہ اسے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ فوری انتخابات کا مطالبہ تو اب ایک انہونی بات لگتی ہے ویسے وہ خود بھی فوری انتخابات کے زیادہ متمنی نہیں ہیں ۔کیونکہ وہ جس زبان سے انتخابات کا مطالبہ کرتے ہیں اسی سے حکومت کو نہ ماننے کا اعلان بھی کرتے ہیں نیوٹرلز کو بھی للکارتے ہیں۔چیف الیکشن کمیشن کو بھی صلواتیں سناتے ہیں، اسے جانبدار قرار دیتے ہیں پھر الیکشن کیسے ہو گا۔
وہ اسمبلی میں بھی نہیں جاتے وہاں استعفیٰ دے چکے ہیں لیکن سپریم کورٹ میں بھی جاتے ہیں کہ ہمارے استعفے اس طرح منظور نہ کیے جائیں۔ ان کی حرکات و سکنات مکمل طور پر اجماع ضدین کی عکاس ہیں وہ صرف اور صرف معاملات کو لاینحل مقام تک لے جا رہے ہیں بلکہ لے جا چکے ہیں اگر لانگ مارچ ہوتا ہے تو تصادم لازمی ہو گا،تشدد ہو گا، خون خرابہ ہو گا، پھر کیا ہو گا۔ممکن ہے سپریم کورٹ مداخلت کرے جیسا کہ25مئی کو کی تھا لیکن عمران خان نے تو سپریم کورٹ کے واضح احکامات کی خلاف ورزی کی، دنگا فساد کیا۔ ویسے تاریخ کا ایک مستند سبق ہے کہ وہ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔