بھارت ذمہ داری کا مظاہرہ کرے تو پاکستان بات چیت کے لئے تیار ہے: وزیر اعظم
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم خطے کی خوشحالی اور امن کے لیے بھارت کے ساتھ بات چیت کرنے کو تیار ہیں لیکن سنجیدہ، بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے بھارت کو اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
قازقستان میں ہونے والے ایشیا میں روابط و اعتماد سازی کے اقدامات سے متعلق سربراہی اجلاس (سیکا) سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے ہم بھارت میں اپنے ہم منصب کے ساتھ سنجیدہ بات چیت کے لیے بالکل تیار ہوں۔ بشرطیکہ وہ اس مقصد کے لیے خلوص کا مظاہرہ کریں اور یہ ظاہر کریں کہ وہ ایسے مسائل پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں جنہوں نے کئی دہائیوں سے ہمارے درمیان فاصلے رکھے ہیں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے الگ رکھنے والے مسائل نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ میں رکاوٹ ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ 'اسے روکنے کی ضرورت ہے'۔ لیکن یہ بھارت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بامعنی اور نتیجہ خیز رابطوں کے لیے ضروری اقدامات کرے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان، بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کا خواہاں ہے۔ 7 دہائیوں سے بھارت، کشمیر کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی قرادادوں کو نظر انداز کر رہا ہے۔ آج بھارت اپنی اقلیتوں، ہمسایہ ممالک، خطے اور خود اپنے لیے ایک خطرہ بن چکا ہے۔ اس کے باوجود ہم بھارت سے بات چیت کے لیے تیار ہیں کیوں کہ ہم خطے میں مزید غربت، بے روزگاری کے متحمل نہیں ہوسکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے عوام کو صحت، تعلیم اور روزگار فراہم کرنے کے لیے زیادہ وسائل مختص کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم بھارت کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن سنجیدہ، بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے بھارت کو اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیر اعظم نے بتایا کہ پاکستان کو اس وقت بدترین قدرتی آفت کا سامنا ہے۔ بے مثال بارشوں نے میرے ملک کے ایک تہائی حصے کو ڈبو دیا ہے جو بلا شک و شبہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات ہیں۔ ابتدائی تخمینے کے مطابق ہماری معیشت کو 30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا ہے اور میں نے گزشتہ کئی ہفتوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جاکر اس تباہی کا خود اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی جانب سے تمام تر وسائل کا رخ ریسکیو، ریلیف اور ری ہیبلیٹیشن کی جانب موڑ دیا ہے لیکن ہمارے پاس کافی امداد نہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کی طاقت نے ہم پر غلبہ پالیا ہے۔ وہ چیز جو اس صورتحال کو مزید اندوہناک بنا رہی ہے وہ یہ ہے کہ حالانکہ پاکستان عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں صرف ایک فیصد کا ذمہ دار ہے، لیکن ہم ان 10 ممالک میں شامل ہیں جو موسمیاتی تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ اس تباہی نے پاکستان کو کئی دہائی پیچھے دھکیل دیا ہے۔ بچوں سمیت ایک ہزار 600 سے زائد پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، ہزاروں کلومیٹر طویل سڑکیں بہہ گئیں، پورے پورے گاؤں پانی میں ڈوب گئے، کپاس، چاول اور گندم کی فصلیں تباہ ہوئیں۔
انہوں نے بتایا کہ زمین کا بڑا حصہ آج سمندر کا منظر پیش کر رہا ہے، وہاں نیوی کی کشتیاں چل رہی ہیں جہاں کبھی بچے کرکٹ اور فٹ بال کھیلا کرتے تھے۔ پاکستان کو فوری مدد کی ضرورت ہے۔ ہمارے 3 کروڑ 30 لاکھ افراد دربدر ہوئے جو دنیا کے کئی ممالک کی مجموعی آبادی سے بڑی تعداد ہے، ان افراد کی دوبارہ آبادکاری کی ضرورت ہے۔