قومی اسمبلی کے 8، پنجاب اسمبلی کے 3 حلقوں پر ضمنی انتخابات اتوار کو ہوں گے

  • ہفتہ 15 / اکتوبر / 2022

قومی اسمبلی کے 8 اور پنجاب اسمبلی کے 3 حلقوں میں اتوار کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں دلچسپ مقابلے کی توقع ہے۔  ملک کی سیاسی تاریخ میں یہ منفرد مثال ہو گی کہ ایک امیدوار (چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان) 8 میں سے 7 نشستوں پر انتخاب لڑ رہا ہے۔

ضمنی انتخابات 3 صوبوں میں ہوں گے۔ پنجاب میں قومی اسمبلی کی 3 اور صوبائی اسمبلی کی 3 نشستیں خالی ہیں۔ خیبرپختونخوا میں قومی اسمبلی کی 3 نشستوں کے لیے انتخابات ہوں گے اور سندھ میں قومی اسمبلی کی 2 نشستوں کے لیے امیدوار مدمقابل ہوں گے۔

آزاد امیدواروں سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے کُل 101 امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ پنجاب میں 52، سندھ میں 33 اور خیبرپختونخوا میں 16 امیدوار ہیں، ان حلقوں میں تقریباً 44 لاکھ 72 ہزار ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔

پنجاب میں  پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے امیدواروں کے درمیان ان انتخابات میں زبردست مقابلہ متوقع ہے۔ این اے 157 ملتان سے شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی مہربانو قریشی پی ٹی آئی کی امیدوار ہیں جن کے مدمقابل پیپلز پارٹی کے علی موسیٰ گیلانی ہیں۔

فیصل آباد8 میں این اے 108 میں عابد شیر علی اور این اے 118 میں مسلم لیگ (ن) کی شزرا منصب علی عمران خان کے مدمقابل ہیں۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پولنگ کے روز امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات کی جائے گی۔ ریٹرننگ افسران پولنگ سے ایک روز قبل انتخابی مواد پریزائیڈنگ افسران کے حوالے کریں گے۔

پنجاب میں ایک ہزار 434، خیبرپختونخوا میں 979 اور کراچی میں 340 پولنگ اسٹیشنز قائم ہیں۔ انتخابی مہم گزشتہ شب اختتام پذیر ہوگئی تھی۔

عمران خان اپنی پارٹی کی انتخابی مہم بھرپور طریقے سے چلا رہے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے لیے گزشتہ تمام ضمنی انتخابی مہم کی قیادت کرنے والی سینئر رہنما مریم نواز اپنے والد نواز شریف سے ملنے لندن میں  ہیں۔

جولائی میں پنجاب میں ہونے والے گزشتہ ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی نے تمام تجزیہ کاروں کی توقعات کے برعکس صوبائی اسمبلی کی 20 نشستوں میں سے 15 پر کامیابی حاصل کی تھی۔

کراچی میں ملیر اور کورنگی میں قومی اسمبلی کی 2 نشستوں پر ضمنی انتخاب کے انتظامات کو حتمی شکل دی جا چکی ہے جہاں پی ٹی آئی کے علاوہ تمام مد مقابل جماعتیں متاثر کن انتخابی مہم چلانے میں ناکام رہیں۔ کراچی کے لیے اتوار کو ہونے والے ضمنی انتخابات اہم ہوں گے کیونکہ یہ 23 اکتوبر کو شہر میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے محض ایک ہفتہ قبل ہورہے ہیں۔ جیتنے والی پارٹی کو کراچی کی مقامی حکومت کے لیے ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں تقویت ملے گی۔

این اے 239 کے لیے 22 امیدوار میدان میں ہیں، عمران خان، ایم کیو ایم (پاکستان) کے نئیر رضا اور ٹی ایل پی کے محمد یاسین کے درمیان سخت مقابلے کا امکان ہے۔ دوسرے حلقے کا رقبہ بہت زیادہ ہے لیکن ووٹرز کی تعداد کم ہے۔ یہاں بھی عمران خان اور پیپلزپارٹی کے عبدالحکیم بلوچ کے درمیان بھرپور مقابلے کا امکان ہے۔