بے ربط و غیر منظم جوہری پروگرام کی وجہ سے پاکستان دنیا کا خطرناک ترین ملک ہے: امریکی صدر

  • ہفتہ 15 / اکتوبر / 2022

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اُن کے خیال میں پاکستان شاید ’دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک ہے‘ جس کے جوہری ہتھیار غیر منظم اور بے ربط ہیں۔

بائیڈن نے پاکستان سے متعلق یہ تبصرہ ڈیموکریٹک کانگریشنل کیمپین کمیٹی کے استقبالیے میں کی گئی اپنی تقریر کے دوران کیا۔ یہ تقریب جمعرات کے روز منعقد ہوئی تھی۔ امریکی صدر کے یہ ریمارکس بدلتے عالمی سیاسی منظرنامے کے تناظر میں دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے سیاسی منظرنامے میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے اور متعدد ممالک اپنے اتحاد کے بارے میں نظرثانی کر رہے ہیں۔

بی بی سی کی جانب سے اس بارے میں پاکستان کی وزارتِ خارجہ سے ردِعمل حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا ہے تاہم تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔ اب سے کچھ دیر قبل پاکستان کے وفاقی وزیرِ توانائی خرم دستگیر نے ایک پریس کانفرنس کے دوران سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر نے ’پاکستان سے متعلق جن شکوک و شبہات کا ذکر کیا ہے وہ بالکل بے بنیاد ہیں۔ پاکستان کا جوہری کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بالکل محفوظ ہے۔‘

خرم دستگیر جو مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں وزیرِ دفاع بھی رہ چکے ہیں کا کہنا تھا کہ پاکستان کے جوہری پروگرام کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بالکل محفوظ ہے اور کئی عالمی تنظیمیں درجنوں بار پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے محفوظ ہونے کی تصدیق کر چکی ہیں۔

خیال رہے کہ رواں ہفتے کے آغاز میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ پاکستان جو ایک عرصے تک امریکہ کا اہم شراکت دار رہا تھا اس کے بارے میں امریکہ کی نیشنل سکیورٹی سٹریٹیجی 2022 کی رپورٹ میں کوئی تذکرہ تک نہیں تھا جبکہ اس رپورٹ میں چین کو ’امریکہ کا سب سے اہم جیو پولیٹیکل چیلنج‘ قرار دیا گیا ہے۔ 48 صفحات پر مشتمل دستاویز میں جنوبی اور وسطی ایشیائی خطے میں دہشتگردی اور دیگر جیو سٹریٹیجک خطرات کا ذکر تو موجود ہے لیکن گزشتہ برسوں کے برعکس اس میں پاکستان کو ان خطرات سے نمٹنے کے لیے بطور اتحادی نہیں لکھا گیا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کا نام 2021 کے سٹریٹجی پیپر میں بھی موجود نہیں تھا۔

بائیڈن نے اس تقریر میں مزید کہا کہ ’اور سچ بات یہ ہے اور میں اس پر یقین رکھتا ہوں کہ دنیا ہماری طرف دیکھ رہی ہے۔ یہ مذاق ہرگز نہیں۔ ہمارے دشمن بھی ہماری جانب دیکھ رہے ہیں اور یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ ہم کیا کرتے ہیں، معاملات کا حل کیسے نکالتے ہیں۔‘ اس وقت بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ امریکہ کے پاس دنیا کو ایک ایسی جگہ لے جانے کی صلاحیت ہے جہاں وہ اس سے پہلے نہیں تھی۔

’کیا آپ میں سے کسی نے کبھی یہ سوچا تھا کہ کیوبا میزائل بحران کے بعد سے کوئی ایسا روسی رہنما آئے گا جو ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں دھمکی دے گا۔ ایسا ہتھیار جو تین سے چار ہزار افراد کو ہلاک کرنے کی صلاحیت رکھنے والا محدود ہتھیار ہے۔ کیا کسی نے کبھی یہ سوچا تھا کہ چین ایک ایسی صورتحال میں ہو گا جہاں وہ روس، انڈیا اور پاکستان سے اپنے تعلقات کے حوالے سے نظرِ ثانی کر رہا ہو گا‘۔

بائیڈن نے اپنی تقریر میں اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے بارے میں بھی تفصیل سے بات کی اور کہا کہ وہ ایک ایسے شخص ہیں جنہیں معلوم ہے کہ انہیں کیا چاہیے لیکن انہیں ’غیرمعمولی‘ مشکلات کا سامنا ہے۔

حالیہ دنوں میں پاکستان اور امریکہ کے حکام کی جانب سے پاکستان امریکہ تعلقات کو افغانستان اور انڈیا کے تناظر سے ہٹ کر ایک علیحدہ شناخت دینے کی بات کی گئی ہے۔ خیال رہے کہ امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کی جانب سے منگل کو کہا گیا تھا کہ امریکہ ’پاکستان سے طویل مدتی روابط کی قدر کرتا ہے‘ اور متعدد شعبوں میں دونوں ممالک کے مفاد یکساں ہیں۔