مفاہمت پر مبنی سیاست کا ایجنڈا کیا ہوگا؟
- تحریر سلمان عابد
- ہفتہ 15 / اکتوبر / 2022
پاکستان کے سیاسی، معاشی اور ریاستی بحران کا حل مفاہمت پر مبنی سیاست ہے۔ سیاسی استحکام ہی معاشی اور ریاستی استحکام کو تقویت دیتا ہے۔یہ تھیوری قابل عمل نہیں کہ ہم معاشی استحکام کے لئے سیاسی استحکام کو پیچھے چھوڑ دیں۔
مقابلہ مفاہمت پر مبنی اورمحاذ آرائی پر مبنی طرز کی سیاست کا ہے۔ کیونکہ محاز آرائی اور الزام تراشیوں کی سیاست نے حکومت، اپوزیشن اور ریاستی اداروں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑاکیا ہے۔آج ہماری سیاست،جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کا نظام جس بند گلی میں ہے اس سے باہر نکلنے کا راستہ مفاہمت سے ہی نکل سکتا ہے۔
پاکستان کی سیاست میں تمام طاقت ور فریقین یا فیصلہ ساز یہ اعتراف کرتے ہیں کہ ہمیں موجودہ حالات میں مفاہمت پر مبنی سیاست درکار ہے۔ لیکن منطق یہ دی جاتی ہے کہ جب تک تمام فریقین مل کر نہیں بیٹھیں گے نہ تو مفاہمت ممکن ہوگی اور نہ ہی سیاسی و معاشی استحکام پیدا ہوگا۔اس وقت بھی پس پردہ یا طاقت ور فریقین کے درمیان کسی نہ کسی سطح پر مذاکرات کا عمل چل رہا ہے۔ اس کا اعتراف اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے کئی سیاسی پنڈت بھی کررہے ہیں۔ خود عمران خان نے بھی یہ اشارہ دیا ہے کہ فیصلہ ساز افراد یا ادارو ں کے ساتھ بات چیت کا عمل جاری ہے ۔اسی طرح حکمران جماعت میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو کبھی میثاق معیشت یا پہلے سے موجود میثاق جمہوریت کو کسی نئی شکل میں سامنے لانا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب سب فریقین مفاہمت چاہتے ہیں تو پھر رکاوٹ کیا ہے او رکیوں ہم مفاہمت کے لیے تیار نہیں۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ اس وقت سیاسی، حکومتی، معاشی اور ریاستی حالات آسان نوعیت کے نہیں بلکہ یہ تمام مسائل کافی سنجیدہ وپیچیدہ ہیں۔ یہ مسائل کسی سیاسی تنہائی یا ایک فریق کے کردار سے ختم نہیں ہوسکتے۔ ہم کو ہر صورت میں تمام فریقین کے درمیان مکالمہ درکار ہے۔ یہ مکالمہ محض سیاسی فریقین تک ہی محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے دائرہ کار میں دیگر فریقین کو آنا ہوگا۔ جب سب فریقین بالخصوص سیاسی فریقین یہ گلہ کرتے ہیں کہ ہمارے کاموں میں دیگر فریقین کی جانب سے مداخلت ہوتی ہے تو پھر معاملات کا حل محض سیاسی قیادت تک ہی محدود نہیں ہوسکتا۔ اس میں دیگر فریقین کو بھی شامل کرنا ہوگا تاکہ متفقہ یا مشاورت کی مدد سے ہم بطور ریاست آگے بڑھنے کے لیے کسی بڑے نتیجے پر پہنچ سکے۔ ضروری ہے کہ ہم بند دروازوں کو کھولیں او رمل کر آگے بڑھنے کا محفوظ راستہ تلاش کریں۔
مفاہمت میں تین بڑے مسائل موجود ہیں۔ اول سیاسی و دیگر فریقین کے درمیان بداعتمادی کا ماحول او رایک دوسرے پر اعتماد کرنے کی بجائے الزامات اور واشنام تراشی کا ماحول۔ دوئم مفاہمت کا براہ راست تعلق ریاستی و عوامی مفاد کی بجائے ذاتیات پر مبنی مفادات سے ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری ’مفاہمت کی سیاست‘ مفادات کی تکمیل کا ہتھکنڈا بن جاتی ہے۔سوئم ہماری مفاہمت کا مقصد قومی ترقی، معاشی انصاف کی بجائے اقتدار کی بند بانٹ میں طاقت کے مراکز کے ساتھ کچھ لو او رکچھ دو کی بنیاد پر سیاسی لین دین ہوتا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ آج تک کی قومی سیاست میں مفاہمت ہمیں مطلوبہ سیاسی نتائج نہیں دے سکی۔
ایک المیہ یہ ہے کہ ہم ہر سیاسی دور میں کسی ایک فریق، جماعت یا سیاسی شخصیت کو ٹارگٹ کرکے اسے مفاہمت میں بڑی رکاوٹ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ماضی لے کر آج تک یہ ہی دیکھنے میں آیا ہے کہ اقتدار کے لئے سیاسی مخالفین کا خاتمہ، اسٹیبلیشمنٹ سے جوڑ توڑ، خاندانوں کی بالادستی یا اداروں کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنے تک محدود ہوگئی ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ مفاہمت کا لفظ قبول عام حاصل نہیں کرسکا۔ یہ سوال لوگوں کے زہنوں میں موجود ہے کہ کسی کی حمایت یا مخالفت میں اقدامات کے پیچھے اصل کردار کون ہیں۔ مفاہمت کے لئے چند بڑے چیلنجز نمایاں ہیں۔ ان میں وسائل کی صاف و شفاف منصفانہ تقسیم، شہری اور دیہی تقسیم، ملک کی سطح پر انصاف کے نظا م کی بہتری، مہنگائی، بے روزگاری، اشیا خورد نوش کی قیمتو ں میں اضافہ جیسے مسائل موجود ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اس وقت ملک کا نظام عام آدمی کی توقعات پر پورا نہیں اترتا۔ جمہوریت او رسیاسی نظام اصلاحات کی بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے۔ اگر ہم نے اپنے نظام میں سے اصلاحاتی ایجنڈے کو ہی تقویت نہیں دینی او راداروں کو اپنی مرضی اور منشا کے مطابق چلانا ہے تو پھر اداروں کی خود مختاری اور شفافیت کیسے ممکن ہوسکے گی۔ مفاہمت کی سیاست کے نام پر اپنی مرضی کی قانون سازی، نیب ترامیم، سمجھوتوں کی سیاست، کچھ لو او رکچھ دو کی بنیاد پر مک مکا،حکومت او رحکومتی بڑی شخصیات کے مقابلے میں اداروں کو کمزو رکرنا او راپنی مرضی کے فیصلوں کو منوانے یا سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگانے کی سیاست میں اس ملک کی کوئی خدمت ہونے والی نہیں۔