احتساب رے احتساب تیری کون سی کل سیدھی
- تحریر خالد محمود رسول
- ہفتہ 15 / اکتوبر / 2022
منیر نیازی اپنے لہجے اور انداز کے اعتبار سے ایک منفرد شاعر تھے۔ ان کے بہت سے اشعار ان کی زندگی میں ہی ضرب الامثال کی مانند مقبول ہوئے۔ ان کا ایک شعر ہماری سیاست، معاشرت اور اکونومی کے بیشتر معاملات پر یوں منطبق ہوتا ہے گویا آج کی صورت حال کو سامنے رکھ کر لکھا گیا ہے:
تھا منیر آغاز ہی سے راستہ اپنا غلط
اس کا اندازہ سفر کی رائیگانی سے ہوا
دو دن پہلے کی آمنے سامنے کی دو شہ سرخیاں ۔ اول: اسپیشل کورٹ نے وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے صاحب زادے حمزہ شہباز کو منی لانڈرنگ کیس میں بری کر دیا ۔ دوم: عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ سے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں حفاظتی ضمانت منظور ۔
ایک سال قبل یہ ترتیب الٹی تھی۔ ایف آئی اے کی دستاویزات پکار پکار کر کہہ رہی تھیں کہ شریف خاندان کی مبینہ منی لانڈرنگ کا یہ اوپن اینڈ شٹ کیس ہے۔ ان کے زیرانتظام 28 بے نامی اکائونٹس میں2008 سے 2018 کے دوران سولہ ارب روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئیں۔ اس دوران شہباز شریف وزیراعلی پنجاب اور حمزہ شہباز ایم این اے تھے مگر عملاً والد کے سیکنڈ ان کمانڈ تھے ۔ ایک سال قبل ایف آئی اے اپنے ثبوتوں کے بارے میں بالکل مطمئن تھا مگر ایک سال بعد ایف آئی اے کے وکیل عدالت سے درخواست گزار تھے کہ اس کیس میں دونوں ملزمان کا کوئی براہ راست تعلق ثابت ہوا اور نہ ہی کوئی ٹھوس ثبوت ان کے خلاف سامنے آیا۔ لہذا یہ کیس ختم کر دیا جائے۔ جب مدعی اپنے مدعا سے تائب ہو جائے تو عدالت کے سامنے یہی ایک راستہ باقی بچا جو بصورت فیصلہ سنا دیا گیا ۔
دوسری جانب عمران خان کے بارے میں اسی ایف آئی کو ایک اور قلبی تبدیلی کا سامنا ہے۔ ممنوعہ فنڈنگ کے حوالے سے مضبوط ثبوت سامنے آئے ہیں۔ معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لئے ایف آئی اے بے چین ہے کہ عمران خان ان کے مہمان بنیں اور کیس کے مزید بھید کھولیں۔
دونوں جانب دو بڑی سیاسی جماعتوں کا سیاسی مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ میڈیا اور پبلک میں یہی موضوع سخن چھایا ہوا ہے۔ شنید ہے کہ ملک میں سیلاب آیا ہوا تھا۔ نقصانات کا اندازہ 20 ارب ڈالرز سے بڑھتے بڑھتے اب 40 ارب ڈالرز تک بتایا جا رہا ہے۔ شنید یہ بھی ہے کہ تین کروڑ سے زائد لوگ متاثر ہوئے ہیں لیکن میڈیا کی زبانی سننے اور دیکھنے سے یہی پتہ چل سکا کہ ملک میں متاثرین کے نام نواز شریف و خاندان اور عمران خان اور ان کی جماعت کے چند چنیدہ لیڈرز ہی ہیں۔ صبح کیا شام کیا، اخبارات کیا ٹی وی کیا، سوشل میڈیا کیا، ہر جگہ ایک ہی کہانی ہے بلکہ پنجابی زبان کے ایک محاورے کے مطابق ایک ہی رنڈی رونا اور سیاپا ہے۔ ہمیں صبح شام ان دو متحارب متاثرینِ کے مصائب اور آلام سن سن کر یہی لگا کہ باقی جو بھی سنا افسانہ تھا۔
منیر نیازی کے بقول سفر کی رائیگانی سے اندازہ ہوا کہ آغاز ہی سے سفر غلط راستے پر تھا۔ احتساب پچھلے تیس سالوں کا بہترین انتقامی اور حکومت بدلی کا ہتھیار ہے۔ خوبی اس ہتھیار کی یہ ہے کہ جب چاہا یہ تیزدھار ہو جاتا ہے اور جب چاہا کند کر دیا۔ اصل مہارت اور طاقت استعمال کرنے والے کی ضرورت یا مجبوری پر منحصر ہے۔ نوے کی دہائی میں سیاسی حکومتیں ہر دو اڑھائی سال بعد اقتدار سے بے دخل ہوتی رہیں۔ چارج شیٹ البتہ سب کی کم و بیش ایک سی رہی۔ کرپشن سب سے کاری اور بنیادی الزام رہا اور بے رحم احتساب اس عمل کا بنیادی وعدہ رہا۔
مسلم ن کی حکومت نے اپنے دوسرے دور میں احتساب کو سائنٹیفک انداز میں انجام دینے کے لئے اپنے ایک قریبی دوست کو اس کام پر مامور کیا۔ ان کا جذبہ اور جنون احتساب الرحمان کے نام سے مشہور ہوا۔ پرویز مشرف اقتدار میں آئے تو انہوں نے بھی اس میدان کا معرکہ اپنے نام کرنے کے لئے احتساب کا نیا ادارہ قائم کیا۔ پورا نیا قانونی ڈھانچہ تشکیل دے کر اپنے ایک قابل اعتماد ساتھی کو انچارج بنایا۔ بے رحم احتساب کا کام تیزی سے شروع ہوا مگر کچھ یوں کہ ہر کیس کا آغاز اور انجام حکومتی مخالفین پر ہی ہوتا رہا۔ تین سالہ عدالتی مہلت کے بعد سیاسی نظام کی طرف مراجعت کی مجبوری پاؤں کی زنجیر بنی تو یہی احتساب سیاسی مخالفین میں سے کئی ایسے دلوں کی دھڑکنیں سننے میں کامیاب ہوا جو کہنے کو تو حکومت مخالف تھے مگر دل حکومت کے لئے دھڑکتے تھے۔
نواز شریف اور خاندان اور بے نظیر جلا وطن ہوئے۔ بے لاگ احتساب کی جادوئی مدد سے نیا سیاسی ڈھانچہ سامنے آیا جس میں منتخب وزیراعظم نو وارد اور منتخب کئے جانے کے منتظر امپورٹڈ امیدوار کے لئے نشست گرم رکھنے کے اعزاز پر بھی نازاں رہے۔ پرویز مشرف کے بعد میثاق جمہوریت کے خمیر سے بنی فرینڈلی اپوزیشن اور حکومت کے سائے میں احتساب بھی میثاقیہ گیا ۔
عمران خان حکومت میں آئے تو لوٹی دولت کے اندازے اس قدر لمبے چوڑے بتائے گئے کہ تمام حکومتی قرضےادا کرنے کے بعد باقی ماندہ دولت ملک بھر میں دودھ اور شہد کی نہریں جاری کرنے کے لئے کافی بتائی گئی ۔ طریقہ بہت سادہ بتایا گیا۔ بے رحم احتساب، گرفتاریاں اور مقدمے۔ چوروں لٹیروں ڈاکوؤں سے چھٹکارے کے بعد یقینی چین لکھنے کے لئے راوی اپنے اپنے میڈیائی مائیک اور لیپ ٹاپ کے ساتھ اسٹینڈ بائی ہو گئے لیکن اس بار پھر کم بخت احتساب کی جیب کٹ گئی۔ ۔۔ اس کے بعد کیا ہوا سب قارئین کو معلوم ہے۔ اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو۔
ایک بار پھر رت کچھ اس انداز سے بدلی ہے کہ ایک دفعہ پھر احتساب کو اوور ٹائم لگا کر پرانے اور نئے ملزموں (یعنی کل کا ملزم آج کا حاکم اور کل کا حاکم آج کا ملزم) کے نام پتے الٹی ترتیب سے لکھنے کی مشقت کا کشٹ اٹھانا پڑ رہا ہے۔
نواز شریف کی لندن میں میڈیا سے دل کھول کر رکھ دینے والی گفتگو ، مریم نواز، مریم اورنگزیب اور رانا ثناءاللہ سمیت ن لیگ کے لیڈرز کی جانب سے عمران خان ، پی ٹی آئی اور ان کے لیڈرز پر ممنوعہ فنڈنگ، توشہ خانہ سمیت الزامات کی ایک طویل فہرست ہے۔ حسب معمول ثبوت نا قابل تردید ہیں اور سر پر کھڑے الیکشن کی وجہ سے سب سے بڑے مخالف کو ٹھکانے لگانے کی جلدی بھی ہے۔ منیر نیازی کا ہی ایک اور شعر ہے:
ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
اب ایسے احتساب اور احتسابیںوں سے اس کے علاوہ کیا توقع رکھیں۔ ایک اور سفر کی رائیگانی کا سلسلہ مبارک۔۔