کپتان ساتوں کی ساتوں سیٹیں جیتے گا
- تحریر عدنان خان کاکڑ
- ہفتہ 15 / اکتوبر / 2022
کپتان نے نو حلقوں سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا اور اب کل سولہ اکتوبر کو سات حلقوں سے واقعی الیکشن لڑ بھی رہا ہے۔
یہ حلقے کراچی سے پشاور تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یوں کپتان کو بھاگ بھاگ کر پشاور، مردان، چارسدہ، ننکانہ صاحب، لائلپور اور کراچی کے عوام کو حق دکھانا پڑ رہا ہے۔ اپوزیشن کے کسی لیڈر کی جرات نہیں ہوئی کہ کھلے میدان میں کپتان کا مقابلہ کر سکے۔ سب ڈرے سہمے بیٹھے ہیں۔ انہیں پتہ ہے کہ کپتان کے سامنے ان کی دال نہیں گلنی۔ لے دے کر لائلپور میں عابد شیر علی کو کچھ جرات ہوئی ہے کہ کپتان سے لڑ سکے۔
باقی سب لیڈر تو کپتان کا مقابلہ کرنے کی بجائے بہانے بنا رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کپتان اس وقت اپنی مقبولیت کے عروج پر ہے۔ وہ اپنی خفت مٹانے کو کہتے ہیں کہ فرض کیا کہ کپتان ان ساتوں بلکہ نو کے نو حلقوں سے جیت بھی گیا تو ہمیں کیا فرق پڑے گا۔ اسمبلی میں گنتی کریں گے تو حکومت ہماری ہی رہے گی۔ نو میں سے 8 سیٹیں تو اس نے پکی پکی نے چھوڑنی ہیں۔ نویں سیٹ اس نے اپنے پاس رکھ بھی لی تو اپنی پارٹی والوں کو کیا منہ دکھائے گا جن کی مبینہ طور پر حق حلال کی کروڑوں کی کمائی سے جیتی ہوئی سیٹیں اس نے استعفیٰ دلوا کر خالی کروا دیں اور اب وہ استعفیٰ منسوخ کروانے کے لیے عدالتوں میں خوار ہوتے پھر رہے ہیں۔ اچھا اس نے منہ دکھا بھی دیا اور اسمبلی میں آ گیا تو تحریک انصاف کے نیم باغی ارکان اسے اپنا قائد منتخب کرنے کی بجائے راجہ ریاض لائلپوری کو ہی قائد حزب اختلاف برقرار رکھیں گے۔ یوں کپتان اکیلا بیٹھ کر پی ڈی ایم والوں کی تقریریں سننے پر مجبور ہو گا۔
تقریر سے یاد آیا کہ خواجہ آصف سیالکوٹی بہت گندی تقریریں کرتا ہے شرم حیا دلوانے والی۔ کپتان کو یوں اسمبلی میں اکیلا پا کر وہ زیادہ ہی چھیڑے گا۔ کپتان کے دل پر کیسے آرے چلیں گے جب وزیراعظم شہباز شریف ان امور پر مشاورت کے لئے راجہ ریاض سے صلاح مشورہ کرے گا جنہیں قائد حزب اختلاف سے مل کر طے کرنا ہوتا ہے۔ کپتان کے نو حلقوں سے جیتنے پر شدید دباؤ میں آ کر چیف الیکشن کمشنر نے استعفیٰ دے دیا تو اگلا چیف الیکشن کمشنر کون تعینات کرے گا؟ وزیراعظم شہباز شریف اور قائد حزب اختلاف راجہ ریاض۔ ہماری رائے میں تو کپتان جیسا خود دار شیر ان کرپٹوں کے ہاتھوں یوں ذلت نہیں اٹھائے گا اور اسمبلی میں جانے سے انکاری ہو گا۔ اس لیے نویں سیٹ بھی خالی رہے گی۔
یوں تین مہینے بعد ان نو سیٹوں پر پھر الیکشن ہوں گے اور کپتان پھر اکیلا ان پر لڑ کر اپنے سرمایہ کاروں کا پیسہ لگوائے گا۔ اس کے جاں نثار ویسے بخیل نہیں جیسے پی ڈی ایم والوں کے ہوتے ہیں۔ وہ اس کے پسینے وغیرہ کی جگہ اپنا خون بہانے کو تیار ہیں۔ روپیہ پیسہ تو ہاتھ کی میل ہوتا ہے۔ کپتان اگر ہر تین مہینے بعد بھی الیکشن لڑے تو اسے خرچہ پورا کرنے کے لیے چندہ مل جائے گا بلکہ چار پیسے بچ بھی جائیں گے۔ مصیبت تو اس کے مخالفوں کو پڑے گی جن کا ہر مرتبہ الیکشن لڑ کر اور بری طرح ہار ہار کر دیوالیہ نکل جائے گا۔
یوں یہی سب کچھ چلتا رہے گا۔ شہباز شریف بظاہر چین کی بنسی بجاتا، پاکستان پر راج کرتا لیکن دل ہی دل میں دہلتا رہے گا۔ کپتان فاتحانہ انداز میں در بدر پھرتا اور جلسے کرتا رہے گا۔ مخالفین کو عبرتناک انداز میں شکست پر شکست دیتا رہے گا۔ اور پھر 2023 کے جنرل الیکشن آ جائیں گے۔ ظاہر ہے کہ اس وقت تک کپتان کے مخالفوں کے پاس نہ صرف الیکشن لڑنے کے پیسے بلکہ حوصلہ اور توانائی بھی ختم ہو چکے ہوں گے۔ وہ در در، قریہ قریہ، شہر شہر پھر کر تھک چکے ہوں گے۔ اور کپتان کو دو تہائی اکثریت حاصل کرنے سے کوئی نہیں روک پائے گا۔
ہم ایسی مکاری اور چالبازی دکھانے پر پی ڈی ایم کی شدید مذمت کرتے ہیں جس کی وجہ سے ایک غریب قوم کا اتنا زیادہ روپیہ بار بار الیکشن کروانے پر خرچ ہو گا اور نتیجہ پھر بھی وہی رہے گا جو اس وقت ہے۔ پی ڈی ایم لیڈر شپ میں حوصلہ ہے تو اسمبلی توڑ کر الیکشن کا اعلان کر دے، یوں کپتان کو گول گول چکر تو نہ دے اور قوم کا پیسہ تو نہ پھونکے۔ بلکہ اگر پی ڈی ایم واقعی قوم سے مخلص ہے تو الیکشن کی کھکھیڑ ہی میں نہ پڑے۔ اسی اسمبلی سے کپتان کو سو فیصد اکثریت سے وزیراعظم منتخب کروا لے اور پھر آئینی ترمیم کر کے وزیراعظم کے عہدے کی مدت تاحیات کر دے کیونکہ سوشل میڈیا پر ہونے والے سرویز سے یہ بات واضح ہے کہ قوم صرف اور صرف کپتان ہی کو وزیراعظم دیکھنا چاہتی ہے۔ صرف فضول قسم کے الیکشنوں پر لگنے والا غریب قوم کا پیسہ بچانے کی خاطر کپتان ریاست مدینہ بنانے کی اتنی زیادہ کوشش کر رہا ہے ورنہ اسے کیا ضرورت تھی اتنی تکلیف اور خفت اٹھانے کی۔ خدا نے اسے سب کچھ تو دے رکھا تھا۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے ریاست مدینہ میں ویسا ہی تاحیات حکمرانی کا رواج تھا جیسا کپتان بجا طور پر اپنے لیے چاہتا ہے۔
ہاں اگر پی ڈی ایم مزید رسوا ہونا چاہتی ہے تو حکومت کرتی اور ضمنی الیکشن پر ضمنی الیکشن کروا کر اپنا شوق پورا کرتی رہے۔ کپتان ہر ضمنی الیکشن میں سات کی سات سیٹیں جیت کر دکھا دے گا۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)