ایم ایف سے پاکستان کیلئے زیادہ پالیسی سپورٹ کا مطالبہ

  • اتوار 16 / اکتوبر / 2022

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحٰق ڈار نے پاکستان کو سیلاب کے باعث درپیش چیلنجز کے تناظر میں عالمی مالیاتی فنڈ اور کثیرالجہتی عطیہ دہندگان سے ملک کے لیے زیادہ پالیسی سپورٹ کا مطالبہ کیا ہے۔

وزارت خزانہ سے جاری بیان کے مطابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے گورنر اسٹیٹ بینک واشنگٹن ڈی سی میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کے ساتھ ایم ای این اے پی (مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان) کے اجلاس برائے وزرائے خزانہ اور گورنرز میں شرکت کے موقع پر کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی صورتحال پر اپنا ردعمل تیار کرے۔ انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ردعمل کی تیاری میں ان ممالک کو ماحولیات سے پیدا ہونے والی آفات کے پس منظر میں جن ملتے جلتے اقتصادی، سماجی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے انہیں مدنظر رکھا جائے۔

اس موقع پر آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے پاکستان کے تباہ کن سیلاب کا حوالہ دیتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی کے واقعات سمیت علاقائی معیشتوں کو درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ اپنی گہری ہمدردی کا اظہار کیا اور فنڈ کے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

وزیر خزانہ نے منیجنگ ڈائریکٹر آئی ایم ایف کے جذبات پر شکریہ ادا کیا اور درپیش چیلنجز کے باوجود فنڈز کے پروگرام کو مکمل کرنے کا عزم کیا۔ انہوں نے انسانی تباہی اور ملک کو ہونے والے نقصانات پر بھی روشنی ڈالی اور سیلاب سے تباہی کی شدت کو دیکھتے ہوئے پاکستان کے لیے مزید پالیسی تعاون کی درخواست کی۔

اسحٰق ڈار نے ممالک کی مدد کے لیے آئی ایم ایف کے نئے شعبوں ٹرسٹ سسٹین ایبلیٹی اینڈ ریزیلینس (ٹی ایس آر) اور ریپڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ (آر ایف آئی) کے تحت فوڈ شاک ونڈو کا خیر مقدم کیا۔ وزیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک نے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ہالینڈ کی ملکہ میکسیما سے مالیاتی شمولیت اور مساوات پر بینکاری کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔

ملاقات میں فریقین نے زیر بحث موضوعات میں تیزی سے پیش رفت حاصل کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اس کے علاوہ وزیر خزانہ نے کویت فنڈ کے ڈائریکٹر جنرل مروان عبداللہ یوسف سے ملاقات کی اور پاکستان کی اقتصادی ترقی میں کویت فنڈ کے تعاون کو سراہا جبکہ جاری منصوبوں اور سرمایہ کاری کے ممکنہ نئے شعبوں پر تبادلہ خیال بھی کیا۔