پاکستان نے جوہری اثاثوں سے متعلق بائیڈن کے بیان کو مسترد کر دیا

  • اتوار 16 / اکتوبر / 2022

پاکستان نے پاکستان کے بارے میں امریکی صدر بائیڈن کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے سخت احتجاج کیا ہے۔ اس حوالے سے ایک احتجاجی مراسلہ امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کے حوالے  کیا گیا۔

اس دوران وہائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری نے کہا کہ اصدر بائیڈن پاکستان کو مضبوط، محفوظ اور خوشحال دیکھنے کے خواہاں ہیں۔ واضح رہے امریکی صدر نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میرے  خیال میں پاکستان دنیا کا خطرناک ترین ملک ہے۔ ایک ایسا ملک جو جوہری طاقت کا مالک ہے لیکن وہاں  ضبط و ہم آہنگی موجود نہیں ہے‘۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے احتجاجی مراسلے میں کہا گیا ہے کہ حتجاجی مراسلہ میں کہ  پاکستان کو امریکی صدر کے غیر ضروری بیان سے مایوسی ہوئی ہے جو زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتا۔ مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے اور جوہری ہتھیاروں کے عالمی طور سے منظور شدہ طریقہ کار پر عمل کرتا ہے۔ ان اقدامات کو انٹرنیشنل اٹامک انرجی نے بھی تسلیم کیا ہے۔ مراسلہ کے مطابق  ’اس وقت پاک امریکہ تعلقات مثبت رفتار سے بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ علاقائی اور عالمی امن کے لئے تعاون جاری رہ سکے‘۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے امریکی صدر کے بیان کو حقائق سے متصادم اور غلط قرار دیا۔

صدر بائیڈن کے بیان سے متعلق سوال پر وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرین جان پیئر نے جمعے کو نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ صدر بائیڈن نے اپنے بیان میں پاکستان سے کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ صدر ایک محفوظ اور خوشحالی پاکستان چاہتے ہیں، جو امریکی مفادات کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف کا بائیڈن کے بیان پر اپنی ٹویٹ میں مزید کہنا تھا کہ پاکستان ایک ذمے دار ایٹمی قوت ہے اور ہمیں اس پر فخر ہے کہ ہمارے جوہری اثاثے ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے قواعد و ضوابط کے مطابق محفوظ ہیں۔

صدر بائیڈن کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر اُن کی وزیرِ اعظم شہباز شریف سے بات ہوئی ہے اور امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کو دفترِ خارجہ طلب کر لیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ڈیمارش (سفارتی مراسلہ) اُن کے حوالے کیا جائے گا۔