سوات امن مارچ اور تھپڑ کھانے والا کنفیوز روسی
- تحریر شازار جیلانی
- اتوار 16 / اکتوبر / 2022
ٹرین چلتی چلتی سرنگ میں داخل ہوئی تو چٹاخ سے روسی مسافر کے منہ پر کسی نے زوردار تھپڑ رسید کی۔ ڈبے میں روسی کے علاوہ ایک خوبصورت لڑکی ایک بوڑھی عورت اور ایک افغان بیٹھا تھا۔
سرنگ سے نکلنے کے بعد بوڑھی عورت نے روسی کے سرخ گال کو دیکھ کر سوچا کہ اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے لڑکی کو ہاتھ لگایا تو لڑکی نے اسے تھپڑ مارا، بہت اچھا کیا۔ لڑکی سوچتی رہی کہ روسی اندھیرے میں مجھے چھیڑنا چاہتا تھا لیکن بوڑھی کو ہاتھ لگایا اور اس نے اسے تھپڑ مارا، بہت خوب۔ روسی سوچتا رہا کہ اندھیرے میں افغان نے لڑکی کو ہاتھ لگایا اور اس نے غلطی سے مجھے تھپڑ مارا۔ افغان مطمئن بیٹھ کر سوچتا رہا کہ اللہ نے بڑی مدت کے بعد موقع دلایا تب میں نے روسی کے ساتھ اپنا حساب برابر کیا۔
افغان کے علاوہ سب کنفیوز اور غلط فہمی میں رہے۔ غلط فہمی اور کنفیوژن کی یہی صورتحال سوات میں ہونے والے حالیہ امن مارچ کے منتظمین، شرکاء اور سیاسی پارٹیوں کی ہے۔ پی ٹی آئی، اے این پی، پی ٹی ایم، جماعت اسلامی، طالبان، اسٹیبلشمنٹ اور عوام سب سمجھتے ہیں کہ کسی نے تو کسی کو تھپڑ مارا ہے لیکن وہ کون ہے ابھی سب پر واضح نہیں۔
جماعت اسلامی پی ٹی ایم کا بیانیہ، شہرت اور مزاحمت کو ہائی جیک کر کے سمجھتی ہے کہ موقع اچھا ہے، پی ٹی ایم کا مزاحمتی راستہ اپنا کر وہ اسی طرح سب کی توجہ حاصل کر کے ایک دفعہ پھر مقبول جماعت بن جائے گی جس طرح پی ٹی ایم ہے۔ لیکن عوام یہ دیکھ کر حیران ہیں کہ وہی نعرے لگانے کے باوجود جس کی وجہ سے علی وزیر جیل میں، محسن داوڑ اسمبلی میں اور منظور پشتون غداروں کی لسٹ میں موجود ہے مشتاق احمد خان پر کوئی پابندی نہیں لگائی جاتی۔
دوسری طرف پی ٹی آئی خود کو ماضی کی اے این پی سمجھ کر سہمی ہوئی بیٹھی ہے۔ کیونکہ اے این پی کی حکومت کے دوران جب طالبان پختونخوا میں آئے تھے تو بنیادی ہدف پختونخوا کی حکومت تھی۔ اس لیے پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ طالبان ان کے لئے لائے گئے ہیں۔ یوں اندھیری سرنگ میں سفر کرتے ہوئے وہ کسی بھی رسک لینے کے لئے تیار نہیں۔ عمران نے سرسری طور صرف ایک دفعہ کہا ہے کہ پختونخوا میں طالبان اس کی حکومت کے خلاف سازش ہے۔ مراد سعید بھی اشاروں کی زبان میں ان کا اور ان کا ذکر کرتے ہوئے بہت گھبرائے ہوئے ہوتا ہے۔ جبکہ بیرسٹر سیف کہتا ہے کہ یہ حملے طالبان نے نہیں کیے کیونکہ وہ تو مذاکرات کر رہے ہیں، اتنا کچھ جاننے کے باوجود وہ نام لے کر نہیں کہہ سکتا کہ پھر یہ حملے کون کر رہا ہے۔
امن مارچ سے فضل الرحمان گروپ کی غیر حاضری ظاہر کرتی ہے کہ وہ اس مارچ اور مزاحمت کو اپنے لیے اچھا نہیں سمجھتی یا وہ ان مزاحمتی سرگرمیوں کو اپنی مخالفت سمجھتی ہے۔ ویسے بھی مولانا اور اے این پی حب علی میں نہیں بغض معاویہ میں اکٹھی ہوئی ہے۔ ضمنی انتخابات کے فوراً بعد مولانا کی مرضی ظاہر ہو جائے گی۔ اے این پی سوات میں حالیہ بد امنی کی لہر کو غیبی امداد سمجھ کر سمیٹ رہی ہے کیونکہ اسے بڑی مدت کے بعد عوام میں جانے اور ان کو اپنی بات پہنچانے کی آزادی ملی ہے۔ جو حالت آج پی ٹی آئی کی ہے، عشروں سے اسی قسم کی صورتحال سے وہ خود دوچار ہو کر بے انتہائی نقصان اٹھا چکی ہے۔
سب سے دلچسپ صورتحال پی ٹی ایم کی ہے۔ جس کے پیر باندھے ہوئے، بازو مفلوج، منہ پر قفل اور الفاظ پر کل تک قدغنیں تھیں۔ سوات میں ہزاروں لوگوں کے ساتھ مل کر لگانے والے نعرے وہ محدود لوگوں، مخصوص علاقوں اور گھٹے ہوئے ماحول میں لگا سکتی تھی جن کو سن کر پرائے ان کو غدار اور اپنے فسادی کہہ کر الگ ہو جاتے تھے۔ لیکن اب کھلی فضا وسیع میدان اور بولنے کی آزادی پاکر کوئی اس کے ہاتھ پکڑ کر تصاویر بناتا ہے تو کوئی گلے لگا کر گال چومتا ہے اور کوئی نام لے کر شکریہ ادا کرنے کے بعد تقریر شروع کرتا ہے۔
سینٹر مشتاق، منظور پشتون کی شہرت چرا کر اپنی مردہ پارٹی میں جان ڈالنے اور بیانیہ ہائی جیک کرنے کی کوشش میں ہے، تو دوسری طرف قوم پرست جماعتیں مطمئن ہیں کہ انتخابات میں منظور کی عدم دلچسپی کی وجہ سے وہ ان کا حریف نہیں لیکن وہ چاہے تو ان کے انتخابات پر مثبت انداز میں اثرانداز ہو سکتا ہے۔ اس لیے اسے ساتھ رکھ کر انہیں فائدہ ہی فائدہ ہے۔ جبکہ منظور پشتون ایمل ولی سردار بابک اور مشتاق احمد خان کو ساتھ رکھ کر ان کے کارکنان تک اپنا الگ اور مزاحمتی بیانیہ پہنچانے کی کوشش میں ہے۔
پاکستانی سیاست سے اسٹیبلشمنٹ کو نکالا جاسکتا ہے نہ اسٹیبلشمنٹ سے سیاست کو۔ طالبان ہیں یا نہیں یہ الگ بحث ہے، لیکن طالبان کے خلاف قوم پرستوں کو کھلا میدان دے کر اسٹیبلشمنٹ نے وہی کیا ہے جیسا اس نے قوم پرستوں کے خلاف طالبان اتار کر کیا تھا۔ ایک دو دن کے بعد منعقد ہونے والے انتخابات کے رزلٹ دیکھ کر عمران خان لازماً اسلام آباد پر چڑھائی کرے گا۔ امن مارچ سے غیر حاضر رکھ کر عوام کو پیغام دیا گیا کہ پی ٹی آئی کو ان کے امن میں کوئی دلچسپی نہیں۔
امن کے نام پر منظم کردہ تحریک دراصل پی ٹی آئی کے کارکنان کو توڑنے اور اسے کمزور کرنے کا عمل ہے۔ پختونخوا کا وزیر اعلیٰ اور مراد سعید دونوں کا تعلق سوات سے ہے۔ اپنے الگ علاقائی شناخت اور روایات کی وجہ سے سوات ماضی میں ہمیشہ مرکز کے ساتھ کھڑا رہا ہے، اس لیے آسانی سے عمران خان کی جھولی میں ڈالا گیا تھا۔ لیکن اب سوات کے علاوہ دیر باجوڑ خیبر بنوں غرض کہ جہان بھی عمران کے حامی اکثریت میں ہیں وہاں پر امن و امان کی صورتحال پیدا کر کے اس کے حامیوں کو دوسرے راستے پر ڈالا گیا۔ پنجاب میں بھی اس کی حکومت ہے لیکن پنجاب مرغ باد نما کی طرح چلنے والی ہوا کی طرف رخ کرنے میں آسانی محسوس کرتا ہے۔
بدامنی کو ٹی ٹی پی اور پی ٹی آئی کے خلاف اور قوم پرستوں کے حق میں بہترین انداز میں استعمال کیا گیا ہے۔ سندھ میں حالیہ فسادات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ فی الحال قوم پرستوں پر مہربان ہے۔ اب منظور پشتون کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے کہ جب عمران خان کی آواز دبائی جا رہی ہے تو پیدا شدہ سیاسی خلا اور ملنے والی وسعتوں سے وہ کہاں تک اپنی تحریک، بیانیہ اور تنظیم کو فائدہ پہنچا سکتا ہے؟ کیونکہ ان سے الگ ہونے والے اب کوئی اہمیت نہیں رکھتے، صرف علی وزیر کی حیثیت اور کردار کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)