ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا

ایران میں حجاب کو ایشو بنا کر جو ظلم وجبر روا رکھا جا رہا ہے اور عوامی احتجاج کو جس سفاکی و بے رحمی سے کچلا جا رہا ہے، آج ارادہ تھا اس کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوۓ اصلیت واضح کرنے کا۔ دوسرے 17اکتوبر یونائیٹڈ انڈیا کے عظیم مصلح دانشور اور محسن سرسید ؒکا یوم پیدائش یعنی ’’سرسید ڈے‘‘ ہے اس حوالے سے بھی کچھ الجھے گوشے واضح کرنے کی خواہش تھی۔

مگر کیا کریں ہمارا پاپولر کھلاڑی آئے روز کوئی نئی سے نئی درفطنی یا پھلجھڑی چھوڑ دیتا ہے جس کی کشش و اہمیت درویش کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ تازہ ارشاد وفرمان نازل ہوا ہے کہ ’جب میری حکومت تھی تو ذمہ داری میری تھی مگر حکمرانی یا پاور کسی اور کے پاس تھی مجھے ساڑھے تین سالوں میں آدھی پاور بھی مل جاتی تو لوگ میرا مقابلہ شیر شاہ سوری سے کر سکتے تھے‘۔ اس کے جواب میں احسن اقبال کا یہ کہنا ہے کہ موصوف کو اتنی زیادہ پاور ملی ہوئی تھی کہ جس کے سامنے سپریم کورٹ بھی بے بس تھی، وہ اپنے سیاسی مخالفین پر دھڑا دھڑ بے بنیاد اور بلاثبوت جھوٹے مقدمات قائم کرتا رہا۔ وزیر اعظم شہباز شریف تو کئی مواقع پر یہ کہہ چکے ہیں کہ اس لاڈلے کو اتنے طویل دورانیے میں جس قدر طاقت ملی ہوئی تھی اگر مجھے اس سے آدھی بھی مل جاتی تو نہ جانے میں ملک کو کہاں سے کہاں تک لے جاتا۔

عوامی حافظہ اگر زیادہ کمزور نہیں ہے تو سب کو یاد ہو گا کہ یہ شخص ہمہ وقت اٹھتے بیٹھتے ’سیم پیج‘ کی گردان الاپتا پایا جاتا تھا اس کا دعویٰ ہوتا تھا کہ اگر کوئی میرے جیسا ایماندار وزیر اعظم ہو تو کسی کی مجال نہیں اس کے رستے میں روڑے اٹکا سکے۔ یا اس کی حکم عدولی کر سکے۔ اگر میرے ہوتے ہوئے کسی جرنیل نے کارگل جیسی مہم جوئی کی ہوتی تو میں اسے وہیں کھڑے کھڑے فارغ کر دیتا۔ سول ملٹری تناؤ پیدا ہی اس وقت ہوتا ہے جب وزیر اعظم کرپٹ ہوتا ہے کیونکہ ایجنسیوں سے کچھ چھپا نہیں ہوتا۔ وہ اگر وزیر اعظم کے فون ٹیپ کرتی ہیں یا چیک رکھتی ہیں تو یہ ان کا حق ہے تاکہ انہیں معلوم ہو کہ ان کا وزیر اعظم کیا کارستانیاں کر رہا ہے۔ میرے ساتھ ایک پیج پر وہ اسی لئے ہیں کہ انہیں میرے متعلق سارا علم ہے ۔

آج اگر اسے پورے ملک میں مسٹر یوٹرن قرار دیا جاتا ہے تو اس کے ثبوت وہ ہر روز خود اپنے بیانات سے فراہم کرتا ہے۔ کیا وہ اس نوع کی اپنی خودساختہ منطق پیش نہیں کرتا کہ لیڈر تو ہوتا ہی وہ ہے جو یوٹرن لیتا ہے اس کے بغیر کوئی بڑا لیڈر بن ہی نہیں سکتا ۔ آج لوگ یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر تمہارے ہاتھ بندھے ہوئے تھے تم بے اختیار وزیر اعظم تھے جس کے فیصلے کوئی اور کرتا تھا تو پھر تم کٹھ پتلی بن کر اس کھوکھلے و نمائشی عہدے کے ساتھ کیوں چمٹے ہوئے تھے؟ اب اگر منتخب ایوان نے اکثریتی فیصلے کے ساتھ عدم اعتماد کرتے ہوئے تمہیں اس بے اختیار نمائشی عہدے سے ہٹا دیا ہے تو ماہی بے آب کی طرح تڑپ کیوں رہے ہو؟ عالمی سیاست کا فہم وشعوررکھنے والے پوچھ رہے ہیں کہ یہ سب تسلیم کرنے کے بعد تمہارا امریکی سازش کا گھڑا ہوا بیانیہ کہاں جائے گا ؟ سوال اٹھے گا کہ کیا امریکی اس قدر بے وقوف اور احمق ہیں کہ وہ ایک ایسے شخص کے خلاف سازشی سکیمیں تیار کرتے تھے جس کی حکمرانی نمائشی یا محض دکھاوے کی تھی، اصل پاور تو کسی اور کے پاس تھی ؟ آخر کسی مرے کو شاہ مدار کیوں ماریں گے؟

میڈیا کا یہ پوچھنا بھی بنتا ہے کہ جب پاور شیرنگ کا فارمولا وہی ہے طاقتور محکمہ بھی اپنی پوری توانائی کے ساتھ اس طرح قائم و دائم ہے بلکہ اگر وہ خود کو نیوٹرل کہتے ہیں تو تم جھلا کر کیوں بدکتے ہو کہ نیوٹرل تو جانور ہوتا ہے یعنی نیوٹرل ہرگز نہ بنو تو پھر کیا بنو؟ یہ کہ منتخب حکومت کا ساتھ دو ، ساتھ ہی تو وہ دے رہے ہیں تو پھر تمہیں غصہ کس بات کا ہے ؟ یہ کہ میری حکومت کا ساتھ کیوں نہیں دیا؟ تو کیا یہ آپ ہی کا وہی منتخب ایوان نہیں ہے جس نے موجودہ اتحادی حکومت کو اکثریتی ووٹ سے چنا ہے جسے ختم کرنے کیلئے تم اسلام آباد پر چڑھائی کرنے قریہ قریہ عوام کو اشتعال دلا رہے ہو؟ سوال یہ ہے کہ اگر وہ بے اختیار نمائشی عہدہ تھا اور پاور سئیرنگ کی پتلی صورتحال وہیں کی وہیں ہے تو پھر تم کس برتے پر اسی بے اختیار عہدے کیلئے یوں ٹامک ٹوئیاں مارے بھٹک رہے ہو؟ تمہیں تو پہلے یہ جمہوری اصول منوانے کیلئے کوشاں ہونا چاہئے کہ منتخب پارلیمان کی کامل بالا دستی ہو گی اس کا چنا ہوا قائد ہی اصل اختیارات کا مالک اور قوم کا حقیقی لیڈر ہو گا دیگر تمام محکموں یا اداروں کو آئین کی عین مطابقت میں اپنی اپنی حدود کے اندر کام کرنا ہو گا۔ یہی رونا تو ن لیگ اور پی پی کی قیادتیں کئی دہائیوں سے روتی چلی آ رہی ہیں جن کے خلاف دشنام طرازی کا کوئی موقع تم جانے نہیں دیتے ہو اور جتنی گندگی تمہارے پاس ہوتی ہے وہ اٹھا اٹھا کر ان کے اوپر دو دہائیوں سے پھینکتے چلے آ رہے ہو۔

آج تمہیں شیر شاہ سوری کیوں یاد آ رہا ہے؟ شیر شاہ سوری کی عوامی پہچان تو جی ٹی روڈ کی تعمیر ہے اور تمہارا شروع دن سے یہ دعویٰ رہا ہے کہ قومیں سڑکوں کی تعمیر سے ترقی نہیں کرتی ہیں۔ نواز شریف نے بہت برا کیا جو پورے ملک میں ذرائع مواصلات کی ترقی کیلئے سڑکوں کے جال بچھاتا رہا۔موٹر ویز اور میٹرو روٹس ،بسیں یا ٹرینیں چلا کر اس نے بہت برا کیا۔ آج یہ عجب الٹی گنگا بہا دی ہے کہ اگر مجھے آدھی پاور بھی مل جاتی تو میرا تقابل شیرشاہ سوری سے کیا جاسکتا تھا ۔ افسوس تم یہ سب نہ کر سکے اور محض کٹھ پتلی بننے پر اکتفا کر لیا جہاں ڈپٹی سپیکر ایک سوری کو بنوا لیا جو تمہارے سے اسلامی ٹچ دلواتا اور مقبولیت بڑھاتا رہتا ہے یا ایک اور ایسا ہی ’’خدا کو جان دینے والا‘‘ تھا جو پندرہ کلو ہیروئن کا جعلی مقدمہ بنواتے ہوئے طرح طرح کی جھوٹی قسمیں کھاتا پایا جاتا تھا ۔ تمہیں تو اپنے سے قبل آنے والے تمام منتخب وزرائے اعظم کو خراج تحسین پیش کرنا چاہئے کہ ایسی بے اختیاری کے باوجود جس کا آج تم رونا رو رہے ہو اور اپنی نااہلی کو اس غلاف میں چھپا رہے ہو، جن پر گند پھینکتے ہو انہوں نے عوامی خدمت اور تعمیروترقی کے کتنے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچائے اور ساتھ ساتھ عوامی اتھارٹی منوانے کیلئے کوشاں بھی رہے۔ بالخصوص نواز شریف جس نے شیر شاہ سوری سے بڑھ کر پاکستان کو موٹر ویز کے تحائف پیش کئے ہمارے کروڑوں عوام جن سے دن رات مستفید ہو رہے ہیں۔

ان کیلئے شیر شاہ سوری کا کریڈٹ تسلیم کرتے ہوئے تمہیں ان سے معافی کا خواستگار ہونا چاہئے کہ میں نے آپ لوگوں کے ساتھ اتنی گھٹیا زیادتیاں کیوں کی ہیں مجھے تو اب معلوم ہوا ہے کہ یہاں طاقتور لوگ وزیر اعظم کو بے اختیار رکھتے ہیں۔ اور اصل پاور کا استعمال خود کرتے ہیں۔ اور اپنے فینز کے سامنے یہ بھی تسلیم کرلو کہ ہمیں میں نہ تھی کوئی بات جو کارکردگی نہ دکھا سکے اور اب رادھا تب تک نہیں ناچے گی، جب تک کہ نومن تیل نہیں ہو گا اور ٹیڑھے آنگن کا بہانہ نہیں چلے گا۔ رہ گیا بیرسٹر تو وہ محض بغض شریف میں اپنا بھرم چاک کر رہا ہے۔