بعث نبوی کا مقصد اور ہمارا کردار

بعث نبوی کا مقصد قرآن حکیم کے مطابق کتاب و حکمت کی تعلیم دینا ہے، خود رسول اللہ کا فرمان ہے کہ میں معلم اخلاق بنا کر بھیجا گیا ہوں، آپﷺ  کی دنیا میں تشریف کا مقصد انسانیت کو ظلم و استحصال سے نجات دلا کر ان میں مودت، محبت اور بھارتی چارے قائم کرنا تھا۔

 جس کی طرف سورہ آل عمران کی آیت 103 میں ہے کہ ”اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا ہے۔ جب تم ایک دوسرے کے سخت دشمن تھے پھر اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کر دی۔ تم اس کے فضل سے آپس میں بھائی بھائی بن گئے۔“  اس ذہنی اور فکری انقلاب کی طرف سورہ فتح کی آیت 29میں یوں اظہار کیا کہ آپﷺ کے ساتھی آپس میں رحم دل اور دشمن کے لئے سیسہ پلائی دیوار ہیں۔ رسول پاک ﷺ کی بدولت جو قرآن حکیم ملا اس کا مقصد اختلافات مٹانا بھی تھا۔ سورہ بقرہ کی آیت 213میں وضاحت سے بتا دیا گیا کہ انبیاء  اکرام اور کتابیں نازل کرنے کا مقصد اختلافات مٹانا تھا۔ اختلافات مٹ جانا خدا کی رحمت جبکہ تفرقہ کرنا مشرکین کا کام قرار پایا۔ یہی وجہ ہے کہ سورہ آل عمران کی آیت 105 میں خبردار کیا کہ ان لوگوں کی بابت نہ ہونا جنہوں نے اختلافات پیدا کئے اور تفرقہ میں مبتلا ہوگئے۔ اسی سورہ کی آیت103میں حکم دیا کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقوں میں نہ بٹو۔ سورہ انعام کی آیت 159 میں تو رسول اکرمﷺ  کو بھی کہہ دیا گیا کہ جو فرقے بنائیں اور فرقوں میں بٹ جائیں، آپ  ﷺ کا ان سے کوئی تعلق نہیں، گویا اختلافات اور فرقے بنانے سے سختی سے منع کیاگیا اور آپس میں محبت اور اتحاد کو خدا کی رحمت قرار دیا گیا۔

تخلیق آدم کے بعد جو جنت ارضی چھن گی وہ بھی اختلافات کی وجہ سے تھی قرآن حکیم کی سورہ بقرہ کی آیت 35میں آدم سے یہی کہا گیا کہ آپس میں اختلافات پیدا نہ کرنا جس کے لئے لفظ ”شجرہ“ استعمال کیا گیا، عمومی طور پر ترجمہ یہ کیا جاتا ہے اس درخت (شجرہ) کے قریب نہ جانا، لیکن جب قرآن حکیم پر غور کرتے ہیں تو یہی لفظ شجرہ سورہ نساء  کی آیت 65میں آیا ہے جہاں یہ کہا گیا ہے کہ جب تمہارے درمیان اختلافات پیدا ہو جائیں ”شجرہ بینھم“ تو رسول اکرمﷺ  کی بارگاہ سے رجوع کرو یعنی اختلافات ختم کرنے کے لئے رسول اللہ ہی اتھارٹی ہیں۔ رسول اکرمﷺ  کی بعث کا مقصد اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے فکری اور عملی انقلاب کا ذکر قرآن حکیم کی سورہ الانفال کی آیت 63میں یوں آیا ہے کہ ”اسی نے تمہارے دلوں میں باہمی الفت پیدا کر دی اگر آپ وہ جو سب کچھ زمین میں ہے خرچ بھی کر ڈالتے تب بھی یہ الفت پیدا نہ ہوتی لیکن اللہ نے ان کے درمیان محبت پیدا کر دی، بے شک وہ بڑے غلبہ والا حکمت والا ہے۔

 ان تمام آیات پر غور کریں اور پھر اپنی حالت پر غور کریں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ مسلم معاشرے کا جائزہ لیں اور سوچیں کہ حضور اکرمﷺ  جس مقصد کے لئے دنیا میں آئے تھے ہم ان کا نام لینے والے، محبت کا دعویٰ کرنے اور آخر امت قرار پانے والے کس حالت میں ہیں۔ محبت رسولﷺ  کا دعویٰ کرنا بہت آسان ہے لیکن بعث نبوی کا جو مقصد تھا اور اس سے جو انقلاب آیا تھا، اس پر تو ہم میں کیوں نہیں، قرآنی اختلافات مٹانے آیا تھا اور ہم مذہبی، سیاسی، معاشرتی، لسانی، نسلی اور گروہی اختلافات میں اس قدر آگے بڑھ چکے ہیں کہ دور جہالت کا انسان بھی شرما جائے۔ ہمارے مذہبی رہنماؤں کا طرز عمل دیکھ لیں اور پھر قرآن حکیم کی ان آیات پر غور کریں جو ابتدا میں اس تحریر میں شامل ہیں۔ دنیا کے شاید ہی کوئی دو ہمسایہ مسلمان ملک ہوں جن کے آپس میں دوستانہ تعلقات ہوں۔

اختلاف رائے رکھنے کے بھی اصول ہوتے ہیں اور مہذب دنیا میں سب لوگ ایک بات پر متفق نہیں ہوتے لیکن اس کا بھی کوئی طریقہ ہوتا ہے۔ ایک دوسرے پر الزامات، بہتان اور بدگمانی نہیں کی جاتی۔ معاشرے کا اگر جائزہ لیں تو یہ اخلاقی زوال کی حدوں کو چھو رہا ہے۔ قومی رہنما جن سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ قوم کو آگے لے جائیں گے لیکن ان کی حالت بقول ساغر صدیقی یوں ہے: رہبروں کے ضمیر مجرم ہیں ہر مسافر یہاں لٹیرا ہے،  معبدوں کے چراغ گل کر دو قلب انسان میں اندھیرا ہے۔  دنیا ترقی کی معراج کو چھو رہی ہے جبکہ ہم  پستی کا سفرکر رہے ہیں۔ یہ فرق صرف سائنسی، معاشی اور علم کے میدان میں نہیں بلکہ یہ اخلاقی اور سماجی شعبہ میں بھی ہے۔ اپنی لیڈر شپ کا دنیا کی لیڈر شپ سے موازنہ کریں تو ہمیں اپنی بونا قیادت ہی نظر آئے گی۔ صرف لیڈر شپ نہیں سرکاری اعمال، سرمایہ دار بلکہ عام آدمی سب اپنی اپنی جگہ دنیا کے اچھے معاشرے کے افراد سے بہت پیچھے ہیں۔

 ربیع الاول میں محبت رسولﷺ  کی محافل منعقد کرنا بہت اچھی بات ہے۔ عشق رسول کے دعویٰ کرنا بھی ٹھیک ہے۔ حرمت رسول پر جان قربان کرنے کا جذبہ بھی احسن ہے لیکن یہ سب تب سچے ہوں گے جب رسول اللہﷺ  کی سیرت پر عمل ہوگا اور آپﷺ  کی وساطت سے انسانیت کے لئے آخری پیغام قرآن پر عمل ہوگا۔