بھارت نے پلٹزر ایوارڈ یافتہ کشمیری فوٹو جنرلسٹ کو امریکا جانے سے روک دیا

  • بدھ 19 / اکتوبر / 2022

بھارتی حکام نے انعام یافتہ کشمیری فوٹوگرافر کو امریکا میں پلٹزر ایوارڈ حاصل کرنے جانے سے روک دیا۔ حالیہ دنوں میں متعدد کشمیری صحافیوں پر ملک سے باہر جانے پر پابندی لگائی گئی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق ثنا ارشاد ان چار صحافیوں میں سے ایک ہیں جو رائٹرز نیوز ایجنسی کے لیے کام کام کرتی ہیں۔ انہیں رواں برس فوٹوگرافی کے معتبر ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔  اٹھائیس سالہ صحافی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں زندگی کے حوالے سے ڈاکومنٹری بنانے پر داد و تحسین حاصل کی ہے۔

ثنا ارشاد کو نئی دہلی ایئر پورٹ پر امیگریشن حکام نے روکا جبکہ ان کے دو ساتھیوں کو ملک سے جانے کے اجازت دے دی گئی۔ بعدازاں انہوں نے ٹوئٹ پر اپنے کینسل ٹکٹ کی تصویر شیئر کی۔ انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کہنا ہے، میرے لیے زندگی میں یہ ایک بار کا موقع ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بغیر کسی وجہ کے صرف مجھے روکا گیا جبکہ دوسروں کو جانے کی اجازت دے دی گئی۔ ہوسکتا ہے کہ کشمیری ہونے کی وجہ سے میرے ساتھ یہ کچھ ہوا ہو۔ یہ دوسرا موقع تھا جب ثنا ارشاد مٹو کو بھارت سے جانے سے روکا گیا۔ جولائی میں بھی انہیں اسی طریقے سے ایئر پورٹ پر پیرس جانے سے روکا گیا تھا، جہاں انہیں اپنی کتاب کی افتتاحی تقریب اور فوٹوگرافی نمائش میں شرکت کرنا تھی۔

بھارت نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو نافذ کیا تھا اور لاک ڈاؤن کے دوران موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروس معطل کردی اور پارلیمنٹ سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرکے کشمیر کو تقسیم کرنے کا فارمولا پیش کیا اور قرار داد اکثریت کی بنیاد پر منظور کرلی گئی تھی۔

متعدد دیگر کشمیری صحافیوں کو بھی گزشتہ تین برسوں میں باہر جانے سے روکا گیا ہے۔ آکاش حسن جو باقاعدگی سے گارڈین اخبار کے لیے لکھتے ہیں، انہیں جولائی میں کام کے سلسلے میں نئی دہلی سے سری لنکا جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

انہوں نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ کئی مہینے گزرنے کے بعد بھی انہیں حکام کی جانب سے معلومات نہیں دی جارہیں کہ انہیں سفر کرنے سے کیوں روکا گیا تھا۔ آکاش حسن کا کہنا تھا کہ پیٹرن کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ صرف کشمیری صحافیوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔