سوات کی آگ ہمارے دامن تک بھی پہنچ سکتی ہے: خواجہ آصف
وزیر دفاع خواجہ آصف نے ملک میں سیکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوات میں اس وقت جو ہو رہا ہے وہ آگ ہمارے دامن تک بھی پہنچ سکتی ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان معاملات سے لاتعلق نہیں رہ سکتے اور ہماری بے رُخی اور عدم توجہ کی وجہ سے کہیں ایسے حالات درپیش نہ ہوں کہ ملک کی واحدانیت کو خطرہ لاحق ہوجائے۔ انہوں نے اختر مینگل کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے کچھ معاملات پر تمام جماعتوں کو مل کر مسئلے کا حل ڈھونڈنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج سے 12 سال قبل سوات میں جو کچھ ہوا آج ایک بار پھر یہی صورتحال درپیش ہے۔ سوات کے لوگ بغیر کسی تفریق اور سیاسی اختلاف کے ایک معاملے پر اکٹھے ہوئے اور سڑکوں پر احتجاج کیا۔ جمہوری معاشرے میں ایسا ہی ہونا چاہیے، البتہ مجھے اس بات کو تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی کہ ہمارا معاشرہ جمہوری نہیں ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ملک کی تمام صوبائی حکومتیں اگر کسی صوبے کے عوام کی خواہشات، جذبات، دکھ بانٹ نہیں سکتیں تو میں سمجھتا ہوں کہ اس صوبے کی حکومت کو حاکمیت کا حق نہیں ہے۔ بلوچستان میں کئی دہائیوں سے بغاوت جاری ہے، اس کا حل اختر مینگل اور شاہ زین بگٹی کے پاس ہے۔ ان کے ساتھ بیٹھ کر مسئلہ کا ڈھونڈنا چاہیے۔ یہ آج نہیں بلکہ پچھلی 3 نسلوں سے اپنے صوبے کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت اقتدار کی جنگ جاری ہے۔ اس ایوان نے ایک شخص کو قانونی اور آئینی طریقے سے اقتدار سے ہٹایا اور وہ شخص ریاست کو بلیک میل کر رہا ہے اور وہ ریاست کو یرغمال بنا رہا ہے۔ ہم دہائیوں کی غلطیاں اور کوتاہیوں کا کڑوا پھل کاشت کر رہے ہیں۔ اس کڑوے پھل کی وجہ سے ملک کا ماحول غیر مستحکم ہے۔ اشرافیہ حکمرانوں سے کوئی نہ کوئی گناہ اور جرم سرزد ہوا، سیاسی جماعتیں زبانی جمع خرچ کرتی ہیں تاکہ ووٹ مل جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ایوان کو ملک کے معاملات پر سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔ افواج نے ملک میں 4 بار مداخلت کی، سیاستدانوں نے 50 کی دہائی سے لے کر اب تک کئی غلطیاں کیں جو باآسانی حل ہوسکتی تھیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے، اختر مینگل کے انداز بیان سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن ان کے مؤقف سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا۔
یہ ایک ایسا زخم ہے جس پر مرہم رکھنے اور علاج کی ضرورت ہے۔ سیاستدانوں کی برادری کو اس کا حل نکالنا چاہیے، اقتدار کی جنگ بعد میں بھی لڑی جاسکتی ہے لیکن اس وقت ہمارا مقصد عوام ہونا چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے صوبوں کے لوگ لیاقت باغ سے لاشیں اٹھا کر چلے گئے، انہوں نے پاکستان کو نقصان نہیں پہنچایا لیکن عمران خان پاکستان کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
انہوں نے سیکیورٹی معاملات کا طویل مدتی حل نکالنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اختر مینگل کے خدشات حقیقی ہیں۔ آج نہیں تو آنے والی نسل کو یہ مسائل درپیش ہوں گے، اداروں کا فرض بنتا ہے کہ وہ ریاست کے وجود کو درپیش مشکلات کا حل ڈھونڈیں۔ سوات میں اس وقت جو ہو رہا ہے وہ آگ ہمارے دامن تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ ہم ان معاملات سے لاتعلق نہیں رہ سکتے، بے رُخی اور عدم توجہ کی وجہ سے ایسے حالات درپیش نہ ہوں کہ ملک کی واحدانیت کو خطرہ ہو۔ لہٰذا وزیر اعظم کو اس معاملے کا فوری حل نکالنا چاہیے۔
وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ریاض پیرزادہ نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے حالات سے ہم مزید منہ نہیں موڑ سکتے۔ انسانی حقوق کے حوالے سے ہمیں بین الاقوامی سطح پر بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کہ پاکستان کے ادارے, عدلیہ، افواج ہمارا تحفظ نہیں کر سکیں۔ غیر ملکی مداخلت کے لیے جس طرح ہم استعمال ہوئے اور جس طرح پارلیمنٹ میں سلیکٹڈ لوگ آگئے، جس طرح توسیع کے چَکر میں ملک کے ساتھ کھیل کھیلا گیا۔ پنجاب میں عدم برداشت اور زمینوں پر قبضہ یہ سب کوئی ایک فرد نہیں بلکہ ان میں ادارے ملوث ہیں چاہے وہ عدل و انصاف کے ہوں یا محافظ کے ہوں۔
ریاض پیرزادہ نے کہا کہ جس کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے انہیں عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا، اگر ہم ایسے معاملات پر ایوان میں بھی بات نہیں کریں گے تو کل ہمیں خبریں ملیں گی کہ ایک شیعہ یا بلوچ کو مار دیا گیا۔ ہمیں اتنا بھی کمزور نہ سمجھا جائے، اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے، ملک کی پارلیمنٹ کو بھی سوچنا چاہیے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن نے ایوان زیریں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہتھیار ڈالے بغیر دہشت گردوں سے بات نہیں ہو سکتی۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان نے 80 ہزار جانیں قربان کیں، پیپلز پارٹی نے بھی اس راہ میں بڑی قربانیاں دی ہیں اور ہمیں نہیں سمجھ آتی کہ دہشت گردوں کے ساتھ کس طرح سمجھوتہ کیا جاتا ہے۔ ایسا کوئی شخص اگر پاکستان کا شہری ہو اور ہتھیار ڈال کر آئینی حدود میں رہتے ہوئے جدوجہد کی بات کرے تو اس سے ضرور بات ہو سکتی ہے اور ماضی میں ہوئی بھی ہے۔
پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ ہوئی، دنیا میں کہیں بھی انسداد دہشت گردی کی عسکری تحریکیں کامیاب نہیں ہوئیں لیکن پاکستان میں یہ جنگ کامیاب ہوئی۔ افغانستان میں 20 برس تک 40 ممالک کی قوت موجود تھی لیکن اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ ہم دہشت گردی کے خلاف لگی لپٹی بات نہیں کر سکتے، ہمیں کھل کر بات کرنی ہوگی۔ ہم نہیں چاہتے کہ سوات سے دوبارہ دہشت گردی کی لہر اٹھے۔
بلوچستان میں ہمیں مصالحت کی جانب جانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں بلوچستان کے حقیقی قائدین کی بات ضرور سننی چاہیے لیکن ساتھ ہی مصالحت کے عمل کا آغاز کرنا ہوگا جس کے لیے ہمیں کچھ تلخ حقائق بھی سننے پڑیں گے۔
اس سے قبل بلوچستان عوامی پارٹی (بی این پی) مینگل کے سربراہ کے سردار اختر مینگل نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں متعدد واقعات میں شہریوں کو گولیاں مار کر شہید کردیا گیا اور انہیں دہشت گرد قرار دیا گیا۔ جمہوری اور غیر جمہوری حکومتیں آتی رہیں لیکن بلوچستان کے حالات تبدیل نہیں ہو رہے۔ اس سے ہمارے اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہے کہ بلوچستان میں ان لوگوں کی حکومت ہے جو اسے پاکستان کی کالونی سمجھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کھاران میں محکمہ انسداد دہشت گردی کے ہاتھوں مارے گئے 3 افراد میں ایک طالبعلم وسیم تابش تھا جس کا قصور صرف یہ تھا کہ اس نے لاپتا افراد کے لیے شاعری کی تھی۔ یہاں لکھنا بولنا بھی گناہ ہوگیا ہے، آپ احتجاج کریں تو اٹھا لیے جاتے ہیں اور غائب کر دیے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نجانے یہ قوتیں چاہتی کیا ہیں۔ خدا کا واسطہ ہمیں اس مقام تک نہ دھکیلا جائے جہاں سے واپسی کا راستہ ممکن نہ ہو، ان ہتھکنڈوں سے آپ دہشت گردی تو ختم کر سکتے ہیں لیکن نفرت کے جو بیج بوئے جارہے ہیں انہیں دنیا کی کوئی ایٹمی طاقت ختم نہیں کرسکے گی۔ اگر ہمیں اس مقام تک دھکیلا گیا تو ہم سے واپسی کی امید نہ رکھیں۔
سردار اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان میں ہماری باقاعدہ نسل کشی کی جارہی ہے۔ وہی نسل کشی جو 1970 میں بنگلہ دیش میں کی گئی۔ یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ یہ سب آپ کی حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ میں لکھا ہے، آپ کے ہاتھ معصوموں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ کیا لاشوں کی بےحرمتی اس طرح کی جاتی ہے؟ نشتر ہسپتال سے لاشیں برآمد ہوئیں تو کہا گیا کہ یہ لاشیں میڈیکل تجربات کے لیے ہیں۔ تجربات ضرور ہوتے ہیں لیکن یہ نہیں دیکھا گیا کہ تجربات کے بعد لاشوں کو دوبارہ کپڑے پہنا دیے گئے ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ میری درخواست ہے کہ ہر لاش کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا جائے۔ جعلی مقابلوں کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے حاضر جج کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کا انکوائری کمیشن بنایا جائے۔