پچھترویں برس

روس اور مغربی طاقتیں ایسی کشمکش میں الجھ چکی ہیں جس کے نتیجے میں ایٹمی جنگ چھڑ سکتی ہے۔ مغربی معیشتوں کو غیر معمولی کساد بازاری کا سامنا ہے۔ مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔

سعودی عرب اور اوپیک نے تیل کی قیمتیں بڑھانے اور توانائی کے نرخ کم کرنے کا امریکی دباؤ مسترد کر دیا ہے۔ ان سب کے باوجود امریکی صدر، جو بائیڈن نے پاکستان کے بارے میں ناروا بیان دینا مناسب سمجھا۔ بظاہر کسی اشتعال انگیزی کے بغیر پاکستان کو ”دنیا کے خطرناک ترین مقامات میں سے ایک“ اور اس کے جوہری ہتھیاروں کو ”غیر منظم“ قرار دے ڈالا۔ صدر بائیڈن تبدیل ہوتی ہوئی عالمی صورت حال کے پس منظر میں بات کر رہے تھے جس پر جاندار امریکی ردعمل درکار تھا۔ اور جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ حالیہ دنوں عالمی شہ سرخیوں کا حصہ رہا ہے، لیکن کسی اچھی وجہ سے نہیں۔ یہ تیس ملین سے زیادہ ان لاچار افراد کے لیے مغربی امداد کا طلب گار تھا جو غیر معمولی سیلابوں کی وجہ سے بے گھر ہوچکے ہیں۔ اور وہ سیلاب ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں آئے تھے۔ مالیاتی بدانتظامی کی وجہ سے کئی ماہ سے اقتصادی دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑا یہ ملک آئی ایم ایف اور پیرس کلب سے پیکیج کے لیے درخواست گزار ہے۔ لیکن اس دوران پاکستان امریکی قیادت میں مغربی طاقتوں کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ میں روس کی مذمت سے انکاری ہے۔ جس کی وجہ سے امریکی ناراض ہیں۔ یہ ابھی تک امریکی مطالبے سے قدم پیچھے ہٹا رہا ہے: اس کی فضاؤں میں ڈرون طیاروں کی اجازت جو افغانستان میں داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو نشانہ بنائیں۔

اگر واشنگٹن کے پاس ناراض ہونے کی کوئی وجہ تھی تو فوری ردعمل دکھاتے ہوئے امریکی سفیر کو طلب کر کے ڈیمارش کرنے کا اسلام آباد کا ردعمل بھی سمجھ میں آتا ہے۔ صدر بائیڈن کا ”منفی“ تبصرہ وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف قمر جاوید باجوہ، اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی اپنے امریکی ہم منصب سے واشنگٹن میں ”کامیاب“ ملاقاتوں کے موقع پر سامنے آیا اور ان سب پر پانی پھیر گیا۔ اس بیان نے ملک میں امریکہ مخالف جذبات کو مزید بھڑکا دیا، گرچہ اس وقت پی ڈی ایم اور اسٹبلشمنٹ پاک امریکہ تعلقات کو بحال کرنے کی سرتوڑ کوشش میں ہیں جنہیں عمران اور ان کی ”حکومت کی تبدیلی کی سازش“ کی تھیوری نے بری طرح زک پہنچائی تھی۔ درحقیقت پاکستان کے خلاف وقتاً فوقتاً طیش کا اظہار امریکی قائدین کی طرف سے کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کے حوالے سے افغانستان میں ”دہرا کھیل کھیلنے“ اور ”ڈبل کراس کرنے“ جیسے سخت الفاظ استعمال کرتے رہے ہیں۔ ایڈمرل مائیک مولن، چیئرمین جے سی او ایس سی نے بھی ایسا کیا تھا۔ صدر بائیڈن نے عمران خان کو ”ہیلو“ کرنے سے انکار کر دیا کیوں کہ عمران خان نے طالبان کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے امریکی ”غلامی کا بوجھ“ اتار پھینکا۔ نیز اسامہ بن لادن کو ”شہید“ بھی قرار دیا تھا۔

اس بیان بازی کی جڑ پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ ہے۔ چار عشروں ( 1947۔ 1987 ) تک پاک امریکہ مفادات سرد جنگ کی ڈوری سے بندھے رہے۔ پاکستان سوویت یونین کے خلاف کئی ایک امریکی معاہدوں میں شریک تھا۔ اسے امریکہ کی طرف سے فوجی اور معاشی امداد بھی ملتی رہی، جس کا نقطہ عروج وہ اسلامی جہاد تھا جس نے 1987 میں سوویت یونین کو افغانستان سے نکال باہر کیا۔ سوویت یونین کے انہدام پر سرد جنگ تمام ہو گئی۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ نے 1990 کی دہائی میں یوٹرن لیتے ہوئے پاکستان پر معاشی پابندیاں عائد کر دیں جب اس نے اپنا جوہری پروگرام  منجمد کرنے یا  رول بیک  کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تلخی کی جھلک پاکستانی ریاست اور معاشرے میں امریکہ مخالف جذبات کی صورت دیکھنے میں آئی۔ لیکن گیارہ ستمبر کے حملوں نے پاکستان کو امریکی دھمکی (کیا تم ہمارے ساتھ ہو یا خلاف ہو؟ ) کو تعلقات کی بحالی کے ایک پلیٹ فورم کے طور پر استعمال کرنے کا موقع دے دیا۔ اگلے ایک عشرے میں کم و بیش بیس بلین امریکی ڈالروں کے عوض پاکستان نے افغانستان میں طالبان کے خلاف نیٹو کو لاجسٹک سہولت فراہم کی۔ لیکن اس مرتبہ یہ معاونت غیر مبہم نہیں تھی۔ پاکستان افغانستان میں طالبان کے ساتھ اپنے طویل المدت مفادات سے دست بردار نہیں ہوا تھا، اور یہ مفادات بعض اوقات امریکی اہداف سے متصادم تھے۔ اس کے نتیجے میں جنگ طوالت اختیار کرتی گئی جس میں امریکی جانی نقصان بڑھتا گیا، یہاں تک کہ ویت نام کی طرح افغانستان سے بھی امریکیوں کو شکست کھا کر نکلنا پڑا۔ اس پر امریکیوں نے پاکستان پر ”دھوکا دہی“ اور ”دہرا کھیل کھیلنے“ کا اشتعال انگیز الزام لگایا۔

ان دو دہائیوں میں پاکستان اپنے مفادات کو دیکھتے ہوئے چین کے قریب ہوتا گیا۔ اس دوران امریکہ کو بیجنگ کی طرف سے اپنی عالمی بالادستی کو درپیش معاشی اور سیاسی چیلنج نے پریشان کر رکھا تھا۔ اس پیش رفت کا مقابلہ کرنے کے لیے بھارت کے ساتھ تزویراتی شراکت داری بڑھانا شروع کردی۔ اب چین اور امریکہ کے درمیان محاذ آرائی ایک تناسب کی شکل اختیار کر گئی۔ یوکرین کی جنگ نے روس اور چین کو قریب کر دیا ہے اور پاکستان خود کو دونوں کے درمیان ایک کشمکش میں پاتا ہے۔ اس کے مغرب کے ساتھ غیر متزلزل تجارتی اور امدادی روابط ہیں۔ تقریباً 10 ملین پاکستانی مغرب اور اس کے اتحادی مشرق وسطیٰ کے ممالک میں کام کر رہے ہیں، جو پاکستانی معیشت کو زمین بوس ہونے سے بچانے کے لیے ہر سال تیس بلین ڈالر سے زیادہ رقم بھیجتے ہیں۔ لیکن چین نے پاکستان کی معیشت میں تقریباً بیس بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور پاکستانی فوج اپنے ہتھیاروں میں جدت لانے اور نئے ہتھیاروں کے حصول کے لیے چین پر انحصار کرتی ہے۔ اس نے اقوام متحدہ میں ویٹو پاور کا بھی استعمال کیا ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر میں مسلح مزاحمت کی پشت پناہی کرنے پر پاکستان پر پابندیاں لگانے کی بھارت کی کاوش کو ناکام بنایا جا سکے۔ اس کوشش کو مغرب کی تائید بھی حاصل تھی۔ لہٰذا جب کسی بھی بین الاقوامی فورم پر دباؤ کا سامنا ہوتا ہے تو پاکستان امریکہ کے خلاف چین کا ساتھ دیتا ہے۔

اسٹبلشمنٹ کی طرف سے وضع کردہ پاکستان کا نیا قومی سلامتی پالیسی فریم ورک خطے میں جیو اسٹریٹجی کے بجائے جیو اکنامکس پر زور دیتا ہے کیونکہ پاکستان کو اپنی ناکام معیشت اور معاشرے کو توانا کرنے کے لیے تجارت اور امداد کی اشد ضرورت ہے۔ اس نسخے کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کی جیو اکنامکس امریکہ اور مغرب پر منحصر ہے جن کی جغرافیائی حکمت عملیوں کی پاکستان حمایت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ علاقائی روابط کے لیے چین کا سی پیک منصوبہ تعطل کا شکار ہے، جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وسطی ایشیا، افغانستان کا گیٹ وے انتہائی غیر مستحکم ہے اور ایران پر امریکا کی سخت پابندیاں ہیں۔ بھارت میں عسکریت پسند ہندوتوا کو عروج حاصل ہے۔ اس نے کشمیر پر تنازعات کے حل کے امکانات کو کم کر دیا ہے۔ چنانچہ فروغ پاتی ہوئی عالمی طاقت کے ساتھ پاکستانی رابطے کی راہیں بھی مسدود ہیں۔

پاکستان کی سول ملٹری حکمران اشرافیہ صورت حال کو درست کرنے کی غلط کوششوں اور تضادات کے جال میں پھنسی ہوئی ہے۔ بیرونی دنیا میں اس کی معیشت امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں سے جڑی ہوئی ہے لیکن اس کی سیاست نے چین کا ہاتھ تھاما ہوا ہے۔ اس تضاد کی وجہ سے جیو اکنامکس روابط کا سفر شروع نہیں ہو پا رہا۔ داخلی طور پر اس کی سیاست انتہائی غیر جمہوری انداز لیے ہوئے ہے۔ اس کا مرکزی فارمولہ تقسیم کرو اور حکومت کرو ہے جو سیاسی عدم استحکام اور معاشی بے یقینی پیدا کر رہا ہے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اعتراف کیا کہ وہ دو طرفہ قرضوں میں تقریباً 27 بلین ڈالر کی ری شیڈولنگ کے خواہاں ہیں جو زیادہ تر چین اور مغربی مالیاتی اداروں سے لیے گئے ہیں۔ اس دوران بین الاقوامی برادری سے بھی درخواست کی جا رہی ہے، خاص طور پر پیرس کلب سے کہ تباہ کن سیلاب سے معیشت کو پہنچنے والے نقصان کو پورا کرنے کے لیے اربوں ڈالر کی گرانٹ درکار ہے۔ معیشت کی مایوس کن حالت موڈیز انویسٹرس سروس کی طرف سے کاروباری اعتماد کو بی درجے سے سی تک کم کردینے اور عالمی بنک کی طرف سے جی ڈی پی کی شرح دو سے تین فیصد تک رہنے کی توقع سے ظاہر ہوتی ہے۔ اس پر مستزاد 2024  کے لیے پاکستان کے عالمی بانڈز پر سود کی بھاری شرح کی توقع کرتے ہوئے سرمایہ کار انہیں فروخت کر رہے ہیں۔ اس سے مالیاتی بحران کے گہرے ہوتے ہوئے سایوں کی جھلک ملتی ہے۔

اپنی عمر کے 75 ویں سال پاکستان کو داخلی معاشی انہدام اور سیاسی عدم استحکام کا سامنا ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان تنہائی اور سرد مہری کا شکار ہے۔ یہ وہ ماحول ہے جس میں اس کے جوہری اثاثوں کے تحفظ کی بابت خطرے کی چنگاری پھوٹی ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم معاملات کو حکومت تبدیل کرنے کے لیے ”لانگ مارچ“ کرتے ہوئے بد سے بدتر بنا دیتے ہیں۔ اس دوران ہمارے پاس معاشی اور خارجہ پالیسی کو سدھارنے کے لیے کوئی ایسا فارمولہ نہیں ہوتا جس کے ذریعے ریاست اور معاشرے میں واضح تبدیلیاں لائی جا سکیں۔

(بشکریہ: فرائیڈے ٹائمز)