رکن قومی اسمبلی کی گرفتاری کیلئے اسپیکر کی منظوری لازمی ہوگی

  • جمعرات 20 / اکتوبر / 2022

پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں کسی رکن کی گرفتاری کے لیے قواعد و ضوابط میں ترامیم منظور کرلی گئی ہیں۔ کسی رکن اسمبلی کی گرفتاری کے لئے اسپیکر سے اجازت لینا ہوگی۔  

قواعد میں ترمیم کی تحریک مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسبملی مرتضیٰ جاوید عباسی نے پیش کی۔ مجوزہ ترامیم میں کہا گیا کہ کسی بھی رکن اسمبلی کی گرفتاری سے قبل اسمبلی کے اسپیکر سے اجازت لینا اور گرفتاری کے بعد تحویل میں رکھنے کے مقام سے بھی آگاہ کرنا ضروری ہوگا۔ کسی رکن اسمبلی کو قومی اسمبلی کے احاطے سے گرفتار کرنے پر پابندی ہوگی۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے تجویز پیش کی کہ ارکان کے پروڈکشن آرڈر لازمی جاری کرنے کو بھی ترمیم کا حصہ بنایا جائے۔ بعد ازاں قومی اسمبلی نے اکثریت رائے سے رکن اسمبلی کی گرفتاری سے متعلق قواعد میں ترامیم کی تحریک منظور کرلی۔ تحریک میں پیش کی گئی رکن اسمبلی کی گرفتاری کی اجازت اسپیکر سے لینے اور اسمبلی احاطے سے گرفتاری نہ کرنے کے ساتھ ساتھ ارکان کے پروڈکشن آرڈر لازمی جاری کرنے کی ترمیم بھی منظور کی گئی۔

خواجہ آصف کی زبانی درخواست پر مجوزہ ترامیم میں یہ اضافہ بھی کیا گیا کہ گرفتار رکن قومی اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے پر پارلیمنٹ لاجز میں قائم اس کے گھر کو سب جیل قرار دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر اعظم خان سواتی کی جانب سے متنازع ٹوئٹ پر گرفتاری کے معاملے کے بعد حکومت نے قومی اسمبلی کے کسی بھی رکن کی گرفتاری سے متعلق رولز میں ترمیم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔