اسلام آباد ہائیکورٹ نے آصف زرداری کی 4 ریفرنسز میں بریت کے خلاف نیب کی اپیل مسترد کردی

  • جمعرات 20 / اکتوبر / 2022

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کی 25 سال پرانے 4 ریفرنسز میں بریت کے خلاف قومی احتساب بیورو کی درخواست مسترد کردی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی سربراہی میں بینچ نے سابق صدر آصف علی زرداری کی ارسس ٹریکٹر، اے آر وائی گولڈ، کوٹیکنا اور ایس ایس جی ریفرنسز میں بریت کے خلاف نیب کی اپیلوں پر سماعت کی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ نیب کے پاس میرٹ پر کوئی کیس نہیں ہے۔

نیب کے پروسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے مقدمات واپس لینے کی درخواست دائر کی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے آپ کو کئی بار کہا کہ یہ اپیل میرٹ پر بھی نہیں بنتی۔ پروسیکیوٹر نے تسلیم کیا کہ بالکل نہیں بنتی اس لیے متعلقہ اتھارٹی نے اپیلیں واپس لینے کی منظوری دی ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا نیب نے کوئی انکوائری کی کہ کیس کا ریکارڈ کہاں گیا تو نیب کے وکیل نے جواب دیا انکوائری کا حکم دیا گیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے آصف علی زرداری کی بریت کے خلاف اپیلیں خارج کرینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ہم نیب کی اپیلیں واپس لینے کی درخواست بھی منظور کر رہے ہیں اور نیب کی اپیلیں میرٹ پر خارج بھی کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یہ اپیلیں میرٹ پر بنتی ہی نہیں تھیں جبکہ جسٹس سردار اعجاز نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ مقدمات کا ریکارڈ کہاں گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ان کو معلوم ہے کہ ریکارڈ کہاں گیا۔ نیب پروسیکیوٹر کو مخاطب کرکے چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے گزشتہ سماعت پر کہا تھا کہ ریکارڈ سپریم کورٹ اور احتساب عدالت کے درمیان سے غائب ہوا۔ کیا آپ کہتے ہیں کہ رجسٹرارز نے وہ ریکارڈ غائب کر دیا۔ پروسیکیوٹر نیب جہانزیب بھروانہ نے کہا کہ اس کی انکوائری کا حکم دیا گیا ہے۔

اس سے قبل 24 نومبر 2015 کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایس جی ایس اور کوٹیکنا ریفرنسز میں آصف علی زرداری کو عدم شواہد کی بنا پر باعزت بری کردیا تھا۔ سابق صدر آصف علی زرداری اور بے نظیر بھٹو کے خلاف دونوں ریفرنسز 1998 میں سابق چیئرمین نیب سیف الرحمٰن کے دور میں بنائے گئے تھے، جن میں ان پر غیر ملکی کمپنیوں کو شپنگ کے ٹھیکے دینے میں کمیشن وصول کرنے کا الزام تھا۔

واضح رہے کہ حال ہی میں نیب نے سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف 25 سال پرانے کیس میں بریت کے خلاف اپیلیں واپس لینے کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کر دی تھی۔ نیب نے مؤقف اپنایا تھا کہ اپیلوں کی مزید پراسیکیوشن ایک لاحاصل مشق ہو گی۔ آصف زرداری کے خلاف دستاویزات کی فوٹو کاپیاں بھی مشکل سے ریکارڈ پر ہیں۔ دستیاب دستاویزی شواہد قانون شہادت کے مطابق نہیں۔