سرسیدؒ: قومیتی اشتراک کا پاسبان
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 20 / اکتوبر / 2022
17 اکتوبر 1817 کو دہلی میں جنم لینے والے جنوبی ایشیا کے عظیم مذہبی و سماجی اور تہذیبی و تعلیمی مصلح سرسیدؒ درویش کے پیرومرشد ہیں۔ زندگی انہیں پڑھتے اور ان کی حیات و خدمات اور نگارشات و افکار پر تحقیق کرتے گزری ہے۔
مگر ہمارے مطالعہ پاکستان میں ان کا بھی مثلہ بنا دیا گیا ہے ساری توڑ پھوڑ اور بربادی ان پر مڑھ دی جاتی ہے۔ حالانکہ انڈین نیشنل کانگرس کو بھی ایک انگریز مسٹر ہیوم نے بنوایا تھا اس کے باوجود سرسیدؒ نے مسلمانوں کو نہ صرف کانگرس میں جانے سے منع کر دیا تھا بلکہ سیاست سے ہی روک دیا تھا۔ ان کی ایک ہی لگن تھی کہ میرے بچو! پہلے علم کی روشنی حاصل کرو پھر آگے بڑھو۔ ان کے ادارے سے فیضیاب ہونے والوں میں ہندو مسلم کی کوئی تمیز نہ تھی بلکہ ان کا پہلا گریجوایٹ ایک ہندو نوجوان تھا، وہ انڈین ایلیٹ کلاس کو راجہ رام موہن رائے کی طرح تعلیمی و شعوری حوالے سے انگریز کے لیول پر لانا چاہتے تھے۔
سرسیدؒ زندگی بھر برٹش سرکار کے اس قدر وفادار رہے کہ وہ یہ چاہتے ہی نہیں تھے کہ انگریز انڈیا کو چھوڑ کر جائیں، برٹش سرکار کے خلاف 1857 کے غدر کو انہوں نے ہمیشہ غدر ہی لکھا اور بولا، کبھی بھولے سے بھی اسے تحریک آزادی کا نام نہیں دیا۔ اس سرکشی و بغاوت کے جو اسباب انہوں نے بالصراحت تحریر فرمائے ان میں ضرور انہوں نے انگریز سرکار اور کمپنی بہادر کی زیادتیاں، غلطیاں اور کوتاہیاں ان پر واضح فرمائیں۔ یہ ہند پر برٹش کی مہربانیوں کے باعث ان کا جذبہ خیر خواہی تھا نہ کہ کسی مخاصمت و منافرت کا اظہار۔
برٹش پارلیمنٹ میں اس پر کھلی بحث ہوئی کہنے والوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ایسی سرکشی پر مبنی کتاب تحریر کرنے والے کو تو پھانسی کی سزا ہونی چاہیے مگر جو سچائی کے قدردان حقائق آشنا انگریز تھے انہوں نے بجائے سید صاحب پر تیر و نشتر چلانے کے، جذبہ خود احتسابی کے تحت کتاب میں بیان کردہ اپنی زیادتیوں اور کوتاہیوں کو اس تمامتر غدر کا باعث یا مورد الزام ٹھہرایا۔
سرسید ذہنی و قلبی طور پر برٹش سرکار کی ہندوستان میں مضبوطی و کامیابی چاہتے تھے۔ وہ علیٰ وجہ بصیرت اس سوچ میں پختہ تر تھے کہ برٹش سرکار اہل ہند کے لئے باعث رحمت ہے۔ ان کے زیر سایہ اس خطے اور یہاں بسنے والے پسماندہ لوگوں کی زندگیاں سنور رہی ہیں، ان میں سائنٹیفک سوچ اور شعوری اپروچ ابھر رہی ہے۔ پورے انڈیا میں تعمیر و ترقی ہو رہی ہے، ادارے بن رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غدر کے ہولناک حالات میں انہوں نے بجنور اور مرادآباد میں نہ صرف برٹش سرکار بلکہ عام انگریزوں کی زندگیاں بچانے کے لئے اپنی جان جوکھوں میں ڈال دی۔ ایک موقع پر تو وہ محمود خاں جیسے متشدد لوگوں کے ہاتھوں قتل ہوتے ہوئے بڑی مشکل سے بچے۔ اسی طرح ایک رات اگر سرسید چھپ چھپا کر بھاگ نکلنے میں کامیاب نہ ہوتے تو وہیں مارے جاتے۔
سرسیدؒ کے خطبات و مناجات میں وہ ساری تحریریں موجود ہیں جب وہ مساجد میں نماز کے بعد باغیوں کی ناکامی اور انگریزوں کی کامیابی کیلئے ہاتھ اٹھا اٹھا کر دعائیں مانگتے ہی نہیں پائے جاتے ہیں بلکہ بھڑکتی آگ کے شعلوں میں استقامت کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ناچیز خود کو سرسید کے ادنیٰ فکری بالک کی حیثیت سے کوئی نئی چیز نہیں ان کی توسیع و تسلسل خیال کرتا ہے۔ اس لیے اس کا نقطہ نظر ہے کہ برٹش سرکار کو یہاں متحدہ ہندوستان میں کم از کم دو سو سال نہیں تو ایک صدی تک مزید رہنا چاہیے تھا۔ بلاشبہ یہ ان کا ملک نہیں تھا وہ اس کے فاتح و قابض تھے اور انہوں نے بہرصورت ایک نہ ایک دن اپنا بوریا بستر سمیٹتے ہوئے یہاں سے نکلنا ہی تھا۔ لیکن بھانت بھانت کی بولیوں اور نسلی و مذہبی تعصبات والے لوگوں کی فکری تطہیر اور ذہنی آبیاری کیلئے لازم تھا کہ برٹش رول میں عوام کی شعوری سطح بلند ہو کر انگریز تک نہیں تو اس کے آس پاس پہنچ جاتی۔ جمہوریت کی کامیابی کیلئے جتنی ذہنی گروتھ درکار تھی وہ انہیں حاصل ہو جاتی۔
وہ برٹش سرکار کے زیر سایہ بلاتمیز فرقہ وعقیدہ تمام ہندوستانیوں کو زیادہ پھیلتا پھولتا دیکھ رہے تھے، جس طرح نیم حکیم اور نیم ملا کو نسبتاً زیادہ نقصان دہ تسلیم کیا جاتا ہے اسی طرح نیم خواندہ شخص ان پڑھوں سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ اپنے مفادات کا تو خوب سوچنے لگتا ہے لیکن وسعت نظری و قلبی کیا ہے؟ انسانیت کے تقاضے کیا ہیں؟ ان اعلیٰ آدرشوں تک اس کی رسائی نہیں ہو پاتی۔ ایسے ہوشیار و چالباز کے بالمقابل ٹھیٹ ان پڑھ لوگوں میں نسبتاً حوصلہ و برداشت بہتر ہوتا ہے، وہ محض اپنے پیٹ پر ہاتھ مارنے کی بجائے دوسرے کی بھوک کا بھی کچھ نہ کچھ احساس کر لیتے ہیں ان میں ایک نوع کی عاجزی و انکساری ہوتی ہے کہ ہم غریب تو ان پڑھ ہیں ہمیں نہیں معلوم کہ کون سی چالیں چلنی ہیں جبکہ نیم خواندہ ان کے بیچ بیٹھا نہ صرف اپنی تعلیم کا رعب جھاڑتا پایا جاتا ہے بلکہ اندھوں میں کانا راجہ بن کر حقوق کے نام پر طبقاتی منافرتوں کا خوب پرچار کرتا ہے۔ اس پس منظر میں انگریز کمشنر شیکسپیئر کے سامنے بیٹھے سرسید اس کے اس سوال پر کہ میں نے آج سے پہلے کبھی آپ کو ہندو مسلم کی الگ سے بات کرتے نہیں دیکھا۔ آپ ہمیشہ انڈیا اور انڈینز کی بات کرتے رہے ہیں۔
سرسیدؒ جواب دیتے ہیں کہ آپ بالکل ٹھیک فرما رہے ہیں میں تو ہر دو فرقوں میں کوئی امتیاز نہیں کرتا۔ مگر ہمارے یہ لوگ جو خود کو پڑھا لکھا خیال کرتے ہیں، ان کی وجہ سے مفاداتی بھڑکاؤ بڑھے گا جس طرح یہ اردو و ہندی تنائو بڑھا رہے ہیں۔ میری بوڑھی نگاہیں دیکھ رہی ہیں کہ ان دونوں فرقوں کے یہ پڑھے لکھے لوگ کسی بھی کام میں دلجمعی اور خلوص کے ساتھ باہم مل کر اکٹھے نہیں چل پائیں گے یوں ان میں فاصلہ بڑھتا چلا جائے گا۔
یہاں یہ واضح رہے کہ یہ اس بزرگ دانا کی پیش بینی یا آگے دور تک دیکھنے کی صلاحیت تھی، تمنا سوچ یا آرزو ہرگز نہیں تھی۔ بجھے دل اور افسردہ نظر سے یہ سب وہ شخص محسوس کر رہا تھا جس نے کبھی ہندو مسلم کے مذہبی خلفشار کو اپنے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیا تھا۔ کیسے کیسے مواقع آئے دائیں بائیں سے بھڑکاؤ لوگوں نے تیلیاں لگائیں۔ جو شخص اپنے بچوں کے منہ سے اپنے تعلیمی ادارے کی ایک دمڑی بھی انگلی ڈال کرنکال لیتا تھا، اس ادارے کا ایک ہندو کیشیئر بددیانتی کی اخیر کرتے ہوئے بھاری نقصان پہنچا دیتا ہے جس کے صدمے سے سرسید اٹھ نہیں پاتے مگر مجال ہے کہ ان کے لبوں پر ایک بار بھی مذہبی منافرت یا ہندو کیلئے برائی کا کوئی ایک لفظ بھی آیا ہو۔
سرسیدؒ کا کون سا عقیدت مند ہے جس نے پیہم ان کی وہ تقاریر اور وعظ پڑھے سنے نہ ہوں جن میں وہ تکرار کے ساتھ فرماتے ہیں کہ انڈیا میرے لئے ایک خوبصورت دلہن کی مانند ہے ہندو اور مسلمان اس حسین دلہن کی دو آنکھیں ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک آنکھ بھی اگر کمزور یا خراب ہو گی تو دلہن خوبصورت نہیں بھینگی لگے گی۔ کیا کوئی باذوق انسان دلہن کو بدصورت یا بھینگی دیکھنا پسند کرے گا؟ قومیتی و تہذیبی اشتراک کے ریفرنس سے خود کو ہمیشہ ہندو قرار دیتے رہے۔ مہاتما گاندھی زندگی بھر اپنی آنکھوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے ہندو اور مسلم کو جس طرح اپنی دو آنکھیں قرار دیتے تھے۔
سچ تو یہ ہے کہ اس گاندھین اپروچ کے اولین مبلغ و پرچارک سرسیدؒ تھے۔ وہ مذہبی تفرقوں کو پاٹنے ، شعور کی روشنی پھیلانے والے وحدت و اشتراک کے علمبردار انسان نواز مصلح و رہنما تھے۔ گاندھی جی نے بجا طور پر انہیں ’’پرافٹ آف ایجوکیشن‘‘ قرار دیا تھا۔