ٹونی عثمان کا ڈرامہ ’سو فی صد‘ ادھوری زندگی کی مکمل کہانی ہے

پاکستانی نژاد نارویجئن ڈائیریکٹر اور کہانی نویس ٹونی عثمان نے   اپنے نئے اسٹیج ڈرامے ’سو فیصد‘ کے ذریعے ایک بار پھر شناخت ، انسانی سوچ، رویوں اور نفسیات پر اس کے اثرات کو  موضوع بحث بنایا ہے۔ اکتوبر کے وسط میں یہ ڈرامہ اوسلو کے  رومن اسٹیج پر پیش کیا گیا۔ افتتاحی شو  میں  ڈرامے کے زیادہ ناظرین  مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن تھے تاہم سفید فام نارویجن لوگوں کی معقول تعداد بھی اس موقع پر موجود تھی۔

’سو فیصد’ دیکھنے کے بعد پہلا تاثر یہی ملتا ہے کہ ڈائیریکٹر نے دو مختلف  ثقافتوں کے ملاپ کو ایک نئے تناظر میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ڈرامے کا ایک اہم کردار  فاروق گھمن ہے جسے بھارتی نژاد اداکار  منیش شرما نے خوبصورتی سے ادا کیا ہے۔  فاروق کے والدین     پاکستان سے ناروے آنے والے تارکین وطن کی پہلی نسل سےتعلق رکھتے تھے۔ وہ بظاہر کامیاب، خوشحال اور قابل رشک زندگی گزار رہا ہے۔ لیکن وہ  بعض ایسی ذاتی الجھنوں، بے یقینی اور  جذباتی  پریشانیوں کا شکار ہے  کہ  وہ ایک   ماہر نفسیات  اوسمند ہالوورسن   سے مدد  طلب کرتا ہے۔ ماہر نفسیات اوسمند کا کردار نارویجئن اداکار کھنیوت  ستین نے ادا کیا ہے ۔    فاروق اپنی پریشانیوں  کے بھنور میں گھرا ناروے کے سب سے مقبول ماہر نفسیات سے  رجوع کرتا ہے۔  وہ اوسمند ہالوورسن کے ساتھ  سیشنز میں بار بار اس بات پر اصرار بھی کرتا ہے کہ اوسمند ملک کا مقبول ماہر نفسیات ہے اور وہ اسے اپنے ’علاج‘ کے لئے بھاری فیس ادا کرچکا ہے۔

ایک مریض اور ماہر نفسیات کی ان ملاقاتوں میں اعتماد   و بھروسہ کا رشتہ دکھائی نہیں دیتا۔ فاروق بار بار نئے سیشن کے لئے اوسمند کے پاس واپس آتا ہے لیکن وہ  مسلسل اس بے یقینی کا اظہاربھی کرتا ہے کہ شاید ناروے کا مشہور ماہر نفسیات ہونے اور بھاری فیس وصول کرنے کے باوجود ہالوورسن  کے پاس اس کے مسائل کا حل نہیں ہے۔ ایسی  ہی ایک ملاقات کے دوران ناظرین کو علم ہوتا ہے کہ  ماہر نفسیات بھی ایک مریض کے ساتھ متعدد سیشن کرنے کے باوجود یہ نتیجہ اخذ نہیں  کرسکا کہ  آخر فاروق کیوں اس کے پاس آتا ہے اور وہ کیسے اس کی مدد کرسکتا ہے۔ اسی لئے وہ  سوال کرتا ہے کہ آخر تم چاہتے کیا ہو؟ اس کے جواب میں فاروق بتاتا ہے کہ ’میں سو فیصد خوشی و اطمینان   چاہتا ہوں‘۔  حیرت انگیز  طور پر نہ تو ایک کامیاب وکیل  کو یہ احساس ہے  کہ مکمل خوشی  ایک غیر واضح اور نامکمل اصطلاح ہے اور نہ ہی ماہر نفسیات اسے بتاتا ہے کہ مسائل کے ساتھ جینا  اور انہیں کامیابی سے حل کرتے رہنا ہی حقیقی زندگی ہے۔ اسے ہی خوش نصیبی سمجھنا چاہئے۔

ڈرامہ جوں جوں آگے بڑھتا ہے  تو ناظرین اندازہ کر  پاتے ہیں کہ  ایک کامیاب وکیل اور  مشہور  ماہر نفسیات کیوں کر ایک ایسے بنیادی نکتہ کو فراموش کررہے ہوتے ہیں۔ وکیل متعدد الجھنوں کا شکار ہے۔   وہ  معاشی، سماجی اور ذہنی لحاظ  سے اس مقام سے بہت آگے بڑھ چکا ہے جس سطح  پر  غالباً   ترک وطن کرکے ناروے آنے والا اس کا والد  موجود تھا۔ یہ کامیابی ایک لحاظ سے ناروے   جیسے دور دراز ملک میں ایک پاکستانی تارک وطن خاندان کی  نئے ماحول میں  پھلنے پھولنے کی  خوشنما داستان بیان کرتی ہے۔ لیکن اپنی بیٹی کے بارے میں فاروق کی الجھنیں اور  باپ کی قبر کی یاد کے علاوہ  موروثی ثقافت و روایت سے رشتہ جوڑے رکھنے کی خواہش ، اسے ذہنی اور جذباتی طور سے مفلوج کرتی ہیں جن کے اثر میں وہ ماہر نفسیات سے  رجوع کرتا ہے تاکہ وہ اسے خوشی دے سکے۔

دوسری طرف ماہر نفسیات اوسمند ہالوورسن  کی بیوی اسے گھر سے نکال چکی ہے، وہ  پیشہ وارانہ کامیابی  کے لئے شمالی علاقے  سے  دارالحکومت   آکر پریکٹس کرتا ہے ۔  کامیابی کے اس طویل سفر میں یادوں   کے بہت سے چراغ اس کی جذباتی کیفیت کو انگیختہ کرتے ہیں۔  ایسے میں جب اسی سے ملتی جلتی صورت حال کا شکار ایک مریض فاروق اس کے پاس آکر اپنے مسائل  بیان کرتا ہے اور اوسمند سے توقع کرتا ہے کہ وہ کوئی ایسا حل بتائے گا کہ فاروق کی زندگی خوشیوں سے بھر جائے گی تو وہ خود ایک داخلی بحران کا شکار ہوجاتا ہے۔ ڈرامے کے اسٹیج پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے کہ ماہر نفسیات ایک مریض کے سامنے خود اپنے دکھوں کی گٹھری کھول کر بیٹھ جاتا ہے ۔  ڈرامے کے اختتام تک پہنچتے ہوئے  یہ اندازہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ  فاروق اور اوسمند میں سے مریض کون ہے اور کون کسے کتنی خوشی دے سکتا ہے۔

شاید یہی   ڈائیریکٹر ٹونی عثمان کا اصل مقصد بھی ہو کہ ناظرین کو یہ احساس دلایا جائے کہ  کامیابی اور خوشی کو کسی خاص پیمانے سے ماپا نہیں جاسکتا۔  پاکستان سے ناروے کی  کسی فیکٹری میں مزدوری کے لئے آنے والے ایک  تارک وطن کے لئے شاید یہی  طمانت قلب کی معراج ہو کہ  اس کا بیٹا کامیاب وکیل ہے اور مالی لحاظ سے خوشحال ہے۔  لیکن اس کامیاب بیٹے کے لئے مالی اور پروفیشنل کامیابی درحقیقت زندگی  کا معمول ہے۔ اب اس کے لئے اپنی بیٹی کے خیالات  پریشانی کا سبب بن سکتے ہیں یا ماضی کی یاد اور فیض احمد فیض کی شاعری سے وابستگی ۔۔۔ جسے وہ بظاہر راہ فرار اختیار کرنے کے لئے گنگناتا رہتا ہے، اس کے پاؤں کی زنجیر بنی ہوئی ہو۔ یہی پریشانی بیوی کے ساتھ اس کے تعلقات اور  معاشرے کے بارے میں اس کے احساسات پر اثر انداز ہوتی ہے۔

ڈرامے  کے دوران سدھیش ادھانا  نے اپنے   رقص  کے ذریعے زندگی کے نشیب و فراز کو  اسٹیج پر یوں مصور کیا کہ وہ اس  ڈرامے کا اٹوٹ انگ بن گئے۔ یہ ایک طرف ادھانا  کی بھرپور فنی مہارت کا مظاہرہ ہے تو دوسری طرف ڈائیریکٹر ٹونی عثمان  کی فنکارانہ صلاحیتوں کا اظہار بھی ہے کہ انہوں نے  دو افراد کے مکالمہ پر مشتمل  ڈرامہ  کو سدھیش ادھانا کے رقص ، انگری کھنڈم کی موسیقی اور روہنی  سہجپال و عدیل برکی کی آواز میں  خوبصورتی سے مزین کیا ہے۔ سدھیش ادھانا کے رقص کرداروں کی الجھنوں کا نمایاں طور سے اسٹیج پر منعکس کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی رقاص اور ڈائیریکٹر کی کامیابی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

کسی اچھے فن پارہ کی طرح یہ اسٹیج ڈرامہ بھی کسی مسئلہ کا کوئی حل پیش نہیں کرتا لیکن متعدد ایسے پہلوؤں کو سامنے لاتا ہے جو زندگی کی  گہما گہمی میں ہماری نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔  ’سو فیصد‘ یہ بتانے میں بھی کامیاب ہے کہ   خوشی کسی ٹھوس کیفیت کا نام نہیں ہے  اور نہ ہی کسی ایک شعبہ میں کامیابی سے خوشیوں کے سارے دروازے وا ہوجاتے ہیں۔   کامیابی  کی طرح خوشی و مسرت پانے کے لئے  بھی جہد مسلسل کی ضرورت ہوتی ہے ۔