ملکی و قومی سلامتی کے تقاضے
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- جمعرات 20 / اکتوبر / 2022
پوری قوم ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہے ضمنی انتخابات اس کے اعصاب پر سوار رہے پھر انتظار تھا کہ عمران خان الیکشن جیتنے کے بعد لانگ یا شارٹ مارچ کا اعلان کر دیں گے لیکن ہیجانی کیفیت ابھی تک طاری ہے۔ کیونکہ انہوں نے ابھی تک لانگ یا شارٹ مارچ کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا ۔
اس لئے ہیجان اپنی پوری قوت کے ساتھ طاری رہے گا۔ اطلاعات ہیں کہ پنجاب، کے پی، جی بی اور آزاد کشمیر کی طرف سے اسلام آباد/ راولپنڈی کی طرف آنے والے مرکزی مقامات کی نشاندہی کی جا چکی ہے جہاں قافلے پڑاؤ ڈالیں گے انہیں وصول کرنے، ٹھہرانے، کھانے پینے وغیرہ کی ذمہ داریاں بھی تفویض کر دی گئی ہیں ۔ یہ قافلے لانے والوں کو بھی اطلاعات دی جا چکی ہیں کہ کون کتنے بندے لائے گا۔ کیسے لائے گا کہاں لائے گا، کہاں ٹھہرائے گا، جزوی طور پر سب کو پتہ ہے کہ کس نے کیا کرنا ہے لیکن کلی طور پر سوائے کچھ لوگوں کے کسی کو کچھ نہیں پتہ کہ کیا ہوگا اور کیسے ہوگا؟ عمران خان یہ سب کچھ اپنے سینے سے لگائے بیٹھے ہیں یہ ساری پلاننگ کون کر رہا ہے مینجمنٹ پلان کس کے پاس ہے یہ کسی کو پتہ نہیں ہے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ سب کچھ بڑے منظم انداز میں کیا جا رہا ہے اور تنظیمی انداز میں کوئی تنظیم ہی یہ کچھ کر رہی ہو گی ظاہر ہے یہ تنظیم پی ٹی آئی تو نہیں ہو سکتی۔
دوسری طرف امریکی صدر کا ہمارے ایٹمی پروگرام کے بارے میں انتہائی سنجیدہ اور خطرناک بیان ہے جس پر قوم کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جانا چاہئے تھا لیکن ہماری حالت یہ ہے کہ ہم الیکشن الیکشن کھیل رہے ہیں ۔ضمنی انتخابات کے نتائج پر بحث و مباحثے ہو رہے ہیں ۔آئندہ کے لائحہ اعمال پر گفتگو ہو رہی ہیں۔ دھمکیاں دی جا رہی ہیں لانگ شارٹ مارچ کی جوابی کارروائی کی، مار دھاڑ کی، اب تو یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ افراتفری کے بطن سے اگر ایک بار پھر مارشل لاء نکل آیا تو پھر کیا ہوگا۔ ہم کیا کریں گے۔ اقوام عالم میں ہماری پوزیشن پہلے ہی کمزور ہے مارشل لاء کے نتیجے میں کچھ بگاڑیں اضافہ نہیں ہو جائے گا۔ ہماری ساکھ اور بھی کمزور نہیں ہو جائے گی؟
ہم قومی سطح پر ایک قوم کے طور پر قدرتی آفت کا شکار ہیں بارشوں نے 2/3 ملک مکمل طور پر سیلاب برد کر دیا ہے ساڑھے تین کروڑ شہری اس کا براہ راست شکار ہو چکے ہیں ہماری زراعت جو ہمار ی63 فیصد آبادی کا روز گار ہے مکمل طور پر بربادی کا شکار ہو گئی ہے۔ وبائیں پھیل چکی ہیں، آباد کاری ہمارے بس میں نہیں ہے ۔ہمارے سرکاری ادارے اور سول سوسائٹی اس قابل نہیں ہے کہ اتنی بڑی آفت کا سامنا کر سکے۔ اس سے نمٹ سکیں حالات کا مقابلہ کر سکے ساڑھے تین کروڑ بے گھر آفت زدہ افراد کی بحالی کا کام کر سکے۔ 30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔ ہماری معیشت پہلے ہی مشکلات کا شکار تھی، کورونا تباہی مچا چکا تھا، عمران خان کی 44 ماہی حکمرانی نے معاملات کو پوائنٹ آف نو ریٹرن تک پہنچا دیا تھا۔ آئی ایم ایف اور دیگر عالمی زری و مالیاتی ادارے ہم سے ناراض ہو چکے تھے سعودی عرب، ترکی اور ایسے ہی برادر ممالک بھی ہم سے کنارہ کشی اختیار کر چکے تھے ایسے میں اپریل 2022 میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان حکومت کو چلتا کیا گیا اس دن سے عمران خان سڑکوں پر ہیں فوری انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں اس پر مستزاد سیلاب نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے معاملات بگڑتے ہی چلے جا رہے ہیں۔
وزیر اعظم نے بڑے واضع انداز میں کہہ دیا ہے کہ آنے والے دنوں میں ہمیں خوراک کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، قدرتی آفت اور عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث غذائی بحران بڑھ سکتا ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ کئے گئے معاہدے کی شرائط پوری کرنا شاید اب ممکن نہیں ہوگا۔ شہباز شریف حکومت نے آئی ایم ایف کو منانے کے لئے معاشی معاملات کو اس طرح چلایا کہ مہنگائی کا سونامی آیا۔ عوام کا بھرکس نکل گیا قدر زرمیں گراوٹ پیدا ہوئی عوام کی معاشی حالت پتلی نہیں بلکہ بالکل ہی پتلی ہو چکی ہے۔ اشیائے خورونوش کی قیمتیں ہوں یا بجلی، گیس اور پٹرول کی آسمان کو چھوتی ہوئی قیمتیں کسی کے بس میں نہیں رہی۔ صنعتی یونٹس بند ہو چکے ہیں بے روز گاری بھی عروج پر ہے۔ معاملات بالکل بے قابو نظر آ رہے ہیں۔
اس پس منظر میں امریکی صدر کا پاکستان اور ایٹمی پروگرام کے بارے میں خطرناک بیان، انتہائی سنجیدگی سے لیا جانا چاہئے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ذرا غور کریں دنیا کی سب سے بڑی طاقت (امریکہ) کا سب سے طاقتور شخص (صدر) اپنے حلیف ملک اور اس کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں بڑے واضع انداز میں خوفناک بات کہتا ہے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہم سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر سب سیاسی و غیر سیاسی اختلافات بھلا کر سنجیدگی سے سرجوڑ کر بیٹھ جاتے بیان کی سنجیدگی پر غور کر کے لائحہ عمل ترتیب دیتے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا ۔چند مہینے پہلے جب قدرت کی ناراضگی، شدید ناراضگی کا اظہار ہوا۔ عذاب کا کوڑا برسا سیلاب نے نظام الٹ پلٹ کر لکھ دیا تو ہمیں اس وقت بھی تھوڑی نہیں بہت سی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا لیکن ہم اس وقت بھی اپنے ہی کاموں میں لگے رہے شہباز شریف اور صوبہ سندھ کی حکومت بھاگ دوڑ کرتی نظر آئی۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور اینجلینا جولی نے یہاں دورہ کیا۔ برادر اسلامی ممالک نے امدادی جہاز بھیجے اقوام مغرب نے بھی امداد دی اور امداد کے وعدے کئے لیکن ہم نے اس معاملے میں بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اشیاء خورد و نوش پہلے ہی عام فرد کی رسائی سے دور جاتی نظر آ رہی ہیں۔
یو کرین کی جنگ نے عالمی مارکیٹ کے نظام رسد میں بھی گڑبڑ کر رکھی ہے ہمیں اس طرف سے بھی کسی خیر کی توقع نہیں ہے آنے والے دنوں میں قلت اور قحط کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ گیس کی پہلے ہی قلت ہے ہمیں سستی ایل این جی بھی دستیاب نہیں ہے ۔سردیوں میں عوام کو کھانا پکانے کے لئے درکار ایندھن کا حصول بھی مشکل تر ہوگا۔ بے روز گاری اور قدر زر میں کمی کے باعث عامتہ الناس کی قوت خرید پہلے ہی پستیوں کو چھو رہی ہے۔ ایسے مایوس کن اور خوفناک حالات میں سیاست اور الیکشن کا کھیل کھیلنا مجرمانہ عمل نہیں تو اور کیا ہے۔ عمران خان کی منفی اور احتجاجی سیاست ملک کو بحران کی طرف دھکیل رہی ہے۔ حکمرانوں کی ناکارکردگی اور عوامی بے بسی معاملات میں بگاڑ کا پتہ دے رہی ہے۔ ا
صلاحِ احوال کی سردست کوئی صورت نظر نہیں آ رہی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے سیاسی اختلافات بھلا کر ملک و قوم کو بحران سے نکالنے کی سبیل نکالیں اور کوئی ایسا متفقہ لائحہ عمل اختیار کریں جو ہمیں مزید تباہی و بربادی سے بچا سکے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)