دورانِ حراست تشدد کو جرم قرار دینے کا بل سینیٹ سے منظور

  • جمعہ 21 / اکتوبر / 2022

سینیٹ کے اجلاس میں چار بل منظور کیے گئے جن میں سے ایک میں پہلی مرتبہ زیر حراست ملزمان پر تشدد کو جرم قرار دیا گیا۔

 دوران حراست کسی شخص کو سرکاری اہلکاروں کی طرف سے کیے جانے والے تشدد کی تمام کارروائیوں سے تحفظ فراہم کرنے کا بل، ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ (روک تھام اور سزا) بل مجریہ 2022  قومی اسمبلی سے پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے۔ اس قانون سے مستقبل میں تشدد کے الزامات کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے اصلاحات کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔

بل کے اغراض و مقاصد میں لکھا گیا کہ یہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ براہ راست یا ادارہ جاتی طریقہ کار کے ذریعے اپنے شہریوں کو ہر قسم کے تشدد کے خلاف تحفظ اور منصفانہ ٹرائل کا حق فراہم کرے۔ آئینی دفعات اور ضمانتوں کے باوجود پاکستان کے فوجداری قانون کے اندر تشدد کی کارروائیوں کی کوئی قطعی تعریف یا سزا نہیں ہے۔ لہذا بل کا مقصد سرکاری اہلکاروں کے زیر حراست افراد کے خلاف تشدد، زیر حراست موت اور زیر حراست عصمت دری کی کارروائیوں کو مجرمانہ فعل قرار دینا، روکنا اور اس طرح کی کارروائیوں کے متاثرین کو معاوضہ فراہم کرنا ہے۔

بل میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے کنونشن اگینسٹ ٹارچر اور دیگر ظالمانہ، غیر انسانی اور توہین آمیز سلوک یا سزا (یو این سی اے ٹی) اور شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے (آئی سی سی پی آر) کا دستخط کنندہ ہے۔ یہ معاہدے کسی بھی زیر حراست  شخص کے وقار کے حق کا تحفظ کرتے ہیں۔

مذکورہ بل صدر کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ کا ایکٹ بن جائے گا، جس کے تحت کوئی بھی سرکاری اہلکار جو تشدد کا ارتکاب کرے گا یا اس کی حوصلہ افزائی کرے گا یا اس کی سازش کرے گا اسے وہی سزا دی جائے گی جو تعزیرات پاکستان میں مقرر ہے

بل کے ایک سیکشن میں لکھا گیا کہ ’کوئی بھی شخص جو حراست میں موت کے جرم کا ارتکاب کرتا یا اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے یا اس کی سازش کرتا ہے، اسے وہی سزا دی جائے گی جو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302 میں بیان کی گئی ہے۔ بل میں حراستی عصمت دری کی سزا بھی تجویز کی گئی ہے۔