مضبوط معیشت کے بغیر ملک کی سیکیورٹی ممکن نہیں: معید یوسف

  • جمعہ 21 / اکتوبر / 2022

سابق مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے ملکی معیشت کو مضبوط بنانے اور اقتصادی حکمت عملی کی تحت اسے برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مضبوط معیشت کے بغیر پاکستان عسکری اور انسانی تحفظ حاصل نہیں کرسکتا۔

 انہوں نے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد میں ’بدلتی ہوئی جیوپولیٹکل صورتحال پر قومی سلامتی پالیسی کی اہمیت ’ کے عنوان پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں۔ سابق مشیر قومی سلامتی نے رواں سال جنوری میں جاری کی گئی پاکستان کی قومی سلامتی پالیسی کو مرتب کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ پالیسی میں عوام کے تحفظ، سلامتی، وقار اور خوشحالی کے لیے معاشی، انسانی، روایتی تحفظ پر مشتمل جامع قومی سلامتی پالیسی کا حصول شامل تھا۔

ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ پاکستان میں موجودہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے ملکی معیشت بحران کا شکار ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے قرض پروگرام کے آغاز پر بحران میں کمی کا امکان تھا لیکن ملک میں تباہ کن سیلاب کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے تمام اُمیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔

سابق مشیر قومی سلامتی نے مشاہدہ کیا کہ پاکستان کو زرمبادلہ ذخائر میں کمی کا سامنا ہے۔ معیشت کو بہتر کرنے کے لیے 30 سے 35 ارب ڈالرز کی ضرورت ہے۔ معیشت میں اتنے بڑے فرق کی وجہ سے آزاد خارجہ پالیسی بننے کی راہ میں رکاوٹ آئی۔ معید یوسف نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ سرمایہ کاری میں اضافہ، غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ترغیب اورتربیت یافتہ افرادی قوت میں اضافہ سے صورتحال پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی استحکام کی ضرورت اس لیے پیش آئی کیونکہ دنیا مسلسل تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے۔ ہمیں ان حالات میں معاشی استحکام کے مقاصد کو حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

سابق مشیر قومی سلامتی نے خدشہ ظاہر کیا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی خوراک کی قلت کے سبب صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔