ورلڈ یونیورسٹیز رینکنگ اور پاکستان

ایک ہفتہ قبل عالمی سطح پر بہترین یونیورسٹیوں کی سب سے مستند درجہ بندی کی سالانہ رینکنگ جا ری ہوئی لیکن ضمنی انتخابات کے گرما گرم ماحول میں مین سٹریم میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی کوئی قابل ذکر بحث دیکھنے میں نہ آسکی۔

ٹائمز ہائر ایجوکیشن ورلڈ یونیورسٹیز رینکنگ عالمی سطح پر اعلی تعلیم کی سب سے مستند اور قابل اعتماد رینکنگ میں شمار ہوتی ہے۔ اس رینکنگ کا انتظار نہ صرف اعلی تعلیم و تحقیق میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ کو ہوتا ہے بل کہ عالمی سطح پرمعیاری تعلیم و تحقیق میں سبقت لے جانے کے خواہاں تعلیمی ادارے بھی بے چینی سے اس کا انتظار کرتے ہیں۔ اعلی تعلیم و تحقیق کے فروغ میں دلچسپی رکھنے والے ممالک اس رینکنگ کی روشنی میں اپنے تعلیمی اداروں کا تعلیمی وتحقیقی معیار بلند کرنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایسی رپورٹس کو کسی بھی سطح پر سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ سیاسی  جماعتوں و حکومتوں کو اقتدار کے حصول اور اقتدار کو بچانے میں اتنی مصروف کر دیا گیا ہے کہ انہیں اعلی تعلیم جیسے سنجیدہ معاملے پر توجہ دینے کا ہی وقت نہیں ملتا۔ ہائر ایجوکیشن پر توجہ نہ دینے کا نتیجہ یہ برآمد ہو رہا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے اعلی تعلیم کے اداروں کا عالمی سطح پر تعلیمی وتحقیقی معیار گر رہا ہے۔

حالیہ رینکنگ میں نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ دنیا کی بہترین رینکڈ یونیورسٹیوں کی فہرست میں پاکستان کی پہلی یونیورسٹی 401 سے500والی رینکنگ میں دکھائی دیتی ہے۔ واضح رہے کہ رواں برس رینکنگ میں سو سے زائد ممالک اور علاقوں کی ریکارڈ 1800 یونیورسٹیوں کو رینک دیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو رینکنگ میں شامل پاکستانی یونیورسٹیوں کی کل تعداد 29ہے لیکن تشویش ناک بات یہ ہے کہ بھارت اور ایران کے مقابلے میں نہ صرف ہماری ریکنڈ یونیورسیٹوں کی مجموعی تعداد کم ہے بل کہ 500 بہترین یونیورسیٹوں میں ہماری صرف ایک یونیورسٹی شامل ہے۔ ہمارے مقابلے میں ابتدائی 500 یونیورسٹیوں میں بھارت کی پانچ اور ایران کی دس یونیورسٹیاں شامل ہیں جب کہ رینکنگ میں شامل بھارت کی مجموعی یونیورسٹیوں کی تعداد 75اور ایران کی 65ہے۔

مسلم ممالک میں سب سے زیادہ حیران کن تعلیمی ترقی سعودی عرب کی یونیورسٹیاں کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ سعودی عرب کی یونیورسٹیاں نہ صرف عرب دنیا میں سرفہرست ہیں بل کہ سعودی عرب کی کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی کی رینکنگ تمام اسلامی ممالک کی یونیورسٹیز رینکنگ سے بہتر ہے۔ رواں برس کی رینکنگ میں کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی دنیا کی 100بہترین یونیورسٹیوں سے محض ایک قدم کے فاصلے پر کھڑی ہے۔ کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی کی موجودہ رینکنگ101ہے جب کہ پچھلے سال اس کی رینکنگ190تھی۔ کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی کی رینکنگ میں حیران کن بہتری کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی دیگر یونیورسٹیوں کی رینکنگ میں بھی بہتری آئی ہے اور پچھلے سال(15) کی نسبت اس بار21سعودی یونیورسٹیاں ورلڈ یونیورسٹیز رینکنگ میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی اہم ہے کہ رینکنگ میں شامل مجموعی21سعودی یونیورسٹیوں میں سات دنیا کی بہترین 500یونیورسٹیوں میں شامل ہیں۔ اگرچہ ترکی کی کل 61یونیورسٹیاں ورلڈ یونیورسٹیز رینکنگ میں شامل ہیں لیکن سعودی عرب کے مقابلے میں ترکی کی پہلے نمبر پر آنے والی یونیورسٹی کی رینکنگ401سے500کے درمیان آتی ہے۔ اسی طرح پہلے نمبر پر آنے والی ایرانی یونیورسٹی کی رینکنگ 351سے400کے مابین ہے۔ ملائیشیا کی رینکنگ میں شامل کل یونیورسٹیوں کی تعداد13ہے اور ملائیشیا کی پہلی یونیورسٹی کی رینکنگ پوزیشن351سے400کے درمیان ہے۔ اسلامی ممالک کے حوالے سے سعودی عرب کے بعد متحدہ عرب امارات اور قطر کی جامعات کی رینکنگ پوزیشن سب سے بہتر ہے۔ متحدہ عرب امارات کی چار یونیورسٹیاں دنیا کی چار سو بہترین یونیورسٹیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

عالمی سطح پر جائزہ لیا جائے تو دنیا کی سب سے بہترین یونیورسٹیاں ابھی بھی امریکہ اور برطانیہ میں ہیں تاہم وقت کے ساتھ ساتھ چینی یونیورسٹیز میں بتدریج بہتری جب کہ امریکی یونیوسٹیوں میں سست روی سے تنزلی دیکھی جا رہی ہے۔ رینکنگ میں شامل پہلی دس بہترین یونیورسٹیوں میں سات امریکہ اور تین برطانیہ میں ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی برطانیہ مسلسل سات سالوں سے پہلی پوزیشن پر براجمان ہے۔ مجموعی طور پر رینکنگ میں امریکی یونیورسٹیوں کی تعداد177ہے۔ جاپان کی 117اور برطانیہ کی 103یونیورسٹیاں رینکنگ میں شامل ہیں۔ رینکنگ میں شامل چینی یونیورسٹیوں کی تعداد95ہے۔ اس کے علاوہ بھارت 75، ایران65، برازیل62، ترکی61، اٹلی55، سپین55اورجرمنی50یونیورسٹیوں کے ساتھ دیگر نمایاں ممالک ہیں۔ اگرچہ رینکنگ میں شامل امریکی یونیورسٹیوں کی تعداد اور معیارسب سے زیادہ ہے تاہم اسے ایشیائی یونیورسٹیوں خاص طور پر چینی یونیورسٹیوں سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ 2018میں ٹاپ100یونیورسٹیوں میں امریکی یونیورسٹیوں کی تعداد 43 تھی لیکن حالیہ رینکنگ میں یہ تعداد34 تک محدود ہو گئی ہے۔ ٹاپ100یونیورسٹیز میں بتدریج چینی یونیورسٹیوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ دنیا کی100بہترین یونیورسٹیوں میں جرمن یونیورسٹیوں کی تعداد9جب کہ ٹاپ200میں جرمنی کی 22یونیورسٹیز ہیں۔

اگرچہ حالیہ رینکنگ میں پاکستان کی آٹھ نئی یونیورسٹیاں بھی پہلی بار شامل ہوئی ہیں لیکن ہماری زیادہ تر یونیورسٹیوں کا رینک 500بہترین یا 1000بہترین یونیورسٹیوں کے بعد آتا ہے۔ پہلی 500یونیورسٹیوں میں ہماری صرف ایک یونیورسٹی (قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد) شامل ہے جب کہ اگلی 500یونیورسٹیوں میں ہماری دس مزید یونیورسٹیاں شامل ہیں۔ باقی 18یونیورسٹیوں کی رینکنگ 1000سے بھی آگے ہے۔ معیار تعلیم میں بہتری کا معاملہ توجہ بھی مانگتا ہے اور وسائل بھی۔ معیار تعلیم کو بہتر بنانے کے لئے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر ریسرچ سکالروں اور سپروائزروں کے تعلقات فرینڈلی ہونا بھی ضروری ہیں لیکن بدقسمتی سے سپروائزر موضوع سے متعلق تحقیق میں سکالرز کی مدد اور رہنمائی کی بجائے سکالرز کے ساتھ سکول کے بچوں جیسا برتاؤ کرتے ہیں۔ تعلیمی و تحقیقی معیار میں بہتری کے لئے یونیورسٹی کی حدود میں سوال اٹھانے اور اظہار رائے کی آزادی ہونا بھی ضروری ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں یونیورسٹی کی سطح پر آزادانہ تحقیق و جستجو، اجتہادی فکر اور اظہار رائے کی مکمل آزادی ہوتی ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں یونیورسٹیوں میں بھی اظہار رائے پر کئی طرح کی قدغنیں موجود ہیں۔ اظہار رائے پر نظریے، مذہب اورقومی سلامتی کے نام پر لگائی جانے والی قدغنوں کے نتیجے میں ہمارے اعلی تعلیمی اداروں میں آزادانہ تحقیق و جستجو کا وہ ماحول نہیں بن سکا جو اعلی سطح کی ریسرچ اور ایجادات واختراعات کیلئے ضروری ہوتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہائر ایجوکیشن مختلف شعبوں اور کیٹیگریز میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز صاحبان کو مشترکہ پلیٹ فارم پر اکٹھا کرکے اپنے اپنے ماڈلز اور تجربات شئیر کرنے کے مواقع فراہم کرے۔ عالمی رینکنگ میں بہتری کے لیے دوسری اہم چیز عالمی معیار کی تحقیق کو فروغ دینا ہے اور اس کے لیے یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران اور طلبا کا عالمی تعلیمی و تحقیقی اداروں کے ساتھ روابط اور تبادلہ خیال کے مواقع بڑھانا ناگزیر ہے۔