جج برا ہے تو نام لے کر تنقید کریں پر عدلیہ کی توہین نہ کریں: جسٹس فائز عیسٰی

  • اتوار 23 / اکتوبر / 2022

سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ جو جج دباؤ برداشت نہیں کر سکتا اسے اپنے عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

ہفتے کو لاہور میں دو روزہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے پہلے روز خطاب کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ جج پر تنقید کرنا ہر کسی کا حق ہے۔ برے جج کا نام لے کر تنقید کرنی چاہیے۔ لیکن بطور ادارہ جوڈیشری کو ہدفِ تنقید بنانا مناسب نہیں ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کو جمہوریت کی ضرورت ہے۔ اسے عدلیہ اور ایگزیکٹو کی ضرورت ہے اور بطور ایگزیکٹو کا حصہ فوج بھی پاکستان کے لیے ناگزیر ہے۔ پاکستان سے جمہوریت کو نکالنا اس کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔ یہ وطن دُشمنی ہے۔ پاکستان کو منتخب کردہ قیادت کے ذریعے ہی حکمرانی کی ضرورت ہے۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ پانچ برس تک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہے اور اس دوران ان پرکسی نے فیصلوں کے لیے دباؤ نہیں ڈالا۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ دیکھ کر اُن کی آنکھوں میں آنسو آ گئے جب سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت دینے والے جج نے ٹی وی پر آ کر کہا کہ اُن پر دباؤ تھا۔

جسٹس فائز عیسٰی نے کہا کہ کیا آپ صرف دباؤ کی وجہ سے کسی کی جان لے سکتے ہیں؟ آپ پر دباؤ تھا تو عزت کے ساتھ مستعفی ہو کر گھر چلے جاتے۔ سپریم کورٹ کے سینئر جج کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے آئین کو بار بار پامال کیا گیا، سب سے پہلے ضیاء الحق، پھر پرویز مشرف نے آئین کی خلاف ورزی کی۔