موجودہ حکومت بھی ہمارے مسائل کے حل میں بے بس نظر آرہی ہے: اختر مینگل

  • اتوار 23 / اکتوبر / 2022

بلوچستان نیشنل پارٹی  کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ طالبان سے مذاکرات سے قبل ان سے مذاکرات کریں جو آپ کا اٹوٹ انگ ہیں۔

ڈان نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے بی این پی (مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف حکومت کی تبدیلی کے حق میں نہیں تھی۔ آج بھی یہی مؤقف ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کو ہٹانے سے ہمیں نقصان ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو جن کا احسان مند ہونا چاہیے تھا، سب سے پہلے ان کے ہاتھ کاٹے اور نئے سیاسی بٹیروں کو زیادہ اہمیت دی۔ عمران خان کو اپنا تکبر لے ڈوبا ہے، تحریک انصاف کے اپنے ارکان ناراض نہ ہوتے تو تحریک عدم اعتماد کامیاب نہ ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کرکے گلے شکوے کیے ہیں، موجودہ حکومت بھی ہمارے مسائل کے حل میں بے بس نظر آرہی ہے۔ اپنے مسائل کے حل کے لیے ہم جن کی طرف اشارہ کرتے تھے عمران خان تسبیح پر ان کا نام لے کر تعریف کیا کرتے تھے۔ عمران خان کے ساتھ ہمارا مسئلہ لاپتا افراد اور ڈیولپمنٹ کا تھا۔

اختر مینگل نے کہا کہ کسی بھی حکومت کے لیے بلوچستان کی کوئی اہمیت نہیں مگر جب ووٹوں کی ضرورت ہو تو بلوچستان یاد آتا ہے۔ گزشتہ حکومت میں ہم آواز اٹھاتے رہے لیکن شنوائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے یہ درست نہیں، کل کوئی اور پچھتا رہا تھا آج عمران خان پچھتا رہے ہیں۔ ایسا نہ ہو کل ہم پچھتائیں۔

اس دوران عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں بلوچستان کے مسائل اور ان کے حل کے لیے مذاکرات اور ڈائیلاگ کی ضرورت سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں نے مقامی لوگوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔

سیاستدانوں اور سیاسی کارکنوں پر مشتمل پینل نے بلوچستان کے ساتھ دوسرے صوبوں کے مساوی سلوک کی ضرورت پر زور دیا۔ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے ایک رہنما نے صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس پانی، بجلی اور تعلیم نہیں، لاہور میں اورنج لائن ٹرین بنائی جاتی ہے اور بلوچستان میں فوجی اہلکار تعینات کیے جاتے ہیں اور چیک پوسٹیں بنائی جاتی ہیں۔

سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ اسلام آباد میں موجود ایک مخصوص گروہ جس میں سیاستدان، جرنیل، عدلیہ اور میڈیا کے لوگ شامل ہیں، انہیں بلوچستان اسٹریٹجک اہمیت اور وسائل کی وجہ سے پسند ہے۔ لیکن صوبہ اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے ان وافر قدرتی وسائل کو استعمال کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔

انہوں نے صوبے میں 22 برس سے جاری بدامنی کو ٹرننگ پوائنٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے مسائل بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہیں لیکن اس وقت تک کچھ نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں نہ لے لیا جائے۔ ڈاکٹر عبد المالک بلوچ نے کہا کہ بلوچ نوجوان عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ پنجاب میں پڑھنے والے بلوچ طلبہ کو کو اٹھایا جا رہا ہے، اس اقدام سے نفرت میں مزید اضافہ ہوگا۔ بلوچ عسکریت پسندوں کے ساتھ بات چیت ہی واحد حل ہے اور اعتماد سازی کے لیے حراست میں لیے گئے تمام افراد کو رہا کیا جانا چاہیے۔ اور صوبے میں قائم غیر ضروری چیک پوسٹوں کو ختم کیا جائے۔