عمران خان کی نااہلی سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا مسترد
اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ ریفرنس میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ آج ہی معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔
عدالت نے سماعت تین روز تک ملتوی کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان کے وکیل کو رجسٹرار افس کے اعتراضات دور کرنے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ یہ عدالت کسی آئینی ادارے کو ڈائریکشن نہیں دیتی۔
عمران خان کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران وکیل علی ظفر نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو معطل کرنے کی استدعا کی اور کہا کہ اس فیصلے کا ’سر پیر ہی نہیں، یہ ایک غیر قانونی فیصلہ ہے‘۔ اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ ’جب فیصلہ نہیں ہے تو یہ عدالت کس فیصلے کو معطل کرے گی؟ اس آرڈر کی سرٹیفائیڈ کاپی موجود ہے؟‘ اس پر وکیل نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے تاخیر کی جا رہی ہے اور فیصلے میں رد و بدل کا خدشہ ہے۔
وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے عمران خان پر ایک داغ لگا ہے۔ وہ اس کے ساتھ الیکشن میں نہیں جانا چاہتے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ دیگر حلقوں پر تو یہ نااہلی ہوتی نہیں یہ صرف اس ایک سیٹ کی حد تک ہے۔ عدالت لکھ دے گی توقع کرتے ہیں کہ الیکشن کمیشن آپ کو مصدقہ کاپی دے دے گا۔ آپ اعتراضات دور کریں، پھر اس کیس کو سنیں گے۔ تین دنوں میں کچھ نہیں ہوتا، آپ اعتراضات دور کریں۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ عدالت نیا مختلف پریسڈنٹ نہیں سیٹ کرسکتی۔ عدالتی تاریخ سے بتا دیں کہ کوئی عدالت بغیر دستخط والا آرڈر معطل کردے؟ اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کے وکیل کی طرف سے الیکشن کمیشن کا فیصلہ آج ہی معطل کرنے کی استدعا مسترد کردی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے تفصیلی فیصلے کا انتظار کیا جائے ایک، دو روز کی تاخیر سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’یہ عدالت کسی آئینی ادارے کو ڈائریکشن نہیں دیتی۔ یہ معمول کا کام ہے۔ الیکشن کمیشن تاخیر نہیں کر رہا، عدالتی تاریخ میں عدالت ایسا آرڈر معطل نہیں کر سکتی جس پر دستخط ہی نہ ہوں‘۔
عدالت نے سماعت تین روز تک ملتوی کرتے ہوئے عمران خان کے وکیل کو رجسٹرار افس کے اعتراضات دور کرنے کا حکم دیا ہے۔