ڈالر، ڈار اور بازار

سیاست اور معیشت کا چولی دامن کا ساتھ ہے مگر جب معیشت تہی دامن ہو جائے تو سیاست کی اپنی چولی بھی سلامت نہیں رہتی۔ سری لنکا میں سب نے دیکھا کہ معیشت تہی دامن ہوئی تو  سیاست کی چولی بھی گئی۔ 

 ضمنی انتخاب میں عمران خان کی چھ سیٹوں پر کامیابی پر لندن میں ماتھے پر شکنیں پڑیں۔ رپورٹ طلب ہوئی کہ پل کی پل میں یہ کیا ماجرا ہو گیا۔ ابتدائی جواب یہی پیش ہوا کہ صاحبان! لوگ بجلی کے بلوں سے بلبلا اٹھے ہیں ، روپے کی ڈی ویلیوایشن  سے اٹھی مہنگائی کے نقار خانے  میں حکومتی وضاحتوں کا طوطی کسی نے سنا ہی نہیں ۔

ایسا نہیں کہ حکومت کو اپنے اقدامات کے نتائج کا ادراک نہ تھا۔ اس کے دل میں  شروع سے ہی وسوسوں اور اندیشوں کے بگولے اٹھ رہے تھے، جن کی پیش بندی کے لئے بالآخر اسحاق ڈار کو ڈالر بندی کے لئے وطن لانے کا اہتمام کرنا پڑا۔ اسحاق ڈار کا ماضی میں دوبار ڈالر سے دو بدو واسطہ پڑا، مخالفین کو یقین نہ تھا مگر بقول ان کے انہوں نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ یوں وہ اپنی پارٹی میں ایک معاشی مسیحا اور جادوگر ٹھہرائے گئے۔ 

کامرانی کے اس ماحول میں کئی ایک نے پوچھنے اور جاننے کی کوشش بھی کی کہ حضور، اس وقتی کامیابی کی معیشت کو کیا قیمت ادا کرنی پڑے گی؟ جواب یہی ملا کہ دیکھتے جائیں، گیم چینج ہو جائے گی۔

  بعد ازاں جب قیمت چکانے کا وقت آیا تو اتفاق سے سیاسی منظرنامے پر پانامہ کا بھونچال آیا ہوا تھا۔ کسی کو اس طرف توجہ کرنے کی فرصت ہی نہ ملی کہ آئی ایم ایف کا واحد پروگرام کامیابی سے مکمل کرنے اور پانچ فی صد سے زائد جی ڈی پی گروتھ کے باوجود زر مبادلہ کے ذخائر کی ہی گیم چینج ہونے لگی۔ ن لیگ کے وزیر اعظم خاقان عباسی کے دور کے اختتام تک روپیہ کیونکر ہانپنے لگا،  آنے والی نئی منتخب حکومت کو خزانہ تقریباً اسی بے سروسامانی کے عالم میں ملا جس عالم میں ن لیگ کو ملا۔

سیاسی بیان بازی اپنی جگہ مگر پچھلے بیس سالوں کے دوران ہماری ایک غیر سیاسی اور تینوں سیاسی حکومتوں  نے اپنے بعد آنے والی حکومت کے لئے اپنے پیش روؤں کی نسبت زیادہ مشکل معاشی حالات کا ورثہ چھوڑا۔ پی ڈی ایم کی نئی حکومت کا بھی یہی گلہ ہے بلکہ ان کا تو بیانیہ ہی یہی ہے کہ وہ تو بھلے چنگے حال مست تھے مگر انہیں ملک دیوالیہ ہونے کی پختہ اطلاعات ملیں۔ ان خبروں کے بعد پی ڈی ایم  قیادت کے درد مند دلوں کے ساتھ نیںند نینان نہ انگ چیناں والا معاملہ ہوا۔  دن رات ایک کرکے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے    ’دافع دیوالیہ ’ کا عمل کرنا پڑا۔ تاہم یہ سب کرنے کے بعد نئی حکومت کو بھی اسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جو ان کی پیش رو پی ٹی آئی حکومت کو کرنا پڑا۔ بلکہ معطل شدہ آئی ایم ایف پروگرام کو بحال کروانے کے لئے مزید بے حال ہونا پڑا۔ وقت کم اور مشکلات کا حلقہ تنگ تھا اس لئے ان شرائط کو بھی ماننا پڑا جن سے عوام مزید خوار اور  بے حال ہو گئے۔

پی ڈی ایم حکومت کی معاشی نظامت کے بارے میں پہلے دن سے ہی یہ بات عیاں تھی کہ معیشت کے اصل فیصلے لندن میں ہورہے ہیں۔ لندن کی ان بیٹھکوں میں مالیاتی معاملات میں اسحاق ڈار ہی حرف آخر تھے۔ تاہم نظر بظاہر مفتاح اسماعیل کی کمان میں جو ہوا وہ اور اس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ اسحاق ڈار نے بطور وزیر خزانہ براہ راست کمان سنبھالی تو ان کے بہی خواہوں نے جتلایا کہ مفتاح اسماعیل کو بھول جائیں جن کے دور میں روپیہ گر کر 240 تک جا گرا ،  اب ڈالر کا مقابلہ ٹکر کے آدمی اسحاق ڈار سے ہے، دیکھتے جائیں اب ہوتا کیا ہے۔۔۔

 ان کی وطن آمد پر ایک ہی دن میں روپیہ چھ روپے مضبوط ہوا۔ اپنی آمد پر انہوں نے اپنا ٹارگٹ بتایا کہ روپے کی اصل قدر 200 روپے کے اندر اندر ہے۔  ان کی کوششوں سے  اگلے دو ہفتے روپے کی قیمت میں مسلسل بہتری ائی۔ تاہم گزشتہ ایک ہفتے سے مسلسل مضبوطی کا سفر رک گیا ہے بلکہ روپے کی قیمت میں کچھ کمی واقع ہونا شروع ہو گئی۔ اس دوران ملک اور عالمی سطح پر نئی حکومتی  معاشی ٹیم کو زمینی حقائق  کا سامنا کرنا پڑا ہے تو واشنگٹن سے واپسی پر بدلے بدلے سے سرکار

نظر آتے ہیں والا معاملہ دیکھنے کو ملا۔ کہاں یہ کہ ڈالر اور ڈار کے درمیان کوئی پردہ حائل نہ تھا لیکن واشنگٹن سے واپسی پر انہوں نے یہ واضح کیا کہ روپے اور ڈالر کی شرح مبادلہ مارکیٹ اور اسٹیٹ بنک  کے مابین  من و تو  کا معاملہ  اور زمہ داری ہے۔  تاہم انہوں نے اپنا خیال بھرپور انداز میں دوہرایا کہ روپے کی شرح مبادلہ ان کے حساب کتاب میں دو سو روپے ہی ہے۔ 

روپے اور ڈالر کی شرح مبادلہ کیا ہو؟ یہ ایک پیچیدہ عمل ہے جس میں کئی ملکی اور عالمی مالیاتی و سیاسی عوامل کار فرما ہوتے ہیں ۔ ملکی معیشت کے منظر نامے پر نظر دوڑائیں تو پہلے سے سست روی کا شکار معیشت اب سیلاب کے بعد مزید بے حال ہے۔ شرح نمو بمشکل دو فیصد رہنے کا امکان ہے۔ بجٹ خسارے اور تجارتی خسارے کا رونا اپنی جگہ ،  زرمبادلہ کے ذخائر بچانے کے لئے  سر پر منڈلاتے ادائیگی شیڈول مؤخر کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ حسب روایت اور ضرورت نئے قرضوں کا انتظام  سر فہرست ہے۔ درآمدات پر کچھ بریک لگائے رکھنے کی ضرورت ہے۔ درآمدات میں بڑے اضافے کی توقع عبث ہے کہ ایک تو عالمی مارکیٹ مندے کا شکار ہے، دوسرے پیدواری لاگت بہت بڑھ چکی ہے۔ ایکسپورٹ انڈسٹری کے لئے جون تک بجلی کی رعایتی قیمت کے باوجود خام مال کی دستیابی، قیمتوں میں اضافے اور لاگت میں اضافے کے بعد ڈالر کی قیمت میں کمی کے بعد برآمدات پچھلے سال کے برابر ہی رہ جائیں تو بڑی بات ہے۔ لہذا تجارتی خسارے کا بھاری پتھر سامنے سے ہٹنے کا نہیں۔

ڈالر روپے کی قیمت  240 سے کم ہو کر 218 تک آئی مگر اب دوبارہ رخ الٹنا شروع ہوگیا ہے۔ اس دوران ایک تبدیلی یہ آئی ہے کہ پچھلے دو تین ہفتےکے دران انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں قیمت کا فرق دو روپے سے بڑھ کر پانچ چھ روپے ہوگیا ہے۔ یہ فرق انٹر بنک کے لئے دباؤ کا باعث ہے اور دوسری جانب ہنڈی یا حوالے کے ذریعے زرمبادلہ کی ترسیلات کے لئے ترغیب کا سامان ہے یعنی بینکنگ چینل سے ترسیلات زر میں کمی کا امکان ہے۔  ایران اور افغانستان کے ساتھ اسمگلنگ اور نان بینکنگ ٹریڈ کی ادائیگیاں بھی اوپن مارکیٹ سے ہو رہی ہیں جن کے حجم میں سیلاب کے بعد اضافہ دکھائی دے رہا ہے۔ 

اس دوران بڑی اور چھوٹی صنعتوں کی پیداوار میں کمی کے اعداد و شمار سامنے ہیں۔ سیلاب کے اثرات بھی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔دوسری جانب جاری سیاسی محاذ آرائی کا پارہ ہے کہ بڑھتا جا رہا ہے۔ نومبر کے بعد بھی سیاسی ماحول میں تلخی، عدم برداشت اور ماراماری بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ وفاق اور اپوزیشن کے زیر حکومت صوبوں میں ورکنگ ریلیشن مخالفانہ ہے۔ یہ سب عوامل اس امر کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ سیاست کے ہاتھوں معیشت تہی دامنی کا شکار ہے جبکہ سیاست میں سب کو اپنی اپنی چولی بچانے کی فکر لاحق ہے۔ سیاست اور معیشت کا تال میل بے تال ہے۔ 

اسحاق ڈار پر امید ہیں بلکہ مصر ہیں کہ گھبرائیں نہیں لیکن کیا کیجئے کہ   ستاروں کی گردش تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ تسلیم کہ انہوں نے دو بار ڈالر کر زیر کیا مگر کیا کیجئے کہ دونوں مرتبہ ڈالر سواری کی بعد ازاں ملک کو بھاری معاشی قیمت ادا کرنی پڑی ، اب کی بار تو سیاسی قیمت بھی چکانا پڑ رہی ہے۔ 

ہم ایسے ملکوں کا المیہ ہے کہ جب بات سیاست تک پہنچنے لگے تو معیشت کے ساتھ غریب کی جورو کا سا سلوک کرنے میں شاذ ہی کوتاہی ہوتی ہے۔ اس پہ مستزاد یہ سال تو الیکشن سال بھی ہے۔ آنے والے دنوں میں ڈالر، ڈار اور بازار کا بھاؤ تاؤ دلچسپ ہوگا اور پی ڈی ایم کے مستقبل کے لئے فیصلہ کن بھی۔