رشی سوناک برطانیہ کے پہلے بھارتی نژاد وزیرا عظم ہوں گے
کنزرویٹو پارٹی کی قیادت کی دوڑ سے دیگر امیدواروں کی دستبرداری کے بعد رشی سوناک پیر کو برطانیہ کے وزیر اعظم منتخب ہو جائیں گے۔ انہیں معیشت کی بحالی کا چیلنج درپیش ہوگا جس کے سبب لاکھوں افراد متاثر ہو رہے ہیں۔
رشی سوناک دولت مند سیاست دان ہیں۔ بادشاہ چارلس کی جانب سے انہیں حکومت بنانے کا کہا جائے گا۔ وہ لز ٹرس کی جگہ وزارت عظمی کی ذمہ داری سنھبالیں گے جو اس عہدے پر صرف 44 دن فائز رہ سکیں۔
پینی مورڈانٹ کے اس عہدے کے لیے دستبردار ہونے کے بعد عشی سوناک کے وزیر اعظم بننے کی راہ ہموار ہوئی۔ سابق وزیر اعظم بورس جانسن نے ڈرامائی اعلان میں کہا تھا کہ وہ کنزرویٹو پارٹی کی قیادت کی دوڑ سے دستبردار ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ اس وقت تک حکومت نہیں کر سکتے جب تک کہ آپ کی پارٹی پارلیمنٹ میں متحد نہ ہو۔
پینی مورڈانٹ نے مقابلے سے دست بردار ہوتے ہوئے رشی سوناک کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا تھا۔ پینی مورڈانٹ کی دستبرداری کی خبر پر مختصر وقت کے لیے پاؤنڈ اور برطانوی حکومت کے بانڈ کی قیمتیں بڑھ گئی تھیں، تاہم تھوڑی دیر بعد واپس پرانی سطح پر آگئیں۔
42 سالہ رشی سوناک سابق وزیر خزانہ ہیں، وہ دو مہینے سے بھی کم وقت میں برطانیہ کے تیسرے وزیر اعظم منتخب ہوں گے۔ ان پر ملک کی ابتر معاشی اور سیاسی صورتحال کو بحال کرنے کا چیلنج درپیش ہوگا۔ ہیج فنڈ کے سابق سربراہ سے توقع ہے کہ وہ اخراجات میں بڑے پیمانے پر کمی کریں گے تاکہ برطانیہ کی مالیاتی صورتحال بہتر بنائی جاسکے، برطانیہ کی معیشت توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے سبب کساد بازاری کا شکار ہو رہی ہے۔
2016 میں جب سے برطانیہ نے یورپی یونین سے نکلنے کے لیے ووٹ دیا تھا تب سے برطانیہ مالی بحران کی کیفیت میں گھرا ہوا ہے، جس سے ملک کے مستقبل کو لے کر ویسٹ منسٹر میں ایک جنگ چھڑ گئی جو آج تک حل طلب ہے۔
ملکی سطح پر رشی سوناک اس وقت نمایاں ہوئے جب وہ 39 سال کی عمر میں بورس جانسن کے دور میں وزیر خزانہ بنائے گئے تھے۔ ان کے اہل خانہ 1960 کی دہائی میں برطانیہ منتقل ہوئے تھے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی سے گریجوایشن کرنے کے بعد سوناک نے اسٹین فورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ وہیں وہ اپنی اہلیہ اکشاتا مورتی سے ملے، جن کے والد نریانا مورتی بھارت کے ارب پتی افراد اور انفوسس لمیٹڈ کے بانی ہیں۔