جوڈیشل کمیشن میں جسٹس اطہرمن اللہ اور 2 جونیئر ججوں کو سپریم کورٹ میں تعینات کرنے کی سفارش

  • منگل 25 / اکتوبر / 2022

جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کو سپریم کورٹ میں ترقی دینے کی تجویز متفقہ طور پر منظور کرلی جبکہ ہائی کورٹ کے 3 ججوں میں سے 2 کی ترقی منظور کرتے ہوئے ایک امیدوار کا نام مسترد کر دیا۔

 جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کی صدارت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کی۔ اجلاس میں 5 ارکان میں سے وفاق کے 2 نمائندوں سمیت 4 ارکان کی اکثریت نے لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد وحید اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس سید حسن اظہر رضوی کے ناموں کی منظوری دے دی۔ یہ دونوں اپنی متعلقہ عدالتوں کی سنیارٹی لسٹ میں چوتھے نمبر پر ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد شفیع صدیقی کا نام خارج کردیا گیا۔

اجلاس میں مذکورہ منظوری کے بعد سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد 15 ہوجائے گی۔ فل کورٹ تشکیل دینے کے لیے 2 مزید ارکان درکار ہیں۔ خیال رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس سید منصور علی شاہ اور پاکستان بار کونسل کے نمائندے اختر حسین نے سپریم کورٹ میں ترقی کے لیے ان تینوں ججوں کی نامزدگی کی مخالفت کی تھی۔

تاہم چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، ریٹائرڈ جسٹس سرمد جلال عثمانی، اٹارنی جنرل اشتر اوصاف اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے نامزدگیوں کی حمایت کی۔ سندھ ہائی کورٹ کی سنیارٹی لسٹ میں چھٹے نمبر پر موجود جسٹس محمد شفیع صدیقی کا نام اس وقت خارج کردیا گیا جب اجلاس کے دوران ریٹائرڈ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے توجہ دلائی کہ سندھ ہائی کورٹ کے تیسرے سینئر ترین جج جسٹس عقیل احمد عباسی زیادہ قابل ہیں اور ان کی کارکردگی دیگر کے مقابلے میں بہت بہتر ہے۔ اجلاس کے آخر میں جسٹس اطہر من اللہ کے نام پر غور کیا گیا اور اتفاق رائے سے منظوری دی گئی۔

اب یہ سفارشات جوڈیشل کمیشن کی منظوری کے 14 روز کے اندر پارلیمنٹ کی پارلیمانی کمیٹی کو بھیجی جائیں گی۔

جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں اس معاملہ پر گرما بحث ہوئی کہ ان تین ججوں کا نام 28 جولائی کے اجلاس میں مسترد ہوچکا ہے۔ؤ تو وہی نام دوبارہ کیوں تجویز کیے گئے۔ ایک موقع پر اٹارنی جنرل کو وضاحت کرنا پڑی کہ 28 جولائی کو ہونے والے اجلاس میں انہوں نے امیدواروں کے نام واضح طور پر مسترد کرنے کے بجائے اجلاس ملتوی کرنے کی تجویز دی تھی۔

ملاقات سے چند روز قبل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایک  خط کے ذریعے چیف جسٹس سے ان 3 جونیئر ججوں کے نام واپس لینے کی درخواست کی تھی جنہیں جوڈیشل کمیشن کی جانب سے 28 جولائی کو ہونے والے اجلاس میں پہلے ہی مسترد کیا جا چکا ہے۔

علاوہ ازیں وکلا برادری، پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور سندھ بار کونسل نے بھی جوڈیشل کمیشن کی جانب سے 3 جونیئر ججوں کے نام مسترد کیے جانے کے کئی ماہ بعد دوبارہ ان ناموں پر غور کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ وکلا برادری نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ 24 اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں اگر ان ناموں کو منظور بھی کرلیا جائے تو وہ اسے چیلنج کریں گے۔

اگرچہ بار کے نمائندوں کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی نامزدگی پر کوئی اعتراض نہیں تھا تاہم انہوں نے دیگر امیدواروں کی نامزدگی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی تھی کہ یہ نامزدگی سنیارٹی کے اصول کو نظرانداز کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے دیگر ججوں کی حوصلہ شکنی کرے گی اور ان کی کارکردگی متاثرہو گی۔