وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے

  • منگل 25 / اکتوبر / 2022

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ پیشرفت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس کے چند گھنٹوں بعد رات گئے سامنے آئی۔

استعفے میں انہوں نے کہا کہ بحیثیت وفاقی وزیر قانون اپنے ملک کی خدمت کرنا میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے۔ صدر مملکت کے نام ہاتھ سے لکھے ہوئے استعفے میں انہوں نے مزید لکھا کہ  تاہم ذاتی وجوہات کی بنا پر میں بطور وفاقی وزیر اپنی ذمہ داریاں جاری نہیں رکھ سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ  آئین کی دفعہ 92 کی شق 3 کے تحت میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دیتا ہوں۔ کچھ ٹی وی چینلز کی رپورٹس میں کہا گیا کہ اعظم نذیر تارڑ نے اتوار کو عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں ’اسٹیبلشمنٹ مخالف نعروں‘ کی وجہ سے استعفیٰ دیا۔ ابھی تک ان کا استعفیٰ قبول نہیں کیا گیا۔

وزیر قانون کے حوالے سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ان پر جوڈیشل کمیشن میں جونئر ججوں کو سپریم کورٹ میں تعیناتی کے سوال پر شدید دباؤ کا سامنا تھا۔ سوموار کو منعقد ہونے والے اجلاس میں انہوں نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے تجویز کردہ دو ایسے ناموں کی حمایت کی جنہیں وہ گزشتہ اجلاس میں مسترد کرچکے تھے۔

وزیر قانون، عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے مہمان خصوصی تھے جہاں کچھ شرکا نے اپنی تقریر کے دوران اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نعرے لگائے تھے۔