ارشد شریف ہلاکت کی تحقیقات کے لئے ٹیم جلد کینیا روانہ ہو گی: وفاقی وزیرِ داخلہ

  • بدھ 26 / اکتوبر / 2022

وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ارشد شریف کی کینیا میں قتل سے متعلق حقائق جاننے کے لیے ٹیم جلد کینیا روانہ ہو گی۔

رانا ثناء اللہ نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ ایف آئی اے اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اعلیٰ افسران پر مشتمل دو رکنی تحقیقاتی ٹیم ارشد شریف قتل کیس کی تحقیقات کرے گی اور حتمی رپورٹ وزارتِ داخلہ کو پیش کرے گی۔

اس دوران منگل اور بدھ کی شب ارشد شریف کی میت قطر ایئر لائن کے ذریعے اسلام آباد پہنچائی گئی۔ بعدازاں میت کو نجی اسپتال کے سرد خانے منتقل کر دیا گیا۔ ڈاکٹروں کی تین رکنی ٹیم ارشد شریف کا پوسٹ مارٹم کرے گی۔

ارشد شریف کی والدہ نے مطالبہ کیا ہے کہ پمز اسپتال میں ان کے بیٹے کی لاش کے پوسٹ مارٹم کے دوران سینئر سرجن بھی موجود ہوں۔ ارشد شریف کی بیوہ جویریہ صدیق نے ایک ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ ارشد کی تدفین جمعرات کو اسلام آباد کےایچ الیون قبرستان میں کی جائے گی۔

واضح رہے کہ ارشد شریف کو اتوار کی شب نیروبی مگاڈی ہائی وے پر شناخت میں مبینہ غلطی پر پولیس نے سر پر گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ حکومتِ پاکستان نے ارشد شریف کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے تین رکنی ٹیم تشکیل دی تھی لیکن بعد میں آئی ایس آئی کے نمائیندے کا نام اس میں سے نکال دیا گیا۔ ۔

تحقیقاتی ٹیم ایف آئی اے کے ڈائریکٹر اطہر وحید اور  انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل عمر شاہد پر مشتمل ہو گی۔ تحقیقاتی ٹیم فوری طور پر کینیا جائے گی اور حقائق کا تعین کرنے کے بعد اپنی رپورٹ وزارتِ داخلہ کو جمع کروائے گی۔