تحریک انصاف کا لانگ مارچ چار نومبر کو اسلام آباد پہنچے گا: اسد عمر
پاکستان تحریک انصاف رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ پارٹی چیئرمین عمران خان کی قیادت میں لانگ مارچ چار نومبر کو اسلام آباد پہنچے گا۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف چیئرمین عمران خان نے گزشتہ روز 28 اکتوبر کو لانگ مارچ کے آغاز کا اعلان کیا تھا جس کے بعد آج اس مارچ کے خدوخال واضح ہوئے ہیں۔ اسد عمر نے ٹؤٹر پر بتایا ہے کہ 29 اکتوبر کو لاہور سے روانہ ہو کر مریدکے، کامونکی، گوجرانوالہ، ڈسکہ، سیالکوٹ، سمبڑیال، وزیرآباد، گجرات، لالہ موسیٰ، کھاریاں، جہلم، گجر خان، راولپنڈی سے ہوتے ہوئے عمران خان 4 نومبر کو اسلام آباد پہنچیں گے۔
عمران خان کی جانب سے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد پارٹی رہنما اسد عمر نے واضح کیا ہے کہ لاہور سے اسلام آباد کی طرف ہفتہ 29 اکتوبر کو مارچ روانہ ہو گا۔ لانگ مارچ کے پہلے دن 28 اکتوبر کو مارچ لبرٹی سے شروع کر فیروز پور روڈ سے اچھرہ، مزنگ، داتا دربار سے ہوتے ہوئے آزادی چوک تک پہنچے گا۔ اگلے دن یعنی 29 اکتوبر کو جی ٹی روڈ پر اسلام آباد کا سفر شروع ہو گا۔
بیک ڈور رابطوں سے متعلق سوال پر عمران خان نے کہا ہے کہ سیاسی جماعت ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے حل کرتی ہے۔ دروازے ہمیشہ بیک ڈور چینلز پر کھلے تھے۔ مگر اب مجھے یقین ہوگیا ہے کہ یہ الیکشن نہیں کرائیں گے۔ انہیں یہ خوف ہوگیا کہ پالتو الیکشن کمشنر کے باوجود یہ الیکشن نہیں جیت سکتے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں غیر قانونی اور غیر قانونی طور پر نااہل کیا گیا۔ انہوں نے الیکشن نہیں کروانے۔ اس لیے ہم نے مارچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ارشد شریف شہید کے لیے مونومنٹ بنائیں گے۔۔۔ میں چاہوں گا پنجاب کی حکومت بھی ایسا کرے۔
تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے حوالے سے مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ یہ کوئی دلی کا تخت نہیں جس پر کوئی بھی پہنچ کر قبضہ کر لے۔ جیو نیوز سے گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ حکومت پر لازم ہے کہ ملک میں انارکی پھیلنے سے روکے لہذا مارچ کو روکنے کے لیے تیاریاں کی جائیں گی۔ عمران خان لانگ مارچ کریں یا جو مرضی، حکومت برقرار رہے گی۔ لانگ مارچ سے حکومت گرانے کی روایت پڑ گئی تو نہ سیاست بچے گی نہ جمہوریت۔
انہوں نے کہا کہ عجیب اتفاق ہے کہ عمران خان کی جانب سے لانگ مارچ کا اعلان اس وقت آیا ہے جب وزیر اعظم شہباز شریف چین کا دورہ کرنے جا رہے ہیں۔ 2014 میں بھی عمران خان کے مارچ کی وجہ سے چینی صدر شی جن پنگ کا دورۂ پاکستان منسوخ ہوا تھا۔ جب بھی ہمارے تعلقات چین سے ٹھیک ہونے لگتے ہیں اور ملک میں سرمایہ کاری آنے لگتی ہے یہ دھرنا لے کر اسلام آباد آجاتے ہیں۔