محترمہ عاصمہ جہانگیر: انسانی حقوق کی چیمپئن
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 26 / اکتوبر / 2022
محترمہ عاصمہ جہانگیر محض ایک قانون دان نہیں، جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادیوں کی معروف چیمپئن تھیں۔ وہ جب تک زندہ رہیں اپنے ان اعلیٰ انسانی آدرشوں کیلئے برسرپیکار رہیں۔ انڈین ایجنٹ سے لے کر پاکستان اور اسلام دشمن ہونے کا کون سا گھٹیا الزام ہے جو ان پر نہیں لگایا گیا مگر آفرین ہے جرات و بہادری اور عزم و استقامت کی اس پیکر پر، ایسے ہر الزام کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔
اپنے سامنے کھڑی کی گئی تمام رکاوٹوں پر کمزوری دکھانے یا دل برداشتہ ہونے کی بجائے اس عظیم خاتون نے ہمیشہ تکالیف کو اپنے لئے مہمیز خیال کیا۔ جن بڑے بڑے ناموں والے ججز اور جرنیلوں کے سامنے معروف قانون دانوں کا پتہ پانی ہوتا تھا، اپنے مرد ہونے کی خوبی پر فخر محسوس کرنے والا بیرسٹر جن طاقتوروں کے سامنے رکوع کی صورت جھکا پایا جاتا تھا، وہاں یہ دلیر خاتون سر اٹھائے ڈنکے کی چوٹ یوں بولتی تھی کہ آمرانہ ذہنیتوں کی بولتی بند ہو جائے۔ ایک دفعہ درویش نے عرض کی بی بی تھوڑی احتیاط رکھا کریں، پہلے ہی مذہبی قوتیں آپ کے اس قدر خلاف ہیں۔ آپ بے دریغ نئے سے نئے محاذ کھول لیتی ہیں اور اپنے غیر مقبول ہونے کا بھی خیال نہیں کرتیں۔ فوراً بولیں اس پاپولیریٹی کے ذوق نے ہی تو ہمیں برباد کیا ہے، ریحان صاحب کبھی آپ نے مجھے اس طرح کے شوق میں مبتلا دیکھا ؟
جو سچائی ہے وہ کتنی تلخ ہی کیوں نہ ہو میں اسی پر کھڑی آواز اٹھائوں گی۔ آج اگرچہ محترمہ عاصمہ جہانگیر ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں لیکن جب ان کے نام پر منعقدہونے والی سالانہ کانفرنس میں جانے کا اتفاق ہوتا ہے اور وہاں جس نوع کا ماحول اور تقاریر ہو رہی ہوتی ہیں انہیں ملاحظہ کرتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کہ بابا بلھے شاہ سرکار نے انہی جیسے امر انسانوں کیلئے یہ کہا تھا بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں، گورپیا کوئی ہور۔ بلاشبہ اس کا کریڈٹ ان کی بیٹیوں، ساتھی ورکرز اور ان قانون دان خواتین و حضرات کو جاتا ہے جنہوں نے عاصمہ بی بی کی منزل کو کھوٹا نہیں ہونے دیا۔ اسی لگن، عزم اور جذبے کے ساتھ اس ملک و قوم کو ایک ہائبرڈ نظام کی بجائے ایک نارمل لبرل اور جمہوری سماج بنانے کیلئے تگ و دو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ طاقتوروں کے سامنے کھڑے ہونے کی توقع چاپلوسوں اور تھڑدلوں سے نہیں ہوتی۔ یہ انہی کا کام ہے جن کے حوصلے ہیں زیاد۔ جن ججز کے سامنے صبح آپ نے ریلیف کیلئے پیش ہونا ہے انہی کو سچی اور کھری سنانا واقعی دل گردے کا کام ہے۔ مسنگ پرسنز کے کرب اور دکھوں کا رونا روتے ہوئے جس طرف آپ کی نظریں اٹھتی ہیں اسی طرف منہ کیے باآواز بلند سوالات اٹھانا اور دکھی جذبات کا اظہار کرنا منظور پشتین، علی وزیر، محمود خان اچکزئی اور اختر مینگل جیسے باضمیروں کا کام ہے۔
یہ ان خدمت گزاروں کا کام نہیں ہے جو بھری کانفرنس میں ایک طرف بلند بانگ دعوے کر رہے ہوتے ہیں کہ محترمہ عاصمہ جہانگیر میرے لئے رول ماڈل تھیں اور زندگی میں اکثر میری رہنمائی فرمایا کرتی تھیں اگر آج وہ زندہ ہوتیں اور مجھ سے یہ پوچھتیں کہ کیا تم کسی ڈیل کے نتیجے میں اس عہدے پر پہنچے ہو؟ تو میں انہیں یہ بتاتا کہ نہیں میں طاقتوروں سے کوئی ڈیل کر کے اس مقام پر نہیں آیا ہوں۔ درویش عرض گزار ہے کہ محترمہ عاصمہ بی بی زندگی بھر پاک ہند دوستی کیلئے پرعزم رہیں۔ واہگہ بارڈر پر محبت کی شمعیں روشن کرنے سے لے کر مشترکہ تہذیبی و تجارتی تعلقات کی بحالی تک وہ تادم مرگ پیش پیش رہیں۔ وہ اگر آج آپ سے یہ پوچھتیں کہ بیٹا تو جس عہدے پر براجمان ہوا ہے کیا اس کا یہ تقاضا نہیں ہے کہ تو مفاد پرستوں کی پھیلائی ہوئی نفرت و دشمنی کو محبت اور دوستی میں بدلنے کیلئے کردار ادا کرے؟ تم چاپلوسی و چمچہ گیری میں آقائوں سے کہیں آگے بڑھ کر منافرت پھیلانے اور زہر گھولنے کا کوئی موقع کیوں ضائع جانے نہیں دیتے ہو؟
آج بھی منظور پشتین کی ولولہ انگیز تقریر کے بعد جب علی وزیر کی رہائی کے عوامی نعرے لگے تو آپ نے فوراً کہا کہ ’’آپ لوگ وہاں جا کر احتجاج کریں جو اس کو رہا کر سکتے ہیں‘‘۔ آپ غور فرمائیں کیا اس سے آپ اور آپ کی بے بس حکومت کٹھ پتلی دکھائی نہیں دیتے ہیں؟ اب اگر آپ کو اپنا یہ جواب نامناسب لگ رہا ہے تو پھر مزید خوشامدی رویے کی بجائے کیا یہ بہتر نہیں تھا کہ آپ مسنگ پرسنز کے اتنے بڑے انسانی المیے پر دکھی لوگوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے یہ یقین دہانی کرواتے کہ میں اپنے طاقتور مہربانوں سے اس سلسلے میں ضرور بات کرون گا۔ آج لوگ یہ پوچھ رہے ہیں کہ نشتر ہسپتال کی چھت پر سڑنے والی ڈھیروں لاوارث لاشیں کن بدنصیبوں کی تھیں؟ جدید ترین ٹیکنالوجی کے ہوتے ہوئے کیا یہ حکومت کی ذمہ داری نہیں تھی کہ وہ ان لاوارثوں کے وارثوں کو تلاش کرتی؟ کہیں اختر مینگل جیسے بلوچ رہنماؤں کے یہ خدشات درست تو نہیں ہیں کہ ان کے اٹھائے گئے یا غائب کئے گئے لوگ لاوارث لاشوں میں تبدیل کر دیے جاتے ہیں۔
یہاں ہماری عدالتوں میں لاڈلوں کیلئے ایک قانون ہے جبکہ لاوارثوں کیلئے سوائے خاموشی اختیار کرنے کے کوئی چارہ جوئی یا مداوا نہیں الٹے اگر وہ مظلوم اپنے خلاف روا رکھے جانے والے مظالم پر آواز اٹھاتے ہیں تو ان پر مقدمات قائم کر دیئے جاتے ہیں۔ یہاں بھی ایسے ہی ہوا ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے چیئرمین اور ان کے بیس ساتھیوں کے خلاف ایف آئی آر کاٹ دی گئی ہیں جبکہ ان کے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا گیا کہ علی وزیر کو کیوں عدالتوں کے سامنے پیش نہیں کیا جا رہا؟ ان کے انسانی حقوق کہاں ہیں؟ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں ملک اور بیرون ملک سے اتنے دانشوروں، دانائوں، قانون اور انسانی حقوق سے منسلک خواتین و حضرات نے خطاب کیا کہ جن کا کالم ہذا میں احاطہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ معروف سکالر و فقیہہ اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود کے ساتھ تو طویل ملاقاتوں کے مواقع میسر آئے جن میں حضرت کا فرمانا تھا کہ بدلتے عالمی رجحانات و حقائق کی مطابقت میں ہم مسلمانوں کو بھی اجتہادی اپروچ کے ساتھ نئے طرز فکر اور زاویہ نگاہ کو اپنانا ہو گا۔ الہیات کے قدیمی تصورات کو ماڈریٹ کرنا ہو گا۔
سید حیدر فاروق بھی محترمہ عاصمہ بی بی کے قدیمی ساتھیوں میں سے ایک ہیں انہوں نے ٹرانس جینڈر اور لڑکی کی بلوغت کے حوالے سے اظہار خیال کرنا تھا جن کے بارے میں ان کا استدلال تھا کہ یہ بنیادی طور پر مذہبی مسائل ہی نہیں ہیں۔ یہ تو سراسر انسانی حسیات و رجحانات، انسانی حقوق کا مسئلہ ہے یا پھر بلوغت کا معاملہ ریڈیالوجی سے متعلقہ ہے۔ مصر میں کھدائی کے دوران جو ہڈیاں نکلی تھیں ان کی عمر کا تعین ریڈیالوجسٹ نے کیا تھا۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی ہڈیاں ایک لوتھڑے کی طرح ہی ہوتی ہیں۔ اسی طرح ایکس اور وائی کروموسومز کا مسئلہ ہے لڑکے اگر لڑکیوں جیسے کپڑے پہنتے ہیں یا لڑکیاں لڑکوں جیسے تو ان کے فطری رجحانات کی نشاندہی ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر کسی عورت کے کانوں پر بال ہیں تو اس میں بھی اس کے مردانہ کروموسومز کی اثر افرینی سے انکار ممکن نہیں ہے۔
ہر دلعزیز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی تقریر تو اتنی تفصیلی و پرمغز تھی کہ اس پر علیحدہ کالم بھی شاید حق ادا نہ کر سکے۔ ان کا استدلال تھا کہ ہمیں اداروں کی بجائے آئین توڑنے والے جرنیلوں اور غلط فیصلے دینے والے ججز کا نام لے کر ان پر تنقید کرنی چاہئے۔ انہوں نے اس حوالے سے جس گرے، بلیک اینڈ وائٹ فہرست کا ذکر کیا، درویش ان کی محکمانہ مجبوری سمجھتا ہے جو انہوں نے اپنے کئی ہم عصروں کا ذکر نہیں کیا۔ بالخصوص اس شخص کا جس نے ماضی قریب میں انصاف کا خون کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔