ارشد شریف کا بہیمانہ قتل
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- جمعرات 27 / اکتوبر / 2022
ارشد شریف ہمارے ہم وطن، صحافی بھائی تھے انہیں کینیا میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا ۔یہ ہمارے لیے ایک انتہائی افسوسناک ہے۔ہمارے ہاں اندرون ملک صحافیوں کو مارنا پیٹنا اور کبھی کبھار مار ڈالنا معمول کے واقعات ہیں لیکن کسی معروف صحافی کا اس طرح بیرون ملک مار دیا جانا، نہ صرف قابل افسوس بلکہ انتہائی غیر معمولی واقعہ ہے۔
پاکستان جس طرح کے حالات سے گزر رہا ہے۔یہاں جس طرح سیاست کی جا رہی ہے،سیاست سے تقسیم در تقسیم ہو رہی ہے،ہو چکی ہے اور جس طرح ففتھ جنریشن وار ہم پر مسلط کر دی گئی ہے، جس طرح ہماری معیشت شدید بحرانی کیفیت میں مبتلا ہے ۔ان کو ایسے حالات میں ملک چھوڑنا پڑا،جس طرح اس کے اپنے ادارے(ٹی وی چینل) نے اس سے اعلانِ لاتعلقی کیا ، وہ بھی ایک اہم معاملہ ہے۔ ہمیں ان معاملات پر بھی غور کرنا چاہیے جن کے باعث ارشد شریف کو ملک چھوڑنا پڑا اور وہ یو اے ای منتقل ہوئے، پھرانہیں وہاں سے بھی نکلنے پر مجبور کر دیا گیا ہمیں ان حالات کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ارشد شریف ہماری صحافتی دنیاکا ایک اہم اور منفرد نام تھا ۔ اسے اپنے ملک سے نکلنا اور بھاگنا پڑا، کیوں؟ پھر ہمیں ان معاملات کا بھی پتہ چلانا چاہیے جن کے باعث وہ کینیا جانے پر مجبور ہوئے اور سب سے اہم وہ مشکوک واقعات ہیں جو ان کی ہلاکت پر منتج ہوئے،ان کا جائزہ ہی لینا کافی نہیں بلکہ ان کی کھوج لگانا اور قوم کو آگاہ کیا جانا ضروری ہے۔ کیونکہ اگر ہم پہلے کی طرح معاملات کو قالین کے نیچے دفن کر دینے کی پالیسی پر گامزن رہیں گے تو معاملات میں شدید اور ناقابل ِ برداشت بگاڑ پیدا ہو گا۔ پاکستان جن حالات کا شکار ہے انہیں دیکھتے ہوئے اب اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ اس سانحے کی بے لاگ تحقیق کی جانی چاہئے اور قوم کو آگاہ کیا جائے۔
اس حوالے سے دو اہم نکات ہیں ۔ایک یہ کہ کینیا میں وقوعہ کی انکوائری کا اہتمام ہونا چاہئے۔ ویسے کینیا ایک لالیس ملک ہے، وار لارڈ اور ڈرگ مافیا کی حکمرانی سول جسٹس عام ہے، لوگ خود ہی سڑک اور گلی محلے میں ملزم کو مجرم قرار دے کر خود ہی سزا دے دیتے ہیں۔کینیا میں قانون کی حکمرانی کمزور ہے۔ وقوعہ مکمل طور پر مشکوک نظر آتا ہے،نو گولیاں چلیں کسی اور کو نہیں صرف ارشد شریف ہی کو لگیں اور وہ بھی سر میں لگی اور پھر موقع پر ہی ہلاکت ہو گئی۔کینیا پولیس کا ابتدائی بیان بھی ایسا ہے کہ شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت پاکستان اس بات کو یقینی بنائے کہ کینیا میں ہونے والے سانحے کی بے لاگ تحقیق ہو اور اسے عوام کے ساتھ شیئر کیا جائے۔دوسری طرف اس بات کی تحقیقات کا اہتمام بھی کیا جائے کہ وہ کون سے حالات تھے جن کے باعث ارشد شریف کو ملک چھوڑنا پڑا؟انہیں ان کے ادارے نے نوکری سے کیوں نکالا، ارشد شریف کے صدرِ مملکت کو لکھے گئے خط کے حوالے سے بھی حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں۔
سب سے اہم بات: ریاست اور ریاستی اداروں پر تنقید کرنے کے حوالے سے معاملات کا جائزہ لینا ضروری ہے اس بارے میں شاید دو آراء نہیں پائی جاتیں ہیں کہ فوج کو سیاست میں دخل انداز نہیں ہونا چاہئے۔حالات کچھ بھی ہوں حکمرانی عوام کا حق ہے انہیں یہ حق حکمرانی آزادانہ اور منصفانہ طور پر استعمال کرنے دیا جانا چاہئے۔یہ بات اب شاید حقیقت کو پہنچ چکی ہے کہ ہمارے ہاں مسائل کی جڑ یہی مسئلہ ہے کہ حق حکمرانی کس کا ہے؟یہ اعترافِ حقیقت ہے ایسی حقیقت جو 1958میں جنرل ایوب کے مارشل لاء سے شروع ہوئی اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔گزری ایک دہائی یا اس سے زیادہ عرصے کے دوران سوشل میڈیا/ڈیجیٹل میڈیا کے فروغ کے باعث ابلاغ کی وسعت اور قوت میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ جو بات کچھ عرصہ پہلے بند کمروں میں کہی اور سنی جاتی تھی اب کھلے عام ڈنکے کی چوٹ پر کہی جا رہی ہے،سنی جا رہی ہے۔فوج کے سیاسی کردار کے حوالے سے باتیں بلند آہنگ میں کی جا رہی ہیں۔
نواز شریف کے اقتدار سیاست سے رخصتی کے بعد ”مجھے کیوں نکالا“ کے بیانیے نے سوالیہ نشان لگایا پھر نواز شریف نے لندن میں بیٹھ کر گوجرانوالہ کے جلسے میں نام لے کر تنقید کی تھی۔ عمران خان نے تو تمام حدود و قیود کو پامال کرتے ہوئے تنقید کو زبان زدِ عام کر دیا ہے۔سوشل میڈیا ہی نہیں بلکہ جلسے جلوسوں میں فوج پر تنقید بھی کی جا رہی ہے اور ان کے خلاف نعرے بھی لگائے جا رہے ہیں۔جیسے فوج کا سیاست میں عمل دخل غلط ہے بالکل اسی طرح فوج کے خلاف ایسا طرزِ عمل قابل مذمت ہے سیاست کی آڑ میں فوج کو نشان بنانا ”ففتھ جنریشن وار“ کے اہداف پورے کرنے کے مترادف ہے۔
دشمن ہمارے خلاف برسر پیکار ہے عوام اور ریاست اور فوج کے مابین نفرت کے بیج بو کر پاکستان کو کمزور کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے،فوج کے خلاف ہمارا ایسا طرزِ عمل دشمنوں کے عزائم کی تکمیل میں ممد و معاون ثابت ہو رہا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ معاملات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ہمیں سنجیدگی کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے اور ڈائیلاگ کے ذریعے ایسا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے جو نہ صرف وقت کی ضرورت ہے بلکہ ہمارے قومی مفادات کے تحفظ کے لئے ضروری ہے۔
ڈیجیٹل/سوشل میڈیا دورِ حاضر کی ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں ہے اس کی افادیت اور اثر پذیری کے بارے میں بھی دو آراء نہیں پائی جاتی ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کے اوا مرو نواہی کی بابت بات کی جانی چاہئے تاکہ اس کی حدود کا تعین کیا جا سکے۔ مقصد اس کی آزادی پر قدغن لگانا نہیں بلکہ اسے قومی سلامتی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ہم جتنا جلدی ایسا کر لیں گے اتنا ہی فائدہ ہو گا۔اس حوالے سے تمام سٹیک ہولڈرز کو اکٹھا کر کے افہام و تفہیم کے ساتھ معاملات جلد طے کر لینا ضروری ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)