ارشد شریف کو جاری کردہ تھریٹ الرٹ سے وزیراعلیٰ کا کوئی تعلق نہیں تھا: بیرسٹر سیف
خیبرپختونخوا حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ محکمہ انسداد دہشت گردی کی جانب سے سینئر ٹی وی اینکر ارشد شریف کی جان کو لاحق خطرات سے متعلق خط کے اجرا سے وزیر اعلیٰ محمود خان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
رواں سال اگست کے اوائل میں ارشد شریف کو نشانہ بنانے کے لیے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ایک الگ ہونے والے گروپ کے منصوبے کے بارے میں ایک تھریٹ الرٹ جاری کیا گیا تھا۔ گزشتہ روز آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل افتخار بابر نے کہا تھا کہ سی ٹی ڈی کی وارننگ وزیراعلیٰ محمود خان کی ہدایت پر جاری کی گئی تھی۔
ایک ویڈیو بیان میں صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ سی ٹی ڈی صوبائی حکومت کا فرنٹ لائن ادارہ ہے اور دہشت گردی کے خطرات سے متعلق الرٹ جاری کرنا اور دہشت گردی کے خلاف کریک ڈاؤن اس کا مینڈیٹ ہے۔ وزیر اعلی (محمود خان) کا سی ٹی ڈی کے تھریٹ الرٹس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
بیرسٹر سیف نے کہا کہ اس طرح کے الرٹ کا معاملہ سی ٹی ڈی کے لیے معمول کی سرگرمی ہے۔ انٹیلی جنس بیورو، سی ٹی ڈی اور دیگر ایجنسیاں بھی تھریٹ الرٹ جاری کرتی ہیں۔ ترجمان نے اصرار کیا کہ جہاں تک ارشد شریف کا تعلق ہے صحافی اور ان کے اہل خانہ کو دھمکیاں مل رہی تھیں۔ مقتول صحافی کے اپنے بیانات سے ہی یہ ظاہر ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر سی ٹی ڈی کا تھریٹ الرٹ غلط ہوتا تو ارشد شریف کو کینیا میں قتل نہ کیا جاتا۔ ارشد کی جانب سے پاکستان چھوڑنے کے لیے باچا خان ایئرپورٹ، پشاور کے استعمال کے حوالے سے، انہوں نے کہا کہ ایئرپورٹ اور اس کی نگرانی کرنے والے دیگر ادارے وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔
مرکز کے پاس وفاقی تحقیقاتی ایجنسی، انسداد منشیات فورس اور کسٹمز کا انتظامی کنٹرول ہے۔ اگر وفاقی حکومت کو ارشد شریف کے ملک سے جانے پر کوئی اعتراض تھا تو وہ انہیں آسانی سے روک سکتی تھی۔ پشاور ایئرپورٹ ایک بین الاقوامی ہوائی اڈہ ہے اور کوئی بھی اس سے سفر کر سکتا ہے۔
پشاور میں مقتول صحافی کے سرکاری پروٹوکول کے بارے میں انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عام طور پر درخواست پر سینئر صحافی سمیت اہم شخصیات کو پروٹوکول افسران کی خدمات فراہم کرتی ہے۔ پروٹوکول افسران نے ان افراد کو ایئرپورٹ پہنچنے تک سہولت فراہم کی اور ایئرپورٹ کے اندر کے معاملات وفاقی حکام کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
ایک روز قبل آئی ایس پی آر اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا تھا کہ کے پی حکومت نے وزیر اعلیٰ محمود خان کی ہدایت پر 5 اگست کو ایک تھریٹ الرٹ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا کہ ٹی ٹی پی سے الگ ہونے والا گروپ ارشد شریف کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا تھا کہ ’ایسی کوئی معلومات متعلقہ اداروں کے ساتھ شیئر نہیں کی گئیں، اس طرز عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ تھریٹ الرٹ جاری کرنے کا مقصد ارشد شریف کو ملک چھوڑنے پر مجبور کرنا تھا‘۔