تحریکِ انصاف کے لانگ مارچ کا آغاز لبرٹی چوک لاہور سے ہوگا
پاکستان تحریکِ انصاف کے لانگ مارچ کا آغاز آج لاہور کے لبرٹی چوک سے ہو رہا ہے۔ لانگ مارچ میں شرکت کے لیے پنجاب کے مختلف شہروں سے قافلے لاہور کے لبرٹی چوک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا خصوصی کنٹینر بھی لاہور میں موجود ہے۔ لانگ مارچ لاہور کے بعد مختلف شہروں میں قیام کرتا ہوا لگ بھگ ایک ہفتے میں اسلام آباد پہنچے گا۔ پہلے مرحلے میں لانگ مارچ لاہور سے شاہدرہ پہنچے گا جس کے بعد گوجرانوالہ اور پھر سیالکوٹ سے ہوتا ہوا گجرات جائے گا۔
کراچی اور کوئٹہ سے لانگ مارچ کے قافلے آج جب کہ جنوبی پنجاب ، ملتان اور خیبر پختونخوا سے قافلے بدھ کو اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے اور تمام قافلے چار نومبر کو اسلام آباد پہنچیں گے۔
ادھر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔ کیپٹل پولیس نے شہر کے داخلی راستوں پر ناکے متحرک کر دیے ہیں۔ واضح رہے کہ عمران خان حکومت مخالف مارچ کی گزشتہ کئی مہینوں سے تیاری کر رہے تھے۔ جس کے لیے وہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں سے مختلف شہروں میں حلف بھی لیتے رہے ہیں۔
تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے اہلِ لاہور سے اپیل کی کہ وہ عمران خان کے ساتھ پاکستان کا نظام بدلنے کے لیے نکلیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج آپ مارچ کا حصہ نہیں بنتے تو اس نظام سے کوئی گلہ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر نظام کو بدلنا چاہتے ہیں تو گھر سے نکلیں ورنہ آپ کے بچوں کی زندگیاں بھی اسی نظام میں گزریں گی۔
دوسری جانب وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اسلام آباد میں چڑھائی کی نیت سے آنے والے مسلح جتھوں کا بزور طاقت راستہ روکیں گے اور قانون کے مطابق اس سے نمٹا جائے گا۔ راولپنڈی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں احتجاج کے حوالے سے سپریم کورٹ کے واضح احکامات ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان کا لانگ مارچ پرامن رہتا ہے تو انتظامیہ اس میں کوئی مداخلت نہیں کرے گی، لیکن اگر اسلام آباد کی جانب چڑھائی کی کوشش کی گئی تو پھر اسے بزور طاقت روکا جائے گا۔
وفاقی وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی پریس کانفرنس کے بعد عمران خان کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔
وفاقی وزارتِ داخلہ نے صوبائی حکومتوں کو ایک مراسلہ جاری کیا ہےجس میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے عدم استحکام کا خدشہ ظاہرکیا گیا ہے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے تحت ہر صوبہ وفاقی قوانین پر عمل درآمد کا پابند ہے۔ آئین کے آرٹیکل 149 کے تحت وفاق صوبوں کو ہدایات دے سکتا ہے۔
واضح رہے چند روز قبل حکمران جماعت پر مشتمل اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ملک میں آئندہ عام انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے جب کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی آئین میں دیے گئے طریقہ کار کے مطابق ہو گی۔