لاڈلے کا بیانیہ ٹھس اور لانگ مارچ پنکچر؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 28 / اکتوبر / 2022
لاڈلے کھلاڑی کا لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف رواں دواں ہے جس کے متعلق خود تیس مار خاں صاحب کا دعویٰ ہے کہ 1947 میں جعلی آزادی کے نام پر محض جھک مار گئی کیونکہ پچھلے پچھتر سالوں سے ہماری تقدیر کے فیصلے بیرونی طاقتیں بالخصوص امریکی کرتے چلے آ رہے ہیں۔
اور یہاں ان کی کٹھ پتلیاں ہم پر مسلط ہیں اب خدا نے مجھے بھیجا ہے کہ اپنی قوم کو وہ حقیقی آزادی دلاؤ جو جناح صاحب نہیں دلا سکے تھے۔ اب ہم اس وقت تک حقیقی آزادی کی جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک بیرونی سازش سے اقتدار میں آنے والوں کے رستے بند نہیں ہو جاتے۔ وفاقی وزیر داخلہ پر تنقید کرتے ہوئے ہمارے نئے نجات دہندہ نے کہا کہ میں اسے سیاستدان نہیں مجرم سمجھتا ہوں۔ یہ ڈرٹی ہیری ہے جس نے خوف پھیلایا ہوا ہے کہ بولو گے تو پکڑے جاؤ گے۔ آج کل اس ڈرٹی ہیری کی ہمارے فیصل واوڈا سے بہت زیادہ دوستی ہے۔ یہ قومی مجرم جب کسی پر تشدد کرتا ہے تو اسے ننگا کرکے مارتا ہے۔ ڈرٹی ہیری سن لو میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔ پہلے مجھ سے غلطی ہوئی جو تمہیں چھوڑ دیا اور یہی میری سب سے بڑی ناکامی تھی جس کی پاداش میں میں آج پیشیاں بھگت رہا ہوں اور ملک کا سب سے بڑا ڈاکو وزیراعظم بنا بیٹھا ہے۔
لندن میں بیٹھا مفرور شخص ملک کے فیصلے کر رہا ہے میں تمہیں انصاف کے کٹہرے میں لاؤں گا۔ پنجاب حکومت کو چاہیے تھا کہ ماڈل ٹائون میں 14 لوگوں کے قاتل کو پکڑ لیتی۔ اتنا چھوٹا سا اسلام آباد ہے اور اتنا بڑا پنجاب، اس کے باوجود ہم پر پرچے ہو رہے ہیں۔ 25 مئی کو تشدد کرنے والوں کی شکلیں مجھے اب بھی نظر آ رہی ہیں۔ اب ہم ان کا ہومیو پیتھک نہیں ایلوپیتھک علاج کریں گے۔ رانا ثنا تیاری رکھو اب عوام کا سمندر آ رہا ہے جسے تمہارے ہینڈلرز بھی دیکھیں گے جنہوں نے چوروں کو ہم پر مسلط کیا جو کہتے ہیں کہ ہم نیوٹرلز ہیں۔ حالانکہ نیوٹرلز تو جانور ہوتے ہیں۔ مجھے ان کو جواب دینا آتا ہے اگر جواب دیا تو ملک کا نقصان ہو جائے گا۔ یہ کہتے ہیں کہ فوج سیاست میں نہیں اگر سیاست میں نہیں تو پریس کانفرنس کیوں کر رہے ہیں؟
درویش معذرت خواہ ہے جو ایک ذہنی طور پر ڈسٹرب شخص کے بکھرے ہوئے پراگندہ خیالات پیش کر رہا ہے۔ محض یہ دکھانے کے لئے کہ اس کا اپنا بنایا ہوا صدر مملکت درست ہی کہہ رہا تھا کہ اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد ہمارا لیڈر ذہنی پریشانی کا شکار ہو کر کئی غلط فیصلے کر بیٹھا۔ یہ ابھی ان کے جو خیالات درج کئے گئے ہیں کیا یہ چیخ چیخ کر اس کی تصدیق نہیں کر رہے کہ ہوس اقتدار نے اس کی یہ حالت بنا دی ہے۔ رانا ثناء اللہ بیچارہ کون سا ایسا بڑا لیڈر ہے جو ڈریکولا بن کر رات چھوڑ دن کے خوابوں میں بھی اسے ڈراتا ہے۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی کہ واوڈا کو برا بھلا کہے یا اپنے اس اتحادی کو جسے کبھی پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا۔ اور پھر بڑے چوہدری کو کہتا رہا کہ مجھے بھی چھوٹے چوہدری جیسا اپنا بھائی ہی سمجھیں۔ اس شخص نے چونکہ اپنی پونے چار سالہ حکمرانی کے مزے طاقتور مہربانوں کی برکت و خصوصی عنایت سے چکھے ہیں اس لیے جھوم جھوم کر انہی کی طرف کبھی غصیلی اور کبھی چاپلوسانہ للچائی نظروں سے دیکھتا ہے: ’ملو نہ تم تو ہم گھبرائیں ملو تو آنکھ چرائیں ، تمہیں کو دل کا راز بتائیں تمہیں سے راز چھپائیں ہمیں کیا ہو گیا ہے‘… مرزا غالب نے اس کربناک نفسیاتی و ذہنی کیفیت کو کتنے خوبصورت الفاظ میں بیان کیا ہے:
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
ایسی ذہنی کیفت میں مبتلا ناکام عاشق بعض اوقات غصے، انتقام اور اندھی محبت کے ملے جلے جذبات میں محبوب کو گولیاں مار کر قتل بھی کر دیتے ہیں۔ اگر بزدل ہوں تو چہرے پر تیزاب پھینک دیتے ہیں زیادہ بزدل ہوں تو خود کشی کرتے ہوئے کسی کے سرے چڑھ جاتے ہیں۔ خدا ایسے عاشقوں سے بچائے۔ شاید ایسے عاشقوں کو جواب دینے کے لئے ہی رخصت ہوتے محبوب نے ایک پیار بھری پریس کانفرنس کا اہتمام فرمایا ہے جو بلاشبہ اتنی شعوری و مدلل تھی کہ ساری زندگی سے ان کا ناقد یہ درویش متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔ اگر قریب ہوتا تو کہتا تمہاری آواز مکے اور مدینے، تمہارے منہ میں گھی شکر، کتنی بڑی بات ہے کہ ’ہم نے محکمانہ طور پر بحث مباحثے کے بعد یہ اٹل فیصلہ کیا تھا کہ ہم آئندہ سے ہمیشہ آئین کی پاسداری کرتے ہوئے اپنا رول آئینی حدود کے اندر رہ کر ادا کریں گے کبھی آئین شکنی نہ کریں گے جس کا ہم لوگوں نے حلف بھی اٹھا رکھا ہے۔ جب آئین یہ کہتا ہے کہ حکومتیں بنانے اور گرانے میں ہمارا کوئی رول نہیں ہونا چاہیے تو پھر نہیں ہونا چاہیے جب اس شخص کے خلاف قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی قرار داد پیش ہوئی یہ مارچ کی بات ہے اس نے میرے سامنے جنرل صاحب کو غیر معینہ مدت تک توسیع دینے کی پیشکش کی جسے انہوں نے ٹھکرا دیا‘۔
او میرے خدایا یعنی یہ شخص اقتدار کا اس قدر حریص ہے کہ آپ مجھے اس کرسی پر بٹھائے رکھو اور میں آپ کو غیر معینہ مدت تک توسیع دیتا رہوں، دونوں مل کر اقتدار کے مزے لوٹیں۔ جب ڈی جی آئی ایس آئی نے سچائی سے کام لیتے ہوئے پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ڈوبتی معیشت کو قرار دیا تو یہ مایوس شخص بولا نہیں میرے مخالف سیاستدان سب سے بڑا مسئلہ ہیں۔ اگر انہیں ٹھکانے لگا دیا جائے تو ملک میں امن و سکون ہو جانے گا۔ میں چینی صدر شی یا سعودی کراؤن پرنس جیسا طاقتور ہو جاؤں گا۔ جنرل کیا مدبرانہ جواب دیتا ہے کہ اگر ان سب کو پکڑنا ہے تو پھر مجھے تمہارے والی کرسی پر آنا پڑے گا کیونکہ اپنی موجودہ سیٹ پر اگر میں ایسی حرکت کروں گا تو وہ غیر آئینی ہی قرار پائے گی۔ خود نمائی و خود ستائی میں ڈوبے ہوئے شخص کے خوفناک بیانیے کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے نہ صرف سائفر کے جھوٹ کی قلعی کھول دی گئی بلکہ اس منافقت اور دوغلے پن کو بھی واضح کیا گیا ہے کہ جو رات کے اندھیروں اور خاموشی میں بند دروازوں کے پیچھے اقتدار کی بھیگ مانگتا ہے، بڑے سے بڑا لالچ دیتا ہے، خوشامد اور چاپلوسی کی اخیر کرتا ہے۔ جبکہ دن کے اجالے میں اپنے یوتھیوں کے سامنے اپنی بڑائی و مقبولیت کی بڑھکیں مارتا ہے۔ اپنے مہربانوں پر مختلف النوع الزامات عائد کرتے ہوئے رکیک حملے کرتا ہے۔ انہیں جانور، سازشی اور غدار کہتا ہے۔ میر جعفر اور میر صادق کے القابات سے نوازتا ہے۔ شیروں کی فوج کے سالار کو گیڈر کہتا یا گیڈر بھبھکیاں دیتا ہے۔
ایک مظلوم صحافی کو خود ہی خوف زدہ کرتے ہوئے ملک سے باہر بھاگ جانے کا کہتا ہے اور خود ہی اس کی موت پر ٹسوے بہاتا اور لاشوں پر سیاست چمکاتا ہے۔ آج اس کی پارٹی کے ملازم لوگ اس کے دفاع میں عجیب و غریب دلیل لا رہے ہیں کہ اگر ہمارے نجات دہندہ نے طاقتور شخصیت کو یہ کہہ دیا ہے کہ جلد انتخابات کروائیں تو یہ بات کس طرح غیر آئینی ہے؟ کیا ان لوگوں کو اتنا نالج بھی نہیں ہے کہ آئین میں انتخابات کروانا محکمہ دفاع کا کام نہیں ہے۔ کیا ان لوگوں کو سمجھ نہیں ہے جو قوم کے ستر سالہ رونے اور دکھ کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ آئین کے مطابق جس کا جو رول ہے وہ اس کی پابندی کرے اصل ایشو یہ ہے کہ آپ لوگ احتجاج کریں مگر جہاں آئین و قانون کو توڑیں گے وہاں اس کے نتائج بھگتنے کیلئے بھی تیار رہیں۔ سچائی تو یہ ہے کہ وقت نے آپ کے جعلی بیانیے کو ٹھس اور لاحاصل لانگ مارچ کو پنکچر کر دیا ہے۔